یوم جمہوریہ صرف جشن کا موقع نہیں احتساب کا بھی دن ہے!

     

Thumb


ہندوستان نے اپنا72واں یوم جمہوریہ بہت تزک و احتشام کے ساتھ منایا ہے۔ رنگا رنگ تقاریب کے ساتھ راج پتھ پر ہندوستان نے اپنی طاقت کا زبردست مظاہرہ کیا اور اپنے دشمنوں کو یہ بھی بتا دیا ہے کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھنے کی کوشش نہ کرے ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ ملک میں ہونے والی گوناگوں ترقی کو بھی دکھایا گیا اور اس موقع پر بہادر جوانوں اور سیکورٹی فورسیز کو مختلف میڈل بھی پیش کئے گئے۔  اس سال کی یوم جمہوریہ کی خصوصیت یہ تھی آسیان ممالک کے سربراہ بھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ جس کو پردھان سیوک نے اپنی کامیابی کے کھاتے میں نہایت بے شرمی سے ڈال لیا۔ جب کہ وہ آسیان کے سربراہ آسیان سمٹ میں آئے ہوئے تھے۔ نہ کہ وہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے۔اس کو میڈیا اور حکومت نے بڑے پیمانے پر چوکیداری کی کامیابی قرار دیا۔ اس موقع پر ہندوستان کی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ ہندوستان کسی ملک سے کم نہیں ہے اور دفاعی تکنالوجی میں وہ کئی ممالک کے ہم پلہ اور ہم سر ہے۔ جمہوریت کے گانے اور ترانے بھی بجائے گئے لیکن ملک کو صحیح معنوں میں اس وقت حقیقی جمہوری ملک اس وقت تک نہیں کہا جاسکتا جب تک اس کا فیض دورافتادہ علاقے اور گاؤں تک نہ پہنچ جائے۔ جب ہم قومی راجدھانی سے دور دراز علاقوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ یہ علاقے جمہوریت کے فیض سے کوسوں دور ہیں۔ جمہوریت کے نفاذ کے چھ عشرے گزرنے کے بعد بھی آج اکثریت ان کی ہے جو جنہیں پیٹ بھرکھانا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ تمام شہری سہولتوں سے محروم ہیں۔ سرکاری اسکیموں کا فائدہ ان تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس سمت میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نمائندگان بھی جمہوریت کا فیض عوام تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ 
ہندوستانی لیڈران جو آئین و انصاف کی پاسداری کے نام پر منتخب ہوکر آتے ہیں وہ کسی بھی معاملے کی آزادانہ تحقیقات، حراستی ظلم اور اموات کو بہت ہلکے انداز میں لیتے ہیں اور کبھی بھی تحقیقات کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی الیکشن کا موقع ہوتا ہے وہی لیڈران (خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے ہو) انسانی حقوق، حراستی اموات اور قانون و انتظام کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بناتے ہیں اور ہر سیاسی مباحثہ اور مناظرہ میں یہ موضوع چھایا رہتا ہے۔ جمہوریت ایک نظام کا نام ہے جہاں جمہوریت پر بحث ہونی چاہئے، اجتماعیت، فراخدلانہ، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ خیال کا مظاہرہ ہونا چاہئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہندوستانی سیاست اور جمہوریت میں کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا ہے بلکہ اوچھی سیاست، سماجی ناسور، نفرت پھیلانااور ایک فرقہ میں دوسرے فرقہ کے خلاف زہر بھرنا وغیرہ کا مظاہرہ الیکشن کے دوران بار بار ہوتا ہے تاکہ ووٹ کو تقسیم کیا جائے اور اس تقسیم سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ہندوستانی جمہوریت میں لمبے چوڑے وعدے کی بجائے مستحکم جمہوریت کی ضرورت ہے جہاں ذات پات، طبقات، مذہب اور فرقہ پرستی کی سیاست نہ ہو بلکہ مساویانہ حقوق، انسانی حقوق، حراستی اموات کے خلاف مؤثر مہم،بے خوف و خطر سب کو زندگی گزارنے کاحق وغیرہ حاصل ہو کسی قوم کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہ بنائے۔ یہ خوبیاں ہر لیڈرمیں ہونی چاہئے۔ یہ کم از کم صلاحیت الیکشن میں حصہ لینے کا پیمانہ ہونا چاہئیے۔
ہندوستان کو جمہوری ملک بنے تقریبا ًچھ دہائی ہوچکے ہیں لیکن عوام میں ابھی تک جمہوری شعور پیدا نہیں ہوا ہے۔ خاص طور سے تعلیم یافتہ طبقہ یا بزنس مین بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں نکلتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط امیدوار منتخب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالتے ہیں ان میں سیاسی سمجھ کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن الیکشن ان کے لئے کچھ پیسے بٹورنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں صحیح امیدوار کا انتخاب کیسے ممکن ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ رائے دہندگان لیڈروں کے کر توت سے واقف نہیں ہوتے۔لیکن سمجھتے ہیں کہ الیکشن کا موسم ہی ہے جب سے ان سے کچھ لیا جاسکتا ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ لیڈران جو وعدے کر رہے ہیں وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے۔مگر وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ ان کے ووٹ کی منہ مانگی قیمت ادا کی جائے گی اور پھر غریب عوام پیسوں اور تحفوں سے خوش ہوجاتے ہیں مستقبل میں وہ لیڈر ان کے لئے کتنا کام کریں گے اس کی پروا ہ انہیں نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم بدعنوان، مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور کم تعلیم یافتہ رہنما کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ معاملہ یہیں نہیں رکتا ہے وہ لیڈران جو منتخب ہوکر آتے ہیں ایماندار افسران کا ٹرانسفر کرتے ہیں اور ان کی جگہ بدعنوان افسر لے آتے ہیں تاکہ وہ خود بھی کمائے اوران کو بھی کماکر دے۔ کبھی کبھی اپنے حق میں ووٹنگ کرانے کے لئے کچھ اپوزیشن اور کچھ حکمراں پارٹیوں کے کارکن اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کے لئے حملہ کرتے رہے ہیں، کبھی کبھی قتل بھی کرتے ہیں۔ یہ ناخوشگوار واقعات زیادہ تر بہار، مغربی بنگال، تری پورہ، جھارکھنڈ، اترپردیش اور کچھ دیگر ریاستوں میں ہوتے ہیں۔نتیجہ کے طور پر رائے دہندگان کے دماغ میں واضح تصویر نہیں ابھرپاتی اور وہ غیرجانبدارانہ، آزادانہ اور بے تکلف طریقے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرپاتے۔ حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار اپنے کیڈروں کے ذریعہ عام لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور پارٹی سے منسلک غنڈہ عناصر پارٹی کے لئے مہم چلاتے ہیں۔ غریب رائے دہندگان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مخصوص لوگوں کو ووٹ دے بصورت دیگر نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہے۔ کبھی کبھی انتظامیہ ان علاقوں میں حد سے زیادہ حفاظتی دستے تعینات کردیتی ہے تاکہ وہاں غریب اور ان پڑھ لوگ خوف سے ووٹ ڈالنے باہر نہ آسکیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ ووٹ دینے کے لئے باہر نکلے تو ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔
ہندوستان میں پھیلتی بدعنوانی کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کا یہ راستہ انتخابی کمیشن سے ہوکر گزرتا ہے۔آج الیکشن میں جس طرح روپے پانی کی طرح بہائے جاتے ہیں یہ سبھی لوگ جانتے ہیں۔ ذرا سوچئے جو شخص ایک اسمبلی سیٹ حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرتاہے ہم ان سے یہ کیسے امید رکھیں کہ وہ جیتنے کے بعد عوامی کام میں کمیشن نہیں کھائے گا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ایک امیدوارنے ایک ووٹ پر تقریباً سترہ سو روپے (۰۰۷۱)  روپے خرچ کیا تھا ان کو دولاکھ کے قریب ووٹ ملے تھے۔ اگر یہ امیدوار کامیا ب ہوجاتا تو سب سے پہلے اپنا خرچ نکالتا اس کے بعد عوام کا کام کرتا۔اسی طرح کے اخراجات تمام انتخابات میں ہوتے ہیں امیدوار آج ووٹ خریدتا ہے۔ شراب سے لیکر شباب تک کا انتظام ہوتا ہے۔ امیدوار ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے اپناتے ہیں۔ 2014 کے عام انتخابات میں بھی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ گالی گلوج، اشتعال انگیزی کا دور دورہ تھا،الیکشن میں عوامی مسائل کے بجائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر زیادہ زور دیا جارہا تھا۔ بہت سے بی جے پی لیڈر نے تو مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی اور اب بھی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے حقوق پر شب خون مارنا ہندوستانی جمہوریت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہاں جمہوریت کا مطلب یہ سمجھا گیا ہے کہ وہ جو چاہے ہیں کریں ان کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے۔ ہندوستانی جمہوری آئین کو کبھی کاغذ سے زمین پر اتارنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جمہوریت کا مکمل اور واضح مطلب اکثریت کی حکمرانی سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سب کو اپنی آبادی کے حساب سے مناسب نمائندگی۔ انتظامیہ، عدلیہ مقننہ میں مناسب نمائندگی تاکہ ان کی آواز بھی صحیح طرح اٹھ سکے اور ان کے مسائل حل ہوسکے لیکن آزادی کے بعد سے ہندوستانی جمہوریت میں ساری توجہ اس پر دی گئی کہ اقلیتوں کی تمام شعبوں میں کس طرح نمائندگی کم کی جاسکے۔ اقلیتوں کو ان کے حقوق سے کس طرح محروم کیا جاسکے اور نہ صرف ببانگ دہل اس کا اعلان کیاگیا بلکہ اس صدق دلی سے عمل کیاگیا۔ اس وقت ملک کی جو صورت حال ہے اس میں جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے فارمولے پر سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔ جمہوریت کے چاروں ستون خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ان چاروں ستونوں کے عمل سے کبھی ایسا نہیں لگاکہ وہ اقلیتوں، کمزور طبقوں اور دلتوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔ اس ملک میں پدماوت کے سلسلے جو ہنگامہ آرائی، تشدد، توڑ پھوڑ اورقتل جاری ہے وہ ہندوستان کی شہرت، اخوت، محبت، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب کو مٹی میں ملانے کے لئے کافی ہے۔ہندو راشٹر کے خواب دیکھنے والوں کی ایسا لگتا ہے کہ دنیا اندھی اور جاہل اور لاعلم ہے۔ ان کے ظلم و تشدد، حیوانیت اور شیطانت کو نہیں دیکھ رہی ہے۔ آسیان ممالک کے سربراہ نے ان کی غنڈہ گردی، بدتمیزی، حیوانیت، درندگی اور ناانصافی اور جمہوری حقوق کو پامال کرنے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس صورت حال میں جب حکومت کی پشت پناہی ان شرپسند عناصر کو حال ہو۔ 
ایسے حالات میں سیاست میں کس طرح کی قدریں جنم لیں گی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں حقیقی جمہوریت کا نفاذ اسی وقت ممکن ہوگا جب عوامی نمائندے 51 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوں گے اس کا اشارہ ووٹرس ڈے پر سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے بھی کیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ ملک میں تمام جمہوری نظام کو دیمک لگ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن سے لیکر عدلیہ، مقننہ،  قانون نافذ کرنے والی ایجنسی اور یہاں تک کے خفیہ ایجنسی بھی سیاست کا شکار ہوگئی ہے۔صورت حال اس قدر بھیانک ہے جمہوریت کی چولیں ہل گئی ہیں۔ جمہوریت کے نام پر تمام طرح کی غنڈہ گردی کرنے کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔ ایسے میں جمہوریت کا حشن منانا کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط۔اگر جمہوریت کے بکھرتے تانے بانے پر غور نہیں کیا گیا اور اس کو ایک تار میں پیرونے کی کوشش نہیں کی گئی تو پھر بہت دیر ہوجائے گی اور سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہوگا۔

Comments