کرنل پروہت کی ضمانت: ہندو دہشت گردوں کے تئیں حکومت کے عندیہ کا اظہار


 

تیشہ فکر عابد انور 

یہ مضمون 2017 میں لکھا گیا تھا

مالیگاؤں بم دھماکہ کی کہانی بھی اسی پلاٹ پر لکھی گئی تھی اور کرنل پروہت مکمل طور پر اس میں کامیاب بھی ہوگئے تھے لیکن سوامی اسیمانند کے اقرار جرم نے اس سازش کی تہ بہ تہ پرت سے پردہ اٹھایا اور جو نام سامنے آیا اس سے دہشت گردی کی ایک نئی کہانی سامنے آئی۔اس میں وہ تمام لوگ شامل تھے جو ہندوستانی سماج ایک مذہبی گرو، ایک محافظ اور ایک اپدیشک کے طور پرجانے جاتے تھے۔ اس میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت، سوامی اسیمانند اور آر ایس ایس سے وابستہ کئی سینئر پرچارک شامل تھے۔ ہندوستانی انتظامی اور سیکورٹی مشنری کی سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ کسی ہندو کو دہشت گرد تسلیم نہیں کرتی۔ ان کے خیال میں دہشت گردی کے واقعات صرف مسلم نوجوان ہی انجام دیتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات پر نظر رکھنے والی خفیہ ایجنسی کو دھماکے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتایا وہ جان بوجھ کر انجان بن جاتے ہیں کہ کسی مسلمان کو پکڑ لیں گے اور کیس حل ہوجائے گا۔ مالیگاؤں میں عین شب برات کی شام میں مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں 29 ستمبر2006 کو موٹر سائیکل کے ذریعے بم دھماکے کرکے سات کو ہلاک اور 70 سے زائد افراد کو زخمی کردیا تھا۔اس کے مالیگاؤں میں دوسرا 2008 کو ہوا تھا جس میں 37  افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سوامی اسیماند کو گزشتہ سال 19 نومبر 2009کو اجمیر، حیدرآباد اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسیمانند نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ  ''آر ایس ایس نے اپنے کارکن سنیل جوشی کا قتل کروایا ہے اور اس سے وابستہ کئی لوگ ان دھماکوں کے لئے ذمہ دار تھے.'' سی بی آئی نے اسیمانند کے اقبالیہ بیان کے بعد عدالت میں عرضی دی تھی کہ اسے اس معاملے میں دوبارہ جانچ کی اجازت دی جائے۔ 2006 میں ممبئی سے مالیگاؤں میں بم دھماکوں کے سلسلے میں ممبئی اے ٹی ایس نے 2006 میں ہی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس تفتیش سے مسلمان خوش نہیں تھے کیوں کہ ان کا ہی جانی اور مالی نقصان بھی ہوا تھا اور ان ہی کے افراد بھی پکڑے گئے تھے۔سخت دباؤں اور پرزور مطالبے کی بنیاد پر یہ معاملہ اے ٹی ایس سے لے کر سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔ ممبئی اے ٹی ایس نے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس دھماکہ میں شامل مسلم نوجوانوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔27 اگست 2011 ان مسلم نوجوانوں کا  برین میپگ اور پولیوگرافی ٹیسٹ گجرات کی لیبارٹری میں این آئی اے کرائی گئی تھی۔ ان ملزموں پر مکوکا بھی لگایا تھا لیکن بے گناہی ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔ 

مسلمانوں خصوصاً جیل بند بے قصور مسلم نوجوانوں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب بامبے ہائی کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکے کے دو ملزمان کو ضمانت کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے شیونرائن کلساگرا اور شیام ساہوکو یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی تھی کہ ان کے خلاف ثبوت کافی نہیں ہیں۔ جسٹس اے ایم ترپاٹھی نے کہا کہ ملزم صرف دھماکوں کے اہم ملزم رام چندر کلساگر کو جانتے ہیں اور وہ بھلے ہی سازش سے واقف تھے لیکن صرف اس بنیاد پر ہی انہیں مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب کہ دوسری جانب پورے ملک میں صرف شک کے بنیاد پر بہت سارے مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ظاہر ہے عدلیہ کا رویہ اس معاملے پر کافی خطرناک حد تک فرقہ وارانہ ہو چکا ہے۔ وہیں دہشت گردی کے معاملے میں ملک کا دوہرا معیار بھی سامنے آتا ہے کہ انڈین مجاہدین کے نام پر مسلسل مسلمانوں کو اٹھائے جانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حکومت کو اس معاملے کو اجاگر کرنا چاہئے کہ اگر انڈین مجاہدین نام کی مسلم نوجوانوں کی کوئی تنظیم ہے تو اس کا سربراہ کون ہے، کون چلاتا ہے اور فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔ کاش مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو اور محض جاننے اور ڈائری میں نام ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن نہ کردی جائے۔ بیشتر بم دھماکے میں ایسا ہی ہوا ہے اور محض نام بتانے اورملزم کی ڈائری میں نام درج یا ٹیلی فون نمبر ہونے کی بناء پر نہ صرف حراست میں لیا گیا بلکہ جیل کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیاگیا۔طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔  جن لوگوں ں پر الزام تھا ان کو ضمانت دلانے میں انتظامیہ جس سرعت کا مظاہرہ کیا وہ ہندوستان کے انصاف کے دہرے معیار کی پول کھولتا ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکہ کے الزام میں جیل قید مسلم نوجوانوں نے جب  جب ضمانت کی درخواست کی دی سی بی آئی اور دوسری ایجنسیوں نے ہمیشہ مخالفت کی لیکن یہ مخالفت شیورنرائن اور رام ساہو کے معاملہ میں سامنے نہیں آیا۔ملک کی معتبر سمجھی جانے والی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے آ خر اتنے طویل عرصہ میں کیا تفتیش کی۔انہوں نے کس چیز کو بنیاد بنایا یا صرف ممبئی پولیس کے بیان کو درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس میں تربیت یافتہ افراد اور تیز طرار افسران ہوتے ہیں جو حقائق کی تہہ تک پہنچنے کا مادہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود سی بی آئی کا رویہ اس معاملے میں کیوں معاندانہ رہا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب مرکزی حکومت سے لیکر ریاستی حکومت کا رویہ مسلمانوں کے تئیں انصاف کے حصول میں رکاوٹ ڈالنے کا ہے تو سی بی آئی بھی اسی کا ایک حصہ ہے اور سی بی آئی اس کے اشارے کے بغیر کسی کو بے داغ قرار نہیں دے سکتی۔ سی بی آئی بھی اسی اکثریتی معاشرے کا ایک جز ہے جو پوری طرح مسلمانوں کے بارے میں مفروضات کے حصار میں ہے۔ 

مالیگاؤں دھماکوں کے الزام میں گرفتار ہوئے دیانند پانڈے کے لیپ ٹاپ سے بہت سے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ اس لیپ ٹاپ سے میٹنگ کا آڈیو بھی ملا تھا اور اس اجلاس میں آر پی سنگھ بھی موجود تھے۔ اے ٹی ایس نے ان دھماکوں کو لے کر 4000 صفحات کی چارج شیٹ مکوکا عدالت میں داخل کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پروہت نے 'الگ آئین، الگ ہندو قوم' کے قیام کا پرچار کرنے کے مقصد سے 2007 میں ہندو وادی تنظیم ابھینو بھارت کاقائم کیا تھا۔چارج شیٹ کے مطابق سخت گیر نظریات کی تشہیر کے لئے آرمی افسر نے خود کے لئے اور ابھینو بھارت کے لئے تقریبا 21 لاکھ روپے جمع کئے تھے۔یہ ملزم ہیں لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، سدھاکر، بھان دویدی عرف دیانند پانڈے عرف شنکراچاریہ اور میجر (ر) رمیش اپادھیائے۔اس کے علاوہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے پروین متالک کوگرفتار کر لیاتھا۔ انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔وہ سخت گیر ہندو تنظیم ابھینو بھارت کے اہم رکن ہیں اور وہ کرنل پروہت کے نجی سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ممبئی پولیس کے مطابق متالک نے 22 ستمبر 2008 کو کرنل پروہت کے کہنے پر سدھاکر چترویدی کے گھر سے دھماکہ خیز جمع کیا۔پولیس نے اپنی تفتیش میں پایاتھاکہ دھماکے کی جگہ سے جو دھماکہ خیز ملے تھے وہ سدھاکر چترویدی کے گھر سے ملے دھماکہ خیز مادہ سے میل کھاتے ہیں۔اے ٹی ایس کی طرف سے دائر چارج شیٹ کے مطابق پروہت نے 11 دیگر کے ساتھ مل کر سازش رچی تھی۔



جن ستا میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری انٹیلی جنس (ڈی جی ایم آئی) کی ایک رپورٹ کے مطابق کرنل پروہت فوج کے نظم و ضبط کے عمل نہ کرنے کے مجرم ثابت ہوئے ہیں۔ رپورٹ 27 جولائی 2011 کی ہے۔جس کی تحقیقات کرنل پروہت  کا نام مالیگاؤں بم دھماکے میں آنے کے بعد  شروع کی گئی تھی۔رپورٹ میں ان کے بنیاد پرست ہندو تنظیموں اور مالیگاؤں دھماکے کے سلسلے میں کنکشن کا  بھی ذکر ہے۔ رپورٹ میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت کا بھی ذکر ہے۔ رپورٹ کے ابتدائی حصہ میں، یہ کہا گیا ہے، ”پیسے کے فائدے کے لئے پروہت  فوج کے ہتھیاروں کی خریداری اور نمٹانے میں ملوث تھے۔ انہوں نے پونے کے ہتھیاروں کے ڈیلر سے ہتھیاروں کی ڈیل کی تھی۔ بعد میں راکیش دھاوڑے (مالیگاؤں بم دھماکے کا ملزم) سے بات چیت شروع کی۔ڈی جی ایم آئی کی رپورٹ کے مطابق، دھاوڑی کی غیر قانونی ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد تک رسائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عہدے کی وجہ سے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کی ہتھیاروں تک آسانی سے پہنچ تھی۔ رپورٹ کے مطابق،دھاوڑی  سات 9 ایم ایم پستول پروہت سے خریدی تھی۔جوکہ ڈیوالی میں واقع آرمی آرمی یونٹ سے لی گئی تھی۔ اس کی اسمگلنگ کی گئی تھی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پروہت نے تحقیقات کے دوران یہ قبول کیا ہے۔ پروہت نے 9  ایم ایم پستول کو پچاس ہزار روپئے میں دھاوڑے کی دی تھی۔ یہ پستول آر ایس ایس لیڈر لوک  کے قتل کے لئے دی گئی تھی۔68 سال کی وکیل روہنو سالین نے ممبئی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار کو بتایا کہ نئی حکومت آنے کے بعد گزشتہ ایک سال سے ان پر این آئی اے کی طرف سے مسلسل دباؤ ہے کہ ہندو ملزمین کے خلاف نرمی برتی جائے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال این ڈی اے کی حکومت مرکز میں آنے کے بعد این آًئی اے کے ایک افسر نے انہیں فون کیا اور کہا کہ وہ ان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے. وہ فون پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا تھا. وہ آیا اور ان سے کہا کہ ان کے لئے یہ پیغام ہے کہ وہ (وکیل) نرم رویہ اپنا ئیں۔مالیگاؤں دھماکے کے ملزم تعداد 9 لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت رائے گڑھ ضلع کے اعلی سیکورٹی والے تالوجا جیل کے احاطے سے بدھ کی صبح جب باہر نکلے تو فوج کی گاڑیاں  ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ 5 نومبر 2008 کو گرفتار کئے گئے کرنل پروہت کو پیر یعنی 21 اگست 2017 کو سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی تھی، جس کے بعد نو سال سے جیل میں بند پروہت کی رہائی کا راستہ صاف ہو گیا تھا۔مراٹھا لائٹ انفنیٹری کے لئے تقرری کئے گئے کرنل پروہت بعد میں فوج کی ملٹری انٹیلی جنس شعبوں یونٹ کا حصہ بن گئے تھے۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا تب وہ فوج کی ملٹری انٹیلی جنس کے لیے ہی کام کر رہے تھے۔

اے ٹی ایس نے کرنل پروہت پر ہندوستان میں ہندوتوا کو فروغ دینے، مختلف بھگوا پرچم اپنانے اور لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے ارادے سے مجرمانہ سازشیں اور بنگ کروانے کے الزام طے کئے گئے تھے۔کیس میں دائر اے ٹی ایس کی پہلی چارج شیٹ کے مطابق ملزم پرساد پروہت نے سال 2007 میں 'ابھینو بھارت' نام کا ایک تنظیم بنائی جس کا مقصد ایک "الگ ہندو راشٹر کی تشکیل عکرنا تھا" جس کا اپنا الگ آئین اور الگ بھگوا پرچم ہو۔ اے ٹی ایس کے مطابق ’ابھینو بھارت‘تنظیم کے لوگوں نے فرید آباد، کولکتہ، بھوپال، جبل پور، اندور اور ناسک شہروں میں ملاقاتوں اور دھماکے کرنے کی مجرمانہ سازشیں رچی تھی۔'ابھینو بھارت' تنظیم اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے پورے بھارت سے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر رہا تھا۔حکومت ہند کے جنوری 2011 میں آئے ایک حکم کے بعد اس معاملے کی جانچ قومی جانچ ایجنسی کو سونپ دی گئی تھی۔ ملزمان کی طرف سے اعلی عدالتوں میں کئی عرضیاں دائر کرکے مکوکا ایکٹ لگائے جانے کو چیلنج کیا تھا۔این آئی اے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انکوائری اپریل 2015 میں ہی شروع کر سکی۔ 2015 تک این آئی اے نے اس معاملے میں کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا۔ قومی جانچ ایجنسی نے مئی 2016 میں چارج شیٹ دائر کی جس میں کرنل پروہت سمیت تمام ملزمان پر سے مکوکا قانون کی دفعات ہٹا لی گئیں۔این آئی اے نے اپنی رپورٹ میں بھی بتایا کہ ایم سی اے اے کے تحت اے ٹی ایس کی طرف سے لئے گئے کئی اقبالیہ  بیان کا این آئی اے نے نوٹس نہیں لیا گیا۔ کرنل پروہت اب بھی قتل، سازش، غیر قانونی ہتھیار رکھنے وغیرہ جیسے سنگین معاملے میں ملزم ہے اور  این آئی اے اب بھی پورے معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

  مالیگاؤں دھماکہ کیس میں آٹھ سال اور آٹھ مہینے سے جیل میں بند لیفٹننٹ کرنل سری کانت پرساد پروہت کو سپریم کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس آرکے اگروال اور جسٹس ابھے منوہر ساپر کی ایک بینچ نے 2008 کے مالیگاؤں  دھماکے کیس کے ملزم  لیفٹننٹ کرنل پروہت کی بمبئی  ہائی کورٹ کے آرڈر کے خلاف اپیل قبول کرتے ہوئے  انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت عظمی نے اپنے 25 صفحے کے فیصلے میں کہا ہے کہ این آئی اے کے اضافی الزام ا نسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی جانب سے دائر چارج شیٹ کی طرف سے مختلف ہے اور مقدمے کی سماعت میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ بنچ نے کہا ہے، ”کرنل پروہت آٹھ سال اور آٹھ ماہ سے جیل میں ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ درخواست گزار کے پاس ضمانت پر رہائی کے لئے بادی النظر میں  بنیاد ہے اور ہم درخواست گزار کو مشروط ضمانت پر رہا کرنے کے حق میں ہیں“۔جسٹس اگروال نے بینچ  کی طرف سے حکم سناتے ہوئے کہا، ”اگر اپیل کنندہ (کرنل پروہت) اس عدالت کی کسی شرط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو استغاثہ کو ہمارے متعلقہ آرڈر میں ترمیم یا اسے واپس لینے کی درخواست کی آزادی ہوگی“۔ہائی کورٹ نے کرنل پروہت کی ضمانت کی درخواست گزشتہ  25 اپریل کو مسترد کردی تھی، جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔سادھی پرگیہ بھی کبھی باہر آجائے گی۔ یہ ہندو دہشت گردوں کے تئیں انتظامیہ،عدلیہ، میڈیا اور مقننہ کا رویہ ظاہر کرتا ہے۔ جہاں پختہ ثبوت بھی کمزور ثابت دکھائی پڑتے ہیں۔


Comments