عرب اسرائیل معاہدے امریکی انتخابات میں ڈونالڈ کیلئے ٹرمپ کارڈ

عابد انور

Thumb


 اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ہی کرنا تھا تو اسرائیل کے ہاٹھوں پٹائی کھانے کی کیا ضرورت تھی، اتنے لوگوں کو کیا مروایا، اتنی کانفرنسیں کیوں کیں،مسجد حرام سمیت پوری دنیا کی مساجد میں اسرائیل کی ہلاکت و بربادی کی کیوں دعائیں مانگی گئیں جب کہ اسلام میں کہا گیا ہے کہ دعائیں اس وقت کام آتی ہیں جب عمل بھی ہو، عمل کے بغیر دعا سے کامیابی و کامرانی ملتی تو عرب مسلمانوں کو سب سے کامیاب ہونا چاہئے تھا لیکن آج پوری دنیا میں ذلیل خوار ہیں، کسی میدان میں اپنی گہری چھاپ چھوڑنے میں ہم ناکام رہے، آخر کیوں؟ہماری حکمت عملی، فہم و فراست کہاں چلی گئی، اب اسرائیل کو اپنا نجات دہندہ تصور کرنے لگے ہیں۔ عرب ممالک کے لئے اعلانیہ طور پر اسرائیل کو قبول کرنااب شجر ممنوعہ نہیں رہا۔ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات پہلے بھی خفیہ طور پر تھے،کئی معاملات میں عرب ممالک اسرائیل کے مفادات کی تکمیل کرتے تھے لیکن وہ بظاہر ساری ہمدردی فلسطین کے ساتھ رکھتے تھے۔گزشتہ کئی دہائیوں خاص طور پر خلیجی جنگ کے بعد فلسطین کے تئیں عرب ممالک کے نظریے میں تبدیلی آنے لگی تھی اور فلسطین کے ساتھ وہ اخوت عرب ممالک نے کبھی نہیں نبھائی جس پر ان کا ایمان ایقان ہے۔ فلسطینیوں پر مظالم پر عرب ممالک کی ناراضگی بیان اور قرارداد پاس کرنے تک محدود ہوگئی تھی اب تو گزشتہ کچھ برسوں میں قرارداد بھی پاس نہیں ہورہی تھی اور ہوتی بھی تو وہ شدت نہیں تھی۔ اسرائیل بھی سمجھتا تھا کہ عرب ممالک کی اوقات قرار داد پاس کرنے اور بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل اچھی طرح جانتا ہے کہ ان سب کے مفادات الگ الگ ہیں، اتحاد کا فقدان ہے، عرب ایران مخاصمت ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کی شہ رگ امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور امریکی شہ رگ اسرائیل کے ہاتھ میں۔اس لئے عرب ممالک امریکہ کے لئے اقتصادی نمو ہونے کے باوجود کبھی امریکہ کے لئے اہم نہیں رہے۔ اہمیت اس حد تک رہی کہ جس طرح جمہورے کے لئے ایک بندر کی اہمیت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے کبھی اسرائیل کے خلاف عرب کی حمایت نہیں کی اور کبھی ایسا کیا بھی ہو اس سے کئی گنا اسرائیل کو دینے کے بعد۔اسرائیل نے جب چاہا فلسطینیوں کا شکار کرتا رہا، ان پر معاشرتی، اقتصادی اور تمام طرح کی پابندیاں عائد کرتا رہا، دودھ پیتے بچے سے لیکر بزرگ شہریوں تک کا قتل کرتا رہا لیکن نہ تو امریکہ نے اسے روکا اور نہ ہی عرب ممالک نے، امریکہ حق دفاع کہہ کر اسرائیل کا ہمیشہ ساتھ دیتا رہا اور عرب ممالک پر دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ اسرائیل اپنے تعلقات استوار کرے، سفارتی تعلقات قائم کرے لیکن وہ اسرائیل کو کبھی مجبور نہیں کیا کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقہ خالی کردے۔ اب امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دو عرب ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ 15ستمبر کوامریکہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا معاہدہ کیا۔


منگل 15 ستمبر 2020کو وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دستخط کر دیے۔اس تقریب میں ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بیامین نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیانی بھی موجود تھے۔متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کو تسلیم کرنے والے بالترتیب تیسرے اور چوتھے عرب ملک بن گئے ہیں جہاں اس سے قبل 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔امریکی صدر نے وائٹ ہاوس کی بالکونی سے کہا کہ ہم یہاں تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور اسے اہم تبدیلی قرار دیا جس میں اب تمام عقائد کے لوگ امن اور خوش حالی کے ساتھ رہ سکیں گے۔ اب مشرق وسطیٰ کے تین ممالک مل کر کام کریں گے، اب یہ دوست ہیں، کئی دہائیوں کی تقسیم اور تنازعات کے بعد نئے مشرق وسطیٰ کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ اب تک کئی دہائیوں میں اسرائیل کے صرف دو ملکوں سے اس طرح کے معاہدے ہوئے تھے لیکن ہم نے محض ایک ماہ میں ایسے دو معاہدے کر لیے اور ابھی اس طرح کے مزید معاہدے بھی ہوں گے۔ اس معاہدے کی بدولت دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل میں مسجد اقصیٰ اور یروشلم سمیت تاریخی مقامات کا دورہ بھی کر سکیں گے۔اسی کے ساتھ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد مزید پانچ سے چھ ملک ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔
قبل ازیں 30 اگست 2020متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے ایک وفاقی حکم نامے کے ذریعے سنہ 1972 میں بنائے جانے والے اسرائیل کے بائیکاٹ کے قانون کا خاتمہ کر دیا تھا۔یہ اقدام رواں ماہ کے وسط میں دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سرکاری ایمریٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات مضبوط کرنا ہے۔سرکاری حکم نامے کے تحت اماراتی باشندے اور کمپنیاں اسرائیلی باشندوں اور کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین، روابط اور معاہدے قائم کر سکیں گی۔اس کے ذریعے تمام اسرائیلی ساز و سامان اور مصنوعات کی متحدہ عرب امارت میں داخلے، ملکیت اور تبادلے کی اجازت ہو گی۔خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ زراعت ایلون سکسٹر نے جمعہ کو تل ابیب میں ایک ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے لیے کوشاں ہے جس کے ذریعے تیل کے ذخائر سے مالا مال متحدہ عرب امارات میں غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا اور کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے اور صحرا میں فصلیں لگانے جیسے منصوبوں پر کام کیا جا سکے گا۔امریکی صدر ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں مددگار ہو گی۔متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ’ایک بہت جراتمندانہ اقدام تھا‘ تاکہ اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کے انضمام کے ’ٹائم بم‘ کو روکا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات اسے ’انضمام کی معطلی کے بجائے اس کا رْک جانا تصور کرتا ہے۔‘جب ان سے متحدہ عرب امارات کے اقدام پر فلسطینی تنقید کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خطے میں اس حوالے سے مؤقف بہت سخت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ’معمول کا شور‘ سننے کی امید تھی۔ ’ہمیں اس پر غصہ آتا تھا لیکن پھر ہم نے سوچا کہ چلو کر ہی ڈالتے ہیں۔‘مشترکہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’اب دیگر عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات وسیع کرنے پر غور کرے گا‘ اور متحدہ عرب امارات اور امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے کام کریں گے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ’مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک سٹریٹجک ایجنڈا‘ لانچ کرنے کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ کام کریں گے۔ تینوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ’خطے میں خطرات اور مواقع کے بارے میں مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں، اور سفارتی تعلقات، زیادہ معاشی تعاون اور قریبی دفاعی تعلقات کے ذریعے استحکام کو فروغ دینے کا بھی مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔‘


اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی دوستی اور سفارتی تعلقات کی بحالی پر زبردست ردعمل سامنے آیا ہے، مسلمان کبھی بھی اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔جہاں عمان سمیت کچھ عرب ملک نے اس کا خیرمقدم کیا ہے وہیں،ایران، ترکی، فلسطین سمیت متعدد ممالک نے اس کی مذمت کی ہے اورفلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ معاہدہ ’غداری‘ ہے۔ فلسطین کے عوام نے ان امن معاہدوں اور اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے اقدامات کو مسترد کردیا ہے اور ٹرمپ پر اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت اور فلسطین کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کرنے اوران دونوں ممالک پر فلسطین کے مقصد کے حصول کے سلسلے میں غداری کا الزام عائد کیا۔ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو منافقانہ طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے۔اس تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے خلاف 'فلسطینی عوام اور انتظامیہ کا سخت ردعمل جائز ہے۔'‘ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے اس معاہدے کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔ دوسری جانب غزہ میں عسکریت پسند گروہ حماس نے اس معاہدے کو ’اپنے لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا قرار دیا۔‘جبکہ متحدہ عرب امارات نے کہا کہ معاہدے کے بعد نیتن یاہو نے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ملانے کے منصوبے کو مؤخر کردیا ہے۔
اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان اب تک تعلقات بحال اس لئے نہیں ہوئے تھے کیوں کہ عرب ممالک کی شرط تھی کہ اسرائیل پہلے فلسطینی کے مقبوضہ علاقہ خالی کرے، کیا اسرائیل نے مقبوضہ علاقہ خالی کردیا؟ کیا اسرائیل کا فلسطین کے ساتھ رویہ بدل گیا؟یا اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان کے حقوق واپس کردئے؟ ان سب کا جواب نفی میں ہے توآخر کیا وجہ ہے کہ د و عرب ملکوں نے اسرائیل سے اپنے تعلقات اچانک استوار کرلئے۔اچانک کیا گیا ہے تیاری توبہت پہلے سے چل رہی تھی۔خفیہ تعلقات تو بہت سارے عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تھے اور ہیں۔سرد سست تین وجوہات جو سامنے آرہی ہیں ایک امریکی صدارتی انتخابات ہیں جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہر حال میں جیتنا چاہتے ہیں اوریہ معاہدہ ڈونالڈ کے لئے ٹرمپ کارڈ کی طرح ہے۔ دوسرا ایران کا خوف اور تیسراترکی کا توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ امریکہ میں یہودی کم تعداد میں ہوتے ہوئے بھی امریکی شعبہائے زندگی پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور الیکشن کے وقت ہر امیدوار انہیں لبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عرب اسرائیل معاہدہ یہودی ووٹ کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ دونوں معاہدے امریکی صدر کے لیے اہم سفارتی کامیابیاں ہیں اور آنے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسرا ایران کا خوف ہے۔ایران نے بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے اثر ات خلیجی ممالک میں بڑھائے ہیں، شام کے معاملے میں عرب ممالک کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ عراق پر بھی ایرانی دبدبہ قائم ہے،یمن میں برسرپیکار ہے اور عرب اتحادی افواج کو کامیابی نہیں مل رہی ہے۔بلکہ حوثیوں کا دائرہ سعودی عرب تک جا پہنچا ہے اور آرامکو تیل کمپنی اور خلیج فارس میں تیل سے لدے جہاں پر پر گزشتہ دنوں ایران کا حملہ اس کی مثال ہے۔ عرب ممالک چاہتے ہوئے ایرانی اثرات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس خوف نے عرب ممالک کو امریکی پناہ کے ساتھ اسرائیلی پناہ میں جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ تیسرا خوف ترکی کا توسیع پسندانہ عزائم ہے۔ عرب ممالک خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوف زدہ ہیں۔ خاص طور پر خلافت عثمانیہ کے احیاء کے ترکی کے عزم سے سہمے ہوئے ہیں۔ مسلم دنیا سمیت عرب ممالک کے نوجوانوں کا جھکاؤ ترکی کی طرف ہے اور ترکی کے صدر طیب ارودغان کو ایک ہیرو کی طرح دیکھتے ہیں اور اسلامی ممالک کے تئیں اختیا ر کئے گئے ترکی کے موقف سے وہ بے حد خوش ہیں۔
ان دونوں ممالک کے تعلقات استوار کرنے کے بعد اگلا ملک کون ہوگا جو اسرائیل سے تعلقات قائم کرے گا۔ اگلا نمبر عمان کا ہوسکتا ہے۔سعودی عرب فی الحال اسرائیل سے سفارتی تعلق قائم نہیں کرے گا  لیکن اسرائیل کے تئیں سعودی عرب کا نظریہ بدل چکا ہے۔امام کعبہ عبدالرحمان السدیس کا اپنے جمعہ کے خطبے میں ’مسلمانوں کو یہودیوں سے متعلق 'بہت زیادہ جذباتیت اور شعلہ بیانی‘ سے احتراز کرنے کی نصیحت‘ تبدیلی کا غماز ہے۔ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ایگزیٹر یونیورسٹی کے ادارہ برائے عرب اور اسلامی علوم سے منسلک ماہر مارک اوئن جونز کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ روابط کے فیصلوں سے سعودی عرب کو بھی یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اسی سمت میں اپنے کسی بھی آئندہ قدم سے قبل رائے عامہ کا جائزہ لے سکے، ''تاہم اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا قیام اس عرب بادشاہت کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہو گا۔“مارک اوئن جونز کے مطابق، ''امام کعبہ جیسی کسی بہت اہم شخصیت کے ذریعے سعودی حکمرانوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت میں سعودی عوام کا رد عمل کیسا ہو گا۔“
سعودی عرب بہت تیزی سے جدید اور ماڈرن سوسائٹی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ولی عہدمحمد بن سلمان کا ویژن 2030میں سعودی عرب کو  مذہبی سیاحتی مقام کے ساتھ عام لوگوں کے لئے ایک سیاحتی مقام بنانا بھی ہے۔ اسی لئے نائٹ کلب، سینما گھروں اور اس طرح کے دیگر تفریحی مقامات کی تعمیر کی اجازت دینااور اب ان چیزوں کا کھلنا اسی سمت قدم ہے تاکہ یوروپی،امریکی اور مغربی سیاحوں کو سعودی عرب کی طرف راغب کیا جاسکے۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کی طرح صرف تیل پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے کیوں کہ تیل ایک نہ ایک دن ختم یا کم ہوجائے گا،اس وقت پوری دنیا میں تیل کے متبادل تلاش کئے جارہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں سعودی عرب کی معیشت کو مضبوط رکھنے کے لئے طرح طرح کے قدم اٹھارہے ہیں۔ اسی سمت میں اسرائیل سے تعلقات بھی ہیں۔ 26 جنوری 2020 کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پر جمی برف ہر گزرتے دن کے ساتھ پگھلتی جا رہی ہے اور اسرائیل نے اپنے شہریوں کو پہلی مرتبہ سعودی عرب جانے کی باضابطہ اجازت دے دی۔اس کے علاوہ حج عمرہ ویزا میں اضافہ بھی محمد بن سلمان کا پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ یوروپ اور مغربی تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار اپنائے جارہے ہیں اور اسی حساب سے سعودی عرب کو ترقی دی جارہی ہے۔

Comments