حکومت نے بے حسی میں ہندوستان کو ’وشو گرو‘بنادیا

  

Thumb

 

ہندوستان سچ مچ وشو گرو بن گیا ہے اور جسے وشو گرو نظر نہیں آتا ہے وہ یا تو اندھا ہے یا ٹین کا چشمہ پہن رکھا ہے اور پراچین بھارت (قدیم ملک ہندوستان) سے اب تک کا سب سے کامیاب وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، اگر کسی کوشک ہے تو اپنا علاج کرائے،وشو گرو بنانے میں ہمارے پردھان سیوک نے رات دن محنت کی ہے، بقول اداکار اور کشمیری پنڈٹ انوپم کھیر کے، پردھان سیوک اٹھارہ اٹھارہ گھٹنے کام کرتے ہیں، دنیا میں کوئی وزیر اعظم نہیں ہوگا جو اٹھارہ گھٹنے کام کرتا ہو، اورکبھی چھٹی نہ لیتا ہو۔ یہ سہرا وشو گروکے وزیر اعظم ہندو ہردے سمراٹ نریندر مودی کو ہی جاتا ہے۔ اگر وہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام نہ کرتے تو جی ڈی پی 24 فیصد نچے نہیں گیا ہوتا، روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ خودکشی نہیں کررہے ہوتے، 12کروڑ لوگوں کی نوکریاں نہ چلی گئی ہوتیں۔سچ مچ بے حسی میں وشو گروبن چکا ہے جبھی تویہ سب میڈیا میں قابل تعریف ہے۔چین، کورونا، بے روزگاری، نوکری نہ ملنا، غریبوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہونا،نفرت اور عداوت نئی بلندیوں پر ہونا،قتل و غارتگری،اورعورتوں، بچیوں کی عصمت تارتار ہونا لیکن سماج پر اس کا کوئی اثر نہیں، ہندو سماج کا ایک بڑا طبقہ سوشانت سنگھ راجپوت، ریا چکرورتی اور کنگنا رناوٹ کے غم میں نڈھال ہے۔بے روزگار نوجوان سڑکوں پر لاٹھیاں کھا رہے ہیں، کسانوں تحریک چلا رہے ہیں اور ان کی ہڈیاں توڑی جارہی ہیں لیکن میڈیا میں تذکرہ ایک ناچنے والی او ر جھانسہ دینے والوں کی رانی  کے چھجہ توڑنے کا ہے۔جرائم میں ملک میں بہت بڑھ گئے ہیں، خواتین اور چھوٹی چھوٹی بچیاں محفوظ نہیں ہیں لیکن سماج میں اس کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ پوری قوم رام مندر کی تعمیر کے نشے میں مست ہے۔ کورونا نے پوری دنیا اور ہندوستان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ہندوستان میں یومیہ کورونا کے معاملے 95 ہزار سے زائد اور اموات ایک ہزار سے زائد ہے اس کے باوجود قوم دھتورے کے نشے میں مست ہے۔انسانوں کے تئیں احساس دم توڑ چکا ہے۔

ہندوستانی حکومت،ہندوستانی معاشرہ اور خاص طور پر سول سوسائٹی کس قدر بے حس ہے اس کا نظارہ آئے دن ہوتا رہتا ہے، دہلی میں 2016میں ایک گارڈ کو ٹیمپو نے ٹکر مار دی تھی اور ٹیمپو کا ڈرائیور اتر کر دیکھا کہ گاڑی کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے چلا گیا‘ اس کے ایک رکشا والا رکا اورتڑپنے والے شخص کو دیکھا اور اس کا موبائل لیکر چلا گیا۔ اس طرح کئی لوگ گزر گئے مگر کسی نے پولیس کو فون نہیں کیا اور نہ ہی اس زخمی شخص کو اسپتال پہنچانے کی زحمت گوارہ کی۔ مغربی بنگال کا رہنے والا وہ شخص جو اپنے بچے کی پرورش کے لئے دہلی میں دو دو جگہ نوکری کرتا تھابروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ دیا۔ میڈیا میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو بار بار دکھایا گیا اور دہلی کے بے رحم چہرہ کو پیش کیا گیا۔یہ ایسا روڈ تھا جس پر مستقبل گاڑیاں گزرتی ہیں۔لیکن کسی کو اسپتال پہنچانے یاطبی مدد لانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اس طرح کے واقعات اس قدر تسلسل کے ساتھ سے پیش آرہے ہیں کہ اب اس پر بحث بھی نہیں کرتے۔ لوگ خود میں اس قدر مگن ہیں آس پاس،قریب و جوار اور دوسرے لوگوں کیا تکلیف ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ پڑوسی بھوک یا بیماری سے مر جاتا ہے لیکن دوسرے پڑوسی کو پتہ نہیں چلتایا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کرتا۔ معاشرے میں اس قدر بے حسی کیوں آگئی ہے۔ کیا انسان کی ترقی، معاشرے کی ترقی،تعلیمی ترقی اور رہن سہن میں بلندی بے حس معاشرے کا غماز ہے؟ کیا انسان جتنی ترقی کرتا ہے اتنا ہی بے حس ہوجاتا ہے؟کیا اعلی تعلیم بھی بے حسی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے؟کیا انسان کو دولت اس قدر بے حس بنادیتی ہے کہ وہ آس پاس کی تکلیفوں کی پروا نہیں کرتا۔ صرف دور دراز علاقے میں ہی اس قدر بے حسی کا مظاہرہ نہیں ہورہا ہے بلکہ قومی راجدھانی، اقتصادی راجدھانی،میٹرو سٹی اورچھوٹے بڑے شہر میں اس طرح کے بے حسی کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔ بازار میں، ٹرین، میں، بسوں میں سڑکوں اور چوراہوں پر عورتوں پر،بچوں پر، لڑکیوں پر حملے ہوتے ہیں لیکن خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ان میں سے کسی کو ہمت نہیں ہوتی کوئی آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی کرنے والے کو روکے۔ظلم کرنے والے ایک دو ہوتے ہیں جب کہ تماشہ دیکھنے والے درجنوں ہوتے ہیں اس کے باوجود سر راہ ظلم کرنے والاوحشیانہ کام کرکے چلا جاتا ہے اور لوگ خاموش کھڑے رہ جاتے ہیں۔ کیا انسان اس قدر خودغرض ہوگیا ہے کہ محض مفروضہ خوف کی وجہ سے کسی کی مدد کے لئے سامنے نہیں آتا۔دو تین لوگ بھی آگے بڑھیں تو پھر کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ کسی پر ظلم و جبر کرے۔وہ کسی معاملے میں الجھنے سے اس قدر خوف کھاتا ہے کہ اپنے سامنے کسی کی جان جاتے، آبرو لٹتے اور عزت تار تار ہوتے دیکھتا ہے اور آرام سے سامنے سے نکل جاتا ہے۔ اسی کڑی میں اڑیسہ اور مدھیہ پردیش میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے دل دہلانے والے واقعات نے انسان کی بے حسی، نظام کی بے حسی، حکومت کی بے حسی،سرکاری ملازموں کی سوچ کو اجاگر کردیا ہے۔ 


 اڑیسہ کے پسماندہ ضلع کالا ہانڈی میں ایک قبائلی کو اپنی بیوی کے لاش کو اپنے کندھے پر لے کر تقریبا 10 کلو میٹر تک پیدل چلنا پڑا تھا۔ اسے ہسپتال سے لاش کو گھر تک لے جانے کے لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکی تھی۔اس شخص کے ساتھ اس کی 12 سالہ بیٹی بھی تھی۔ 24 اگست کی صبح مقامی لوگوں نے دانا ماجھی کو اپنی بیوی امگ دئی کی لاش کو کندھے پر لاد کر لے جاتے ہوئے دیکھا۔ 42 سالہ خاتون کی بھوانی پٹنا میں ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ٹی بی سے موت ہو گئی تھی۔ اس قسم کی صورت حال کے لئے نوین پٹنائک کی حکومت نے فروری میں 'مہاپراین' منصوبہ کی شروعات کی تھی جس کے تحت لاشوں کو سرکاری اسپتال سے میت کے گھر تک پہنچانے کے لئے مفت نقل و حمل کی سہولت دی جاتی ہے۔تاہم ماجھی نے بتایا کہ بہت کوشش کے باوجود بھی اسے ہسپتال کے حکام سے کسی طرح کی مدد نہیں ملی۔ اس لئے اس نے اپنی بیوی کے لاش کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اسے کندھے پر لاد کر بھوانی پٹنا سے تقریبا 60 کلو میٹر دور رام پور بلاک کے میلگھارا گاؤں کے لئے پیدل چلنا شروع کر دیا۔اس کے بعد کچھ مقامی نامہ نگاروں نے ان کو دیکھا۔ نامہ نگاروں نے ضلع کلکٹر کو فون کیا اور پھر باقی 50 کلومیٹر کے سفر کے لئے ایک ایمبولینس کا انتظام کیا گیا۔اڑیسہ میں بیوی کی لاش کندھے پر ڈالے دانا ماجھی کی تصویر ابھی دھندھلی بھی نہیں ہوئی تھی کہ ریاست کے بالاسور سے ایک اور دردناک منظر سامنے آیا ہے۔ اس خوفناک ویڈیوز بالاسور کے سورر کی علاقے کا ہے جہاں کے ایک صحت مرکز میں ایک شخص ایک لاش کے اوپر کھڑا ہو کر اپنے پاؤں سے اس کی ہڈیاں توڑتا ہے تاکہ لاش کو چھوٹا کرکے اس کی گٹھری بنائی جا سکے۔ اس کے بعد دو ملازم اس سمٹی لاش کو کپڑے اور پلاسٹک سے ریپنگ کرکے بانس پر لٹکاتے اور اپنے کندھے پر اٹھا لیتے ہیں۔یہ لاش 76 سال کی بیوہ سالامنی باریک کی ہے جس کی بدھ کو بالاسور سے 30کلو میٹر دور سورکی میں ٹرین کی زد میں آکر موت ہو گئی۔اس کی لاش کو بالاسور تک لانے کے لئے کوئی ایمبولینس دستیاب نہیں تھی۔ دراصل سورکی میں کوئی ہسپتال نہیں ہے، صرف ایک سماجی صحت مرکز ہے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ٹرین سے بالاسور تک لانا تھا۔ لاش کو اسٹیشن تک لے جانے کے لئے ایک آٹو کرنے کے بارے میں سوچا گیا لیکن وہ بہت مہنگا ثابت ہورہا تھا اس سے کہا گیا کہ وہ پیدل ہی لاش کو اسٹیشن تک لے کر جائیں۔اس سے پہلے لاش کو پولیس کی طرف سے صحت مرکز لے جایا گیا تھا جہاں وہ گھنٹوں ا سٹریچر پر پڑی رہنے کی وجہ سے انتہائی سخت ہو گئی تھی۔ ایسے میں لاش کو آسانی سے باندھا جا سکے لہذا ایک ملازم نے اپنے پاؤں سے ہڈی کو توڑا اور پھر گٹھری بنا کر اس کی دو کلو میٹر دور ریلوے اسٹیشن تک لے جایا گیا۔ متوفیہ کے بیٹے رویندرباریک نے بتایا ”وہ میری ماں کو برے حال میں لے کر گئے۔ میں مجبور تھا۔ کچھ نہیں کر سکا۔ میں انصاف کی فریاد لگاتا ہوں“۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اڑیسہ انسانی حقوق کمیشن نے پولیس اور بالاسور ضلع اتھارٹی سے جواب مانگا ہے۔یہ صورت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت کے ایسے دو منصوبے نافذ ہیں جس کے تحت لاشوں کو لے جانے میں مدد مہیا کروائی جاتی ہے۔ اڑیسہ کے 37 سرکاری ہسپتالوں میں 40 لاشیں گاڑی کے ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ کالا ہانڈی میں 25 لاکھ لوگوں پر ایک ہی لاش گاڑی مختص ہے۔
اڑیسہ کے بعد اب مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ سامنے آیاتھا۔ یہاں بس میں جانے والی ایک خاتون کی موت کے بعد بس والوں نے عورت کے شوہر، بوڑھی ساس اور پانچ دن کی بچی کو بس سے اتار دیا تھا۔ ضلع  چھتر پور کے گھوگھری گاؤں میں رہنے رام سنگھ کی بیوی ملی بائی نے پانچ روز قبل ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔ درد زہ کے بعد ہی ملی بائی کی طبیعت بگڑتی گئی تو رام سنگھ اس علاج کے لئے بس سے دموہ لے جا رہا تھا۔رام سنگھ کے مطابق، سفر کے دوران بیوی کی سانسیں تھم گئیں. بیوی کی موت کے بعد بس کے ڈرائیور،کنڈکٹر اور کلینر نے اس کے، بوڑھی ماں اور پانچ دن کی بچی کو خواتین کی لاشیں کے ساتھ چینپرا اور پرسائی گاؤں کے درمیان جنگل میں اتار دیا۔اس کے بعد یہ خاندان 5 دن کی بچی اور لاش کو 8 گھنٹے تک مدد کی فریاد کرتا رہا، لیکن ان کی مدد کے لئے کوئی آگے نہیں آیا۔اس دوران وکیل ہزاری اور راجیش پٹیل موٹر سائیکل سے دموہ واپس آ رہے تھے تو انہوں نے رام سنگھ کو اپنی بیوی کی لاشیں، نوزائیدہ بیٹی اور بوڑھی ماں کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا۔رام سنگھ سے بیتی سننے کے بعد وکیل نے ڈائل 100 سروس پر فون کیا، لیکن کافی دیر تک مدد کے لئے کوئی پولیس کا نوجوان نہیں پہنچا۔اس کے بعد دونوں وکلاء نے رام سنگھ کے خاندان کے لئے اپنی سطح پر گاڑی کا انتظام کیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دوران پولیس کے کچھ جوان پہنچے بھی تو انہوں نے اپنے علاقے کا معاملہ نہ ہونے کی بات کہہ ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے۔


وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میں اعلی ذات کے ہندو گورکشکوں کی دلت نوجوانوں کی وحشیانہ پٹائی کے معاملے پر پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ہنگامہ اور بہت سے جگہ پر تشدد احتجاج جاری تھا۔ لیکن ایک ویب سائٹ 'انڈیا اسپیڈ' کی ایک رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سزا کی شرح گجرات میں قومی اوسط سے چھ گنا کم ہے۔حالیہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سال 2014 میں گجرات میں دلتوں کے خلاف ہوئے جرائم میں صرف 3.4 فیصد معاملے میں ہی سزا ملی تھی، جبکہ اس طرح کے معاملات میں سزا کی قومی شرح 28.8 فیصد تھی۔ اسی طرح قبائلیوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں سزا کی قومی اوسط شرح 37.9 فیصد تھی جبکہ گجرات میں یہ شرح صرف 1.8 فیصد تھی۔گزشتہ 11 جولائی کو بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے کو جرم مان کر گورکشکوں نے چار دلت نوجوانوں کو کار سے باندھ دیا اور کپڑے اتار کر ان کی پیٹھ کی چمڑی ادھیڑ دی۔ بعد میں اعلی ذات کے گورکشکوں نے دلتوں اور مسلمانوں کو انتباہ کرنے کے لئے پٹائی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ مئی مہینے میں ہونے والے ایک اور حملے کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2014 میں ختم ہونے والی دہائی میں گجرات میں دلتوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات میں سزا کی شرح 5 فیصد اور قبائلیوں کے خلاف اس طرح کے معاملات میں سزا کی شرح 4.3 فیصد ہے جبکہ قومی اوسط شرح 29.2 فیصد اور 25.6 فیصد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 مقدمات میں سے 95 مقدمات ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ گجرات میں دلتوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سب سے کم سزا کی شرح سال 2011 میں 2.1 فیصد تھی اور قصور واروں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سب سے کم سزا در سال 2005 میں 1.1 فیصد تھی۔تعزیرات ہند کی دفعہ کے تحت درج تمام فوجداری مقدمات میں سزا کی قومی اوسط شرح سال 2014 میں 45.1 فیصد تھی۔ کرناٹک اور مہاراشٹر میں بھی دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سزا کی شرح گجرات جیسی ہی 5 فیصد ہے، جبکہ اس طرح کے معاملات میں اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں سزا کی شرح 50 فیصد ہے۔دلت انسانی حقوق پر قومی مہم کے کنوینر پال دیواکر نے ناقص فرد جرم اور تحقیقات کا حوالے دیتے ہوئے کہا، "عدالتی نظام میں ہر سطح پر دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے“۔

9810372335

Comments