بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ حکومت، میڈیا اور سماج پر زناٹے دار طمانچہ

عابد انور

Thumb

 

یہ کورونا جہاد ہے، یہ کورونا بم ہے، یہ جہاد ہے، یہ اسلاملک جہاد ہے، یہ پورے ملک میں کورونا پھیلانا چاہتے ہیں، مسلمان پورے ملک میں کورونا پھیلانا چاہتے ہیں، یہ تبلیغی ملک میں کورونا پھیلا رہے ہیں،  مسلمان ہندوستان کو اٹلی بنانا چاہتے ہیں، ہندوستان کو اٹلی بنانے کی تبلیغیوں کی سازش ہے اور اسی طرح کے ملتے جلتے اہانت آمیز جملے مسلمانوں اور تبلیغی جماعتوں کے لئے ہندوستانی میڈیا کی طرف سے کہے گئے تھے۔ اسی کے ساتھ تبلیغی جماعت کو جس طرح گندی گندی گالیاں دی گئی تھیں، ان کے سربراہ مولانا سعد کو موٹا چوہا کہا گیا،بل میں چھپنے والا چوہا کہا گیا اور جتنی بھی بدتمیزیاں ہوسکتی تھیں اور غلط زبان کا استعمال اور تبلیغی جماعت کے خلاف ہرزہ سرائی ہوسکتی تھی کی گئی تھی۔ یہ سب ہندی میڈیا، ہندو میڈیا، ہندوتوا میڈیا اور یہاں کا قومی میڈیا نے آئین کی دھجی اڑاتے ہوئے اور آئین کو پامال کرتے ہوئے کیا تھا جس میں حکومت کی شہہ بھی شامل تھی۔ اس کا ثبوت وزارت کی میڈیا بریفنگ ہے جس میں ہر روز تبلیغی جماعت کا نام لیا جاتا ہے حالانکہ یہ سارے دعوے جھوٹے نکلے تھے،، اب کہاں چلے گئے روز ٹی وی پر آکر بریفنگ دینے والے، اللہ نے ان کو بھی کورونا سے نوازا ہے اور اس کے سرغنہ کو بھی کورونا نے ’آشیرواد‘ دیا ہے اور کورونا نے اپنی فیاضی اترپردیش کے دو وزیر پر بھی دکھلائی، مرکزی حکومت کے چار وزراء پر بھی کورونا نے مہربانی کی۔ کورونا جہاد کہنے والے ٹی وی چینل کے ایک بڑے عملہ کو کورونا نے اپنی زد میں لے لیاجس کے نتیجہ میں اس چینل کو اپنا آفس بند کرنا پڑا اور کسی اور جگہ سے کام کرنا پڑا۔ایسے تمام میڈیا، انتظامیہ اور ایسی سوچ رکھنے والے لیڈروں پر بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کا فیصلہ زناٹے دار طمانچہ ہے۔یہاں کے اکثریتی سماج پر بھی ایک طمانچہ ہے جو اپنے سامنے ہونے والے واقعات کو نہیں دیکھتے بلکہ میڈیا جو دکھاتا ہے وہی دیکھتاہے۔حقیقی بات یہ تھی کہ 1700سے زائد غیر ملکیوں میں سے صرف 66کی رپورٹ پوزیٹیو آئی تھی جو چند دنوں کے بعد نگیٹیو ہوگئی تھی، ا ن میں سے صرف دو کا انتقال ہوا تھا۔جب کہ وزارت صحت کی رپورٹ میں ہزاروں کی تعداد بتائی گئی تھی۔ان تمام لوگوں کو جیل میں بند،یاگوشہ تنہائی میں رکھ دیا تھا جن لوگوں نے تبلیغی جماعت میں شرکت کی تھی اور پورے ملک میں ان کا جینا دوبھر کردیا گیا تھا۔حالانکہ کئی ملکی تبلیغی اراکین کا کورنٹن سنٹر میں علاج نہ کرکے قتل کیا گیا۔ دوسری بیماری سے ترپٹے رہے لیکن ڈاکٹروں نے انہیں دیکھنے یا علاج کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔اپنے شوہر کے ساتھ تبلیغی جماعت میں شامل ہونے والی غیر ملکی خاتون جو حاملہ تھی، اسے ملک کے ایک بڑے اخبار نے بدکردار ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی۔اپریل، مئی، جون تک تبلیغی جماعتوں ہندوستان ذلت ترین مرحلے سے گزرنا پڑا۔ میڈیا اس طرح مسلسل پروپیگنڈہ کیا کہ مسلمان بھی تبلیغی جماعت کو قصوروار قرار دینے لگے تھے۔
بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ٹی وی نلوڈے اور جسٹس ایم جی سیولیکر نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”ان غیر ملکی مہمانوں کے خلاف ٹی وی میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا میں جم کرپروپیگنڈہ کیا گیا، دہلی کے مرکز میں آئے ہوئے لوگوں کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش ہوئی کہ یہ غیر ملکی  ہندوستان میں کورونا پھیلانے کے ذمہ دار ہیں اور اگر اس کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لوگوں کو اذیت دی گئی۔ان لوگوں کی سرگرمی سے کہیں سے پتہ نہیں لگتا کہ یہ لوگ تبدیلی مذہب کے لئے آئے ہیں، اسلام مذہب میں شامل کرانے آئے ہیں، اس کی زبان بھی ہندی یا اردو بھی  نہیں ہے، یہ الگ الگ زبانوں عربی، فرینچ وغیرہ بولتے ہیں“۔کورٹ نے اعتراف کیا کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، کورٹ نے کہا کہ کوئی حکومت وبا، قدرتی آفات کے وقت قربانی کا بکرا تلاش کرتی ہے اور حالات بتارہے ہیں کہ شاید ان غیر ملکیوں کو بھی قربانی کا بکرا بنایاگیا۔ ''ہندوستان میں انفیکشن سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ درخواست گزاروں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے تھی۔'' غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تلافی کے لئے مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔’اتیتھی دیوو بھوا‘کی عظیم روایت پر عمل کرنے کے بجائے غیر ملکی مہمانوں پر ظلم کیا“ عدالت نے کہاکہ ہماری ثقافت میں ’اتیتھی دیوو بھوا‘کی کہاوت مشہور ہے، جس کا مطلب ہے کہ مہمان ہمارے بھگوان جیسے ہیں۔ مگر موجودہ حالات نے اس پر یہ سوال کھڑا کردیاہے کہ کیا ہم واقعی اپنی اس عظیم روایت اور ثقافت پر عمل کر رہے ہیں؟“
58صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس ٹی وی نلوڈے اور جسٹس ایم جی سیولیکر کی ڈویژن بنچ نے کہا”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت نے سیاسی مجبوری کے تحت کام کیا اور پولیس نے بھی ضابطے کے مطابق ٹھوس قوانین کی دفعات کے تحت ان کو دیے گئے اختیارات کو استعمال کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ایک وبائی بیماری یا آفت کے دوران ایک سیاسی حکومت بلی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ان غیر ملکیوں کوبلی کا بکرا بنانے کے لئے منتخب کیا گیا“۔جسٹس نلوڈے، جس نے فیصلہ لکھا، نے کہا،ریکارڈ پر پیش کردہ مذکورہ بالا مواد سے پتہ چلتا ہے کہ ویزا کی حالیہ تجدید شدہ مینوئل کے تحت بھی، غیر ملکیوں پر مذہبی مقامات کی زیارت اور مذہبی گفتگو میں شامل ہونے جیسے مشترکہ مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔کسی بھی معاملے میں، یہاں تک کہ ریکارڈ سے بھی، اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ غیر ملکی شہری دوسرے مذہب کے لوگوں کو اسلام میں تبدیل کرکے دین اسلام کو پھیلارہے ہیں۔ مذکورہ بالا بحث کے پیش نظر، یہ کہا جاسکتا ہے کہ غیر ملکی تبلیغی جماعت کی بہتری کے بارے میں خیالات جاننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


واضح رہے کہ 29 غیر ملکیوں کے خلاف آئی پی سی اور غیر ملکی قوانین کی خلاف ورزی،ٹورسٹ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے الزام لگا یا تھا کہ ان افراد نے تبلیغی جماعت کے دہلی میں واقع مرکز میں ایک پروگرام میں شرکت کرکے ٹورسٹ ویزا کی خلاف ورزی کی ہے۔پولیس نے ان 29 غیر ملکیوں کے علاوہ انھیں سہارا دینے والے 6 ہندوستانی شہریوں اور مسجد کے ٹرسٹیوں کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے ان پر بھی مقدمہ درج کیا تھا۔تمام درخواستوں گزاروں کو جنھیں پولیس نے مختلف مقامات سے مساجد میں رہنے اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ا درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اور قانونی طور پر دیے گئے ویزا کے تحت ہندوستان آ ے تھے۔ انھوں نے عدالت میں یہ بھی دلیل دی کہ جب وہ ہندوستان پہنچے تو ا ن کی کووڈ۔ 19 کی جانچ کی گئی اور وہ نیگیٹو تھی جس کے بعد ہی انھیں ہوائی اڈے سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے ضلع احمد نگر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھی آگاہ کیا تھا۔23 مارچ کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے، گاڑیوں کی آمدورفت رک گئی۔ ہوٹل اور لاجز بند کردیئے گئے تھے، لہذا انہیں مساجد میں پناہ دی گئی۔ وہ ضلع کلکٹر کے حکم کی خلاف ورزی سمیت غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بھی، انہوں نے معاشرتی دوری کے اصولوں پر عمل کیا۔ ان کا موقف ہے کہ جب ویزا دیا گیا تھا، لیکن ان سے اپنے دوروں کے بارے میں مقامی حکام کو آگاہ کرنے کے لئے نہیں کہا گیا تھا، لیکن انہوں نے حکام کو آگاہ کیا تھا۔ مزید یہ کہ، ویزا کی شرائط کے تحت، مساجد جیسے مذہبی مقامات پر جانے کی ممانعت نہیں تھی۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تین الگ الگ معاملہ میں پانچ غیر ملکی وائرس سے متاثرہ پایے گئے تھے۔درخواست گزاروں پر دفعہ 188، 269، 270، 290 کے تحت دفعہ 37 (1) (3) آر / ڈبلیو، مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کے 135 اور مہاراشٹر کووڈ 19، پیمائش اور قواعد، 2020  11، وبائی امراض ایکٹ، 1897 کی دفعہ 2 (3) اور 4، غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 (بی)، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے سیکشن 51 (بی) درج کیا گیا تھا۔
بمبئی ہائی کورٹ کے اورنگ آباد کی ڈویژن بینچ کے تبلیغی جماعت کے بارے میں کئے گئے فیصلے کا جمعےۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے جمعیۃ علمائے ہند کے تبلیغی جماعت کے بارے میں اپنائے گئے انتظامیہ کے رویے اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے میڈیا کے خلاف اختیار کئے گئے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے سلسلے میں اپنائے جانے والے انتظامیہ کے مبینہ متعصبانہ رویہ اور میڈیا کے زہریلا پروپیگنڈہ کی وجہ سے جمعیۃ علمائے ہند نے میڈیا کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جو ابھی زیر سماعت ہے۔ جمعےۃ علمائے ہند کا نظریہ رہا ہے کہ میڈیا کو ملک کی یکجہتی، سماجی آہنگی، بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور ہندو مسلم کے درمیان منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ملک کے میڈیا ایک طبقہ ہر واقعہ کو مذہبی رنگ دینے، ہندو مسلم کے اتحاد کو تار تار کرنے، مسلمانوں کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش کرتا رہا ہے۔ مارچ اور اپریل میں کے مہینے میں تبلیغی جماعت کے سلسلے میں میڈیا کا رویہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔میڈیا کا ایک طبقہ جان بوجھ کر کورونا کے بہانے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔ اس لئے اگر بے لگام اور غیر ذمہ دار میڈیا پر شکنجہ نہیں کسا گیا تو یہ ملک کے لئے تباہ کن ہوگا۔
 تبلیغی جماعت کے سلسلے میں اپنائے جانے والے انتظامیہ کے مبینہ متعصبانہ رویہ اور میڈیا کے زہریلا پروپیگنڈہ کی وجہ سے جمعیۃ علماء ہند نے میڈیا کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کررکھی ہے جس پر اگلی سماعت 26 اگست کو متوقع ہے۔مولاناسید ارشد مدنی نے تبلیغی جماعت کے خلاف انتظامیہ اور میڈیا کے پروپیگنڈہ کے خلاف سب سے پہلے میدان میں آئے ہیں اور فوری طور پر بیان جاری کرکے تبلیغی جماعت اور اس کے ارکان کی حمایت میں عملی طور پر کھڑے ہوئے اور اس ضمن میں انتظامیہ سے بھی بات کی تھی اور پورے ملک بھر میں پھیلے جمعیۃ کے اراکین کو تبلیغی جماعت والوں کی مدد کے لئے ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد پورے ملک کے جمعیۃ اراکین نے پھنسے ہوئے تبلیغی جماعتوں کی نہ صرف کھانے پینے، رہن سہن اور قانونی مدد کی جس کی وجہ سے ہریانہ،سہارن پور سمیت متعدد مقامات سے تبلیغی جماعت والے بری ہوئے۔تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے حق میں مولانا ارشد مدنی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس وقت جب کوئی منہ کھولنے کے لئے تیار نہیں تھا مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کے خلاف میڈیا کے پروپیگنڈہ کے خلاف عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا اور درجنوں چینلوں اور اخبارات کو عدالت میں گھسیٹ لیا، جس کی وجہ سے میڈیا کا رویہ بدلا اور ان کو اپنے متعدد ٹوئٹ حذف کرنے پڑے اور معذرت کا اظہار بھی کیا۔اس مقدمہ کو ملک کے معروف و مشہوروکیل دشینت دوے لڑ رہے ہیں۔


 دراصل حکومت میڈیا کا سہارا لیکر مسلمانوں کو سزا دینا چاہتی تھی خاص طور پر قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آرکے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مسلمانوں کو، جس کی طرف معزز جج صاحبان نے بھی اشارہ کیا ہے۔ مسلمانوں میں اس احتجاج کے بعد کسی حد تک خوف کم ہوگیا تھااپنی بات مضبوطی کے ساتھ پیش کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے حکومت مسلمانوں کو سزا دینا چاہتی تھی اور تبلیغی جماعت کو بلی کا بکرا بناکر حکومت نے یہ کھیل کھیلنا شروع کیا۔اشتعال اور نفرت کی فضا پورے میں قائم کی گئی، سارے ہندوؤں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس ملک میں کورونا مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں۔ یہ پیغام شہر شہر ہی نہیں دوردراز کے گاؤں تک پہنچ گیا اور سیکڑوں گاؤں نے راستے بند کردئے تاکہ مسلمان یہاں سے گزر نہ سکیں اور گاؤں دیہات میں مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جانے لگا اور پورے ملک میں مسلمانوں سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد متعدد واقعات ہوئے، سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور خاص طور پر ان نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا جن کا کہیں سے بھی تعلق سی اے اے کے خلاف تحریک سے تھا۔کیا اس فیصلے کے بعد ہندوستانی میڈیا، ہندی میڈیا، ہندو میڈیا، ہندوتوا میڈیا کو ذرا بھی شرم آئے گی، تبلیغی جماعت اور مسلمانوں سے معافی مانگیں گے؟ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے تو اپنا کام کردیا ہے، حکومت، میڈیا، ہندوسماج کب اپنا کام کرے گا۔

 

Comments