دہلی فسادات چارج شیٹ : مقتول ہی قاتل ٹھہرے

عابد انور

Thumb

دہلی فسادات پہلے بھی جگ ظاہر تھے اب بھی ہیں کل بھی رہیں گے۔اگر ہندوتوا نظریہ کے حامل پولیس، عدالت، مقننہ، انتظامیہ اور میڈیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کے چھپالینے سے معاملہ چھپ جائے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ شتر مرغ کے ریت میں سر چھپالینے سے اور اس کا یہ سمجھ لینا طوفان نہیں آیااس سے بڑی بے وقوفی کیا ہوگی۔ دنیا ایک گاؤں کی شکل میں ہے، گاؤں والوں کو بھلے ہی کسی واقعہ کے بارے میں معلوم نہ ہو لیکن دنیا کو معلوم ہوجاتی ہے۔ ہندوستان کے ہندوتو ا کے علمبردار پولیس، عدلیہ، مقنننہ، انتظامیہ اور میڈیا نے مسلمانوں پر ظلم کو روا رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنے اور اسے چھپانے میں کوئی کسر اٹھاکر نہیں رکھی۔ ان کی کوشش حتی الامکان یہی رہی کہ کسی کو معلوم نہ ہو اور وہ مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہیں اور ان طاقتوں نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن اور اذیت ناک بنانے کے لئے سارے سسٹم کو اپنے ساتھ ملالیا۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے انصاف کا حصول جوئے شیر لانے یا گولر کے پھول کے مترادف ہوگیا۔ مسلمانوں کو قتل عام، مسلم عورتوں کی آبروریزی کی سرے عام دھمکی دینے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ہے اور حکمراں طبقے سے لیکر سرکاری و غیر سرکاری افراد، صحافی، سابق فوجی اور مختلف شعبائے حیات سے وابستہ افراد روزانہ میڈیا اور سوشل میڈیا مسلمانوں کی دھمکی اور دل آزاری کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی مسلمان اس کا جواب دیتا ہے سنگین دفعات کے تحت ان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔تمام دل آزار حرکتوں پر نظر رکھنے کیلئے محکمہ موجود ہے لیکن محکمے کی ہمت نہیں ہوتی کہ ہندوتوا کے حامل شرپسندوں کے خلاف معاملہ درج کرے۔ بہت دباؤ کے بعد اگرکسی کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے تو ایسے کمزور دفعات لگائے گئے کہ یا تو ان کو تھانے سے ضمانت مل گئی اور عدالت سے ضمانت مل جاتی ہے۔ بعض اوقات پولیس جان بوجھ کر کوئی ثبوت ہی پیش نہیں کرتی اور بعض اوقات عدالت کا رویہ ایسے شرپسندوں کے ساتھ انتہائی مشفقانہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سی اے ے مخالف مظاہرین پر گولی چلانے والا کپل گوجر اور رام بھکت گوپال کو فوراً ضمانت مل جاتی ہے۔ یہ لوگ بی جے پی کے ایم  پی، لیڈراور ایک مرکزی وزیر کے دیش کے غداروں کو گولی مارو.....کے نعروں اور اکسانے کے بعد شاہین باغ اور جامعہ میں فائرنگ کی تھی۔
کپل مشرا، راگنی تیواری اور دیگر درجنوں ہندو انتہا پسندں کے اشتعال انگیز کے بیان کے بعد دہلی فسادات ہوئے تھے۔ فسادات پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ فسادت اسٹیٹ اسپانسرڈ تھا۔جس کے ثبوت میڈیا اور سوشل میڈیا میں گشت کر رہے تھے اور فسادات کے دوران پولیس کا یہ کہنا کہ فسادیوں کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں ہے اور پولیس نے نہ صرف مسلمانوں کے جان و مال کو نقصان پہچانے میں فسادیوں کی مدد کی اور کئی جگہ راست طور پر ملوث پائے گئے۔ فسادات کے دوران مسلمانوں کے سیکڑوں مکانات، دکان اور دیگر اداروں کو تباہ کردیا۔ 53میں سے 40مسلمان مارے گئے۔ پھر مسلمانوں کی بے دریغ گرفتاری ہوئی۔ تقریباً ڈھائی ہزار سے زائد مسلما نوں کو گرفتار کیا گیا اور پولیس اور انتظامیہ نے مسلمانوں کے ہاتھ پیر توڑ کر اور انسانیت سوز اذیت دیکر وہ کسر پوری کرلی جو فسادات کے دوران کرنے سے رہ گئی تھی۔ دہلی پولیس نے جو چارج شیٹ(بیشتر) داخل کئے ہیں وہ ان میں زیادہ تر مسلمانوں کو ہی اس کا قصور وارٹھہرایا ہے۔دوسرے لفظوں میں کہیں تو مسلمانوں نے خود ہی اپنا قتل کیا ہے، خود ہی اپنے مکانات اور دوکان اور دیگر کاروباری ادارے جلائے ہیں۔ ہندوستان کے متبادل میڈیا میں اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے لیکن مین اسٹریم میڈیا (جسے گودی میڈیا یا مودی میڈیاکہا جاتا ہے)میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔ یہ اچھی بات ہے ہندوستان سے باہر بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹ واچ  دیگر تنظیموں نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔اس کے علاوہ دہلی اقلیتی کمیشن نے حالیہ دنوں میں اپنی رپورٹ جاری کرکے پولیس کی جانچ، فسادات کے دوران پولیس کا کردار، چارج شیٹ وغیرہ پر سوالیہ نشان لگائے ہیں اور اپنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ جاری کی ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ”ددہلی اقلیتی کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ شہادتوں میں، پولیس افسران کے خلاف جسمانی زیادتی اور بدسلوکی سمیت براہ راست تشدد میں ملوث ہونے کے واضح الزامات لگائے گئے ہیں اور کچھ معاملات میں شکایت کرنے والے متاثرین کو ہی گرفتار کرلیا گیا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جہاں انہوں نے نامزد افراد کے خلاف شکایت درج کروائی یا اس کی کوشش کی۔ نامزد ملزمین کے خلاف شکایات کی مناسب تحقیقات کے بغیر چارج شیٹ داخل کرنے سے جہاں تفتیش کی غیر جانبداری اور مقصدیت کے بارے میں شبہہ پیدا ہوتا ہے وہیں دہلی پولیس کے ذریعے مجموعی طور سے تشدد کے بارے میں ایک نیا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کا اندازہ بھی ہوتا  ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہادتیں بتاتی ہیں کہ مسلم خواتین پر ان کی مذہبی شناخت کی بنا پر حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے حجاب اور برقعے اتار دیئے گئے تھے۔ خواتین کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس فورسز اور پرتشدد ہجوم نے احتجاجی مقامات پر حملہ کیا، خواتین پولیس اہلکاروں نے  ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور ہجوم کے ذریعے ان پر حملہ ہوا۔ خواتین نے بھیڑ کے ذریعے تیزابی حملوں اور جنسی تشدد کی دھمکیوں کی مثالیں بھی بیان کیں۔آزادانہ جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت کو خصوصی تشکیل کے ذریعے ایک پانچ رکنی آزاد کمیٹی تشکیل دینا چاہئے۔ اس کمیٹی کی سربراہی ہائیکورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی ہوگی، اور اس میں 1) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنزجج، 2) ایک سینئر ایڈوکیٹ، 3) ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار، جو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے عہدے سے کم نہ ہو اور جس نے دہلی پولیس میں خدمات انجام نہ دی ہوں، اور 4)  اچھی شہرت رکھنے والے ایک سول سوسائٹی کا رکن بطور ممبر ہوں گے۔ سربراہ اور ممبروں کے انتخاب میں امیدواروں کی مناسبیت کا اندازہ مندرجہ ذیل معیارات کے مطابق کیا جانا چاہئے: (i) ذاتی دیانتداری کا عمدہ ریکارڈ، (ii) انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے ثابت عزمی، اور (iii) قانون اور اس سے متعلق کاروائیوں کا علم ہو۔“
امریکہ نشیں ہیومن رائٹس واچ نے بھی دہلی تشدد میں پولیس کی ناکامی اور جانبدار انکوائری کا دستاویزی کیا ہے۔ تشدد اور پولیس تشدد کی غیر جانبدارانہ جانچ کرنے کی جگہ پولیس اب طالب علموں کو، کارکنوں اور حکومت کے دیگر ناقدین کو گرفتار کرنے کے لئے انسداد دہشت گردی اور غداری جیسے سخت قوانین کا استعمال کر رہی ہے۔ دہلی پولیس نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فرقوں سے "تقریبا یکساں تعداد میں " لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس نے گرفتاری کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا ہے۔تشدد کی تفصیلات، انتظامیہ کی ملی بھگت اور کارکنوں کو دھمکی دینا اور ان کا ظلم و ستم ہندوستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کی پچھلے واقعات کی طرح ہی ڈرانے والا ہے۔ 2002 میں گجرات میں ہوئے مسلم مخالف تشدد کے کئی گواہوں نے بتایا تھا کہ پولیس نے یا تو ان کے فون کا جواب نہیں دیا یا یہ کہا کہ " ہمارے پاس آپ کو بچانے کے لئے کوئی حکم نہیں ہیں۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کے لئے انصاف کی فراہمی میں ناکامی کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف مزید مظالم اور ہندوستان کے مجرم انصاف کے نظام میں گہرا عدم اعتماد پیدا ہوا ہے۔ حکومت کو شہریت پالیسیوں کی پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف سیاسی طور پر حوصلہ افزا الزامات کو فوری طور پر واپس لینا چاہئے، اس نئی رپورٹ کی سفارشات کو لاگو کرنا چاہئے اور پولیس تشدد سمیت دہلی تشدد کی فوری، قابل اعتماد اور منصفانہ فوجداری تحقیقات یقینی کرنی چاہئے۔

 اس سال کے شروع میں ملک کے دارالحکومت دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات پر سوالات کھڑے کیے جانے لگے ہیں اور اسی سلسلے میں مختلف شعبوں کی نامور شخصیات نے منصفانہ تحقیقات کے لئے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔نامور وکیل پرشانت بھوشن، سماجی کارکن ارونا رائے، للت کلا اکیڈمی کے سابق صدر اشوک واجپئی، پرسار  بھارتی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر جواہر سرکار، سابق گورنر پنجاب کے مشیر جولیو ربیریو اور سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ سمیت 72 مشہور شخصیات نے مسٹر کووند کو خط لکھا ہے اور دہلی فسادات میں پولس کی تحقیقات پر سوال اٹھایا ہے۔خط میں صدر جمہوریہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور دہلی تشدد کی تحقیقات کسی غیر جانبدار ایجنسی سے کرانے کا حکم دیں۔خط میں لکھا گیا ہے کہ دہلی پولس نے فسادات کی  تفتیش کے لئے تین خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، لیکن خود پولس کو ان فسادات کی حمایت کرنے کے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے دہلی فسادات کی تحقیقات کسی  دیگر غیر جانبدار ایجنسی کے ذریعہ کی جانی چاہئے۔آٹھ صفحات پر مشتمل خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی پولس اہلکار اس تشدد میں ملوث ہیں اور   متعدد ویڈیو کلپ سے اس کی گواہی ملتی ہے۔ان مشہور شخصیات نے بتایا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ پولس نے پتھراؤ بھی کیا تھا اور اس سے قبل سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑے گئے تھے۔ آج تک مجرم پولس افسران کے خلاف شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہونا  پولس کی ملی بھگت کا واضح اشارہ ہے۔خط میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ پولس   بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ملزم لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔
مذہبی آزادی سے متعلق ایک امریکی ادارے(یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ”حکومت کی طرف سے دبانے، دہلی کے مسلم مخالف فسادات میں پولیس کا جانبدارانہ رویہ، بی جے پی رہنماؤں اور بعض وزراء  کے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز بیانات اور بڑے پیمانے پر ہجومی تشدد کے واقعات کو شامل کیا گیا ہے۔امریکی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ  2019 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ”اقلیتوں کے خلاف تشدد کی کھلی چھوٹ اور ان کے مذہبی مقامات کو بلا روک ٹوک نشانہ بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز اور تشدد کو بھڑکانے والے بیانات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے بلکہ اس کے رہنما بھی اس میں ملوث ہیں۔''یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہندوستانمیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پولیس نے ان نوجوان مسلم طلبہ و طالبات کو گرفتار کیا ہے جو شہریت قانون کے خلاف تحریک میں روح رواں تھے۔ شرجیل امام، عمر خالد، صفورہ زرگر (اب ضمانت پر)اور میران حیدر یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالرز ہیں اور ان سب کو دلی کے ان فسادات کی سازش کے لیے گرفتار کیا گیا ہے جو اصل میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہوئے تھے۔ انہیں ملک سے بغاوت اور ایسے سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے کہ ان پر مقدمہ چلائے بغیر برسوں جیلوں میں رکھا جا سکتا ہے۔
راجدھانی اسکول چلانے والے فیصل فاروقی، کونسلر طاہر حسین ان کے جیسے ہزاروں لوگوں کو جو درحقیقت وکٹمس ہیں اوراسے مجرم بناکر پیش کردیا اور عدالت کا بھولا پن تو دیکھئے پولیس کی تھیوری پر پوری صدق دلی سے ایمان لے آتی ہے۔اس کے پنجر توڑ گروپ کے دیوانگنا کلیتا اور نروال کو محض سی اے اے کی مخالفت کرنے کی بنیاد غیر قانونی سرگرمی انسداد ایکٹ (یواے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل میں ًٹھوس رکھا ہے۔ اسی طرح جعفرآباد کی ایم بی اے کی طالبہ گلفشاں، کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں اور درجنوں طلبہ و طالبات کو اس ایکٹ کے تحت جیل میں بند کر رکھا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان موجودہ حکومت کے کورونا کو مسلمانوں کے خلاف ایک موقع کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کریں اور دنیا کو بتائیں گے حکومت کا رویہ کیا ہے۔ اگر اس وقت نہیں نکلے تو کل سب کی باری آئے گی۔

Comments