ہندوستان کی غلیظ سیاست میں سونیا گاندھی

عابد انور

Thumb

ہندوستان میں بہت سی قومیں حملہ آور ہوئیں ان کے حملے کی نوعیت منفرد تھی مقصد جدا تھا مگر جس نے بھی حملہ کیا انہوں نے یہاں کے اصل باشندوں کو غلام بنالیااور ان کے ساتھ انتہائی وحشیانہ سلوک کیا گیا  جیسے کہ آرین آئے تو انہوں نے یہاں کے اصل باشندوں کونہ صرف غلام بنایا بلکہ انہیں تمام انسانی حقوق سے محروم کردیا۔ آزاد ہندوستان میں بھی یہ قوم غلام کی طرح رہ رہی ہے، آج بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کئے جاتے ہیں جوپہلے کئے جاتے تھے۔ اس طرح غیر انسانی سلوک کیا گیا کہ تاریخ میں جا بجا اس کے حوالے ملتے ہیں اور مسلمان بھی حملہ آور کی حیثیت سے یہاں آئے تو وہ نہ صرف یہاں گھل مل گئے بلکہ بہت سی ہندوستانی رسم و رواج کواپنایا اور اپنے اقتدار میں ہندوؤں کو شامل کیا اور اپنی کابینہ میں بڑے بڑے عہدے ان کو دئے۔ ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں وہ مصروف رہے لیکن جب انگریز آئے تو انہوں نے یہاں لوٹنا شروع کیا اور انہوں نے دونوں قوم جو ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہتے آرہے تھے دونوں کو لڑاکر اپنی حکومت کرتے رہے اور یہاں کی تمام بیش بہاقیمتی اشیاء لوٹ کر لے گئے اور لندن کے میوزیم کی زینت بنا دیا۔ ہندوستان نے ہمیشہ باہر کے لوگوں کا خوش دلی سے استقبال کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی رہی تھی کہ یہاں کے عوام یہاں کے رجواڑوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے رہے اور ان لوگوں نے یہاں کے لوگوں کو جم کر لوٹا اسی لئے جب مسلمان مختصر سی فوج کے ساتھ دفاع کے لئے آئے تو سندھ کے لوگوں نے ان کا زبردست استقبال کیا تھا یہاں تک جب محمد بن قاسم نے دیکھا کہ لوگ جوق درجوق مسلمان ہورہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پہلے اسلام کو جانوپھر اسلام قبول کرو۔ کسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ 
محترمہ سونیا گاندھی ایک بارپھر کانگریس کی عبوری صدارت کی کرسی پر براجمان ہیں۔ وہ اپنے بیٹے راہل گاندھی کے استعفی دینے کے بعد عبوری صدر بنی ہیں۔ کانگریس کی تاریخ میں وہ پہلی شخصیت ہیں اور سب طویل عرصہ تک اس عہد ہ پر رہنے والی بھی۔وہ ہمیشہ بلامقابلہ منتخب کی گئیں۔اپنے انتخاب کے بعد انہوں نے کہا تھا  ”ہم لوگوں کوہمیشہ ہی دبے کچلے لوگوں کیلئے کام کرنا چاہیے خواہ ہم اقتدار میں رہیں یا نہیں۔حقیقت بھی ہے کانگریس صدر مہنگائی اور دوسرے مسائل کے تئیں جتنی فکر مند ہیں اس طر اس کی حکومت نہیں ہے۔مخلوط حکومت کا سب سے نقصان دہ پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ وزیر اعظم کنٹرول میں کوئی وزیر نہیں ہوتا۔مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ وزراء کے درمیان تال میل کی کمی ہے۔
سونیا گاندھی کو سیاست میں قدم رکھے تقریبا سے 23سال عرصہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے 1997میں کلکتہ میں کانگریس کے پلینری سیشن میں پارٹی کی ابتدائی ممبر شپ لی تھی اور 62دنوں کے بعد 1998میں کانگریس کی صدر بنائی گئی ہیں۔ وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی تھیں اور راجیو گاندھی کو بھی دور رکھنا چاہتی تھیں لیکن حادثات نے ہندوستانی سیاست کے غلیظ دلدل میں پھنسادیا۔پارٹی کو بچانے کے لئے وہ سیاست کے میدان میں آئیں اور کانگریس کی صدر منتخب ہوئیں اور کبھی کبھی انہوں نے تہذیب کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ان کی شناخت پوری دنیا میں باوقار خاتون کے طور پر ہونے لگی لیکن ابھی تک یہاں کے فرقہ پرست اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی سیاسی پارٹیوں نے اسے دل سے قبول نہیں کیا ہے جب انہیں موقع ملتا ہے کیچڑ اچھالنا نہیں بھولتی اور وہ نہیں کرتی ہے تو اپنے چمچوں سے بدتمیزی کا طوفان کھڑا کرواتی ہے۔ ارنب گوسوامی کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حالانکہ انہوں نے کبھی بھی ان لوگوں کیلئے غیر مہذب زبان کا استعمال نہیں کیا لیکن ان پارٹیوں اور تنظیموں نے کبھی بھی تہذیبی دائرے کا خیال نہیں رکھا یہاں تک یہ بھی نہیں سوچا کہ ایک عورت کے بارے میں کس طرح کی رائے اور کس طرح کی زبان استعمال کرنا چاہئیے۔ پہلے تو محترمہ گاندھی سیاست میں داخل ہونا نہیں چاہتی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بغیر کانگریس ٹوٹ اور بکھر جائے گی تو انہوں کانگریس کی کمان سنبھالنے کے لئے تیار ہوئیں۔ جب سنجے گاندھی کا ہوائی حادثہ میں موت ہوئی تھی اور اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی راجیو گاندھی کو سیاست میں لانے کے بارے میں فیصلہ کیا تو اس وقت بھی انہوں نے اپنے شوہر کے سیاست میں آنے کی سخت مخالفت کی تھی۔وہ چاہتی تھیں کہ وہ سارا وقت اپنے بچوں کودیں اور وہ سیاست کے پیچ و خم میں پڑنا نہیں چاہتی تھیں۔ خود سیاست میں انہوں نے اس وقت قدم رکھا جب ان کے بچے بڑے ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے کہ فرقہ پرست پارٹی نے کبھی بھی انہیں ایک ہندوستانی کی حیثیت سے قبول نہیں کیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری سیاست میں تمام مخالفتوں، سیاسی بدتمیزیوں طعن و تشنیع کے باوجود اپنے بڑھتے قدم واپس نہیں کھینچے۔ 
محترمہ سونیا گاندھی نے نہرو خاندان کے وقار کا لحاظ رکھتے ہوئے ہمیشہ بدتمیزی کی سیاسی طوفان کا جواب تمکنت اور وقار سے دیا۔ یہاں تک جب گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے جب ان کے بیٹے اور موجودہ کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی اور بیٹی پرینکا کے بارے میں بیہودہ الفاظ استعمال کئے تو اس وقت بھی انہوں نے تہذیب و تمدن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔1998میں کانگریس کی صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے والی محترمہ گاندھی نے کانگریس کی کمان ایسے وقت میں سنبھالی تھی جب پارٹی کو مختلف محاذوں پرزبردست اندرونی اور بیرونی زبردست چیلنج کا سامنا تھا جہاں ان کے کئی وفادار غیر ملکی شہری کے معاملے پر ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے وہیں اپنوں پر بھی قدم پھونک پھونک کر بھروسہ کرنے والاماحول تھا۔ ان حالات میں انہوں نے نہ صرف پارٹی کو متحد رکھا بلکہ پارٹی سے ہجرت کرنے والوں کو روکنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس وقت کے نائب وزیر اعظم وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی نے انڈیا شائننگ (دمکتا ہندوستان) کے رو میں بہہ کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ کانگریس کی یہ پوزیشن ہوگئی ہے وہ اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کی حالت میں نہیں رہے گی۔ لیکن محترمہ گاندھی نے تمام سیاسی پنڈتوں،سیاسی بازی گروں اور تجزیہ کاروں، ٗفیل گڈ“ کے سیلاب میں خش و خاشاک کی طرح بہہ جانے والے نیوز چینل کے پیشن گوئی کو غلط ثابت کرتے ہوئے اپنی موجودگی اور کرشماتی شخصیت کا احساس بہت خوبصورت انداز میں کرایا۔ کانگریس کی ناگفتہ بہ حالت پر افسوس  ظاہر کرنے  والے کچھ نیوز چینل تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے مفروضہ بڑھتے قدم سے اس قدر،مدہوش ہوگئے کہ اس پارٹی کی سرگرمیوں کو راست ٹیلی کاسٹ کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے بی جے پی صدر دفتر کے سامنے اپنی گاڑی لئے کھڑے رہتے تھے۔ چمچہ گیری اور زرد صحافت کے حامل ان نیوز چینلوں کا بس چلتا تو حوائج ضروریہ کا بھی لائیو ٹیلی کاسٹ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ 

خاتون آہن نے اس باد،مخالف باد صرصر کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو پس ہمت نہیں کیا بلکہ ملک گیر سطح پرکمان اپنے ہاتھ میں لیا اور عوامی رابطہ میں مصروف ہوگئیں۔ 2004میں انجانے خوف سے سہمے ہوئے قومی جمہوری محاذ نے ایک بار پھر محترمہ سونیا گاندھی کے خلاف غیر ملکی شہریت کا موضوع زور و شور سے اٹھانے کی کوشش کی لیکن محترمہ گاندھی نے ایک بہترین سیاست داں کی طرح عام انتخابات سے قبل اپنے ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے کانگریس کو مقابلہ کی پوزیشن میں لاکھڑا کردیا اور عام انتخابات کا نتیجہ سامنے آیا تو سارے تجزیہ کاروں اور سیاسی پنڈتوں کے ہوش اڑگئے اور کانگریس اور اتحادی کو حکومت بنانے کے جادوئی اعداد و شمار مل گئے تھے۔ یہاں بھی محترمہ گاندھی نے اپنے ترپ کا پتہ کھولنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کیا جب تک تمام اتحادیوں نے ان کے ہاتھ پرسیاسی بیعت نہیں کرلی۔ سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہو ئے انہوں نے صحیح وقت پر منموہن سنگھ کا نام پیش کیا۔ یہاں انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے اور کچھ پر بہت بڑا احسا ن بھی کیا۔محترمہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ وہ (محترمہ گاندھی) اگر وزیر اعظم بنتی ہیں تو وہ اپنا سر گنجا کرلیں گی۔ محترمہ گاندھی نے وزات عظمی کی کرسی چھوڑ کر محترمہ سشما سوراج کونہ صرف گنجا ہونے سے بچایا بلکہ طویل مدت تک ہندوستان پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا جس کا اعتراف ان کے بڑے بڑ ے لیڈروں نے بھی کیا۔ یہاں تک کہ وہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کے لائق بھی نہیں رہی علاوہ پارلیمنٹ میں شور و غوغا کرنے کے۔
محترمہ گاندھی کے اس ایثار نے انہیں راتوں رات پوری دنیا میں ”تیاگ کی دیوی“ کی صورت عطا کردی۔ دنیا کے تمام اخبارات میں بڑے بڑے اداریے اور مضامین لکھے گئے۔ امریکہ کی فوربس میگزین نے محترمہ گاندھی کو دنیا کی چھٹی سب سے طاقت ور خاتون قرار دیا۔ ان کا سکہ نہ صرف ہندوستان میں چلا بلکہ دنیا میں عزت و احترام کے طاقت کی شکل میں دیکھی گئیں۔ کی طاقت ور نے بڑی دلیری کے ساتھ کامیابی کے پرچم بلند کئے۔ انہوں گزشتہ چند سال قبل بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش2 اکتوبر کو اقوام متحدہ یوم عدم تشدد کے طور پر منایا گیابلکہ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا۔ جس میں انہوں نے عدم تشدد کی روایت کو بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”انسانیت کی تاریخ میں جنگ تصادم اورتشدد کی جڑیں بہت گہر ی اتری ہوئی ہیں۔تشدد عام ہے اورعدم تشدد استثنا۔انہوں نے کہا کہ میں ایک مشاہد کی یہ بات سن کر حیران رہ گئی کہ پوری دنیامیں جو زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سے شاید کسی زبان میں عدم تشدد کے لئے کوئی ٹھوس یا واضح لفظ نہیں ہے۔اسے ابھی تک ایک تصور کے طور پر نہیں سمجھا گیا بلکہ کسی ایک چیز کی نفی کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ دیگر تصورات کی ضدیں ہیں جیسے جنگ اورامن‘ گناہ اور ثواب‘ نفرت اور محبت۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اگر چہ دنیا کا ہر مذہب عدم تشدد کی تبلیغ کرتا ہے لیکن شاید کسی کے پاس عدم تشدد کو بیان کرنے کے لئے کوئی آزاد‘ واحد لفظ نہیں ہے“۔ان کی تقریر، سلیقہ، جاذب شخصیت سے اقوام عالم کے بٹر ے بڑے لیڈر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں زبردست انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس موقع محترمہ گاندھی نہ صرف ہندوستان کی اہمیت ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ یہ بھی دنیا کے سامنے باور کرادیا کہ ہندوستان میں ایک خاتون کو کتنی عزت و توقیر دی جاتی ہے۔  
اٹلی کے چھوٹے سے شہر تورین کے گاؤں اوواسانیومیں 9 دسممبر1946 کو پیدا ہونے والی سونیا گاندھی کا خاندان متوسط تھا کالج کی تعلیم پوری کرنے کے لئے وہ لندن کے کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھیں۔ وہیں ان کی ملاقات کیمبرج میں تعلیم حاصل کرنے والے راجیو گاندھی سے 1965 میں ہوئی تھی۔ یہ ملاقات آخر کار 1968میں شادی میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے ہندوستانی بہووں کے تمام فرائض انجام دئے وہ کبھی بھی ساس سے نہیں الجھیں اور نہ ہی ساس آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے اختلافات کی خبریں باہر آئیں جس طرح سنجے گاندھی کی بیوہ مینکا گاندھی سے اختلافات جگ ظاہر تھیں۔ راجیو گاندھی کے وزارت عظمی کے دوران وہ سائے کی طرح راجیو گاندھی کے ساتھ رہیں۔ ان کے حلقہ انتخاب امیٹھی کے عوام کو بہو کی شکل نہ صرف قبول کیا بلکہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سونیا گاندھی کو اپنے پلکوں پر سجایا۔ سونیا گاندھی نے1983میں ہندوستان کی شہریت لی تھی حزب اختلافات کے لئے یہی دھار دار ہتھیار تھا اگر ان کو ہندوستان سے محبت ہوتی تو وہ  ہندوستانی کی شہریت حاصل کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کرتیں۔ کانگریس کی صدارت فائز ہونے والی تیسری غیر ملکی خاتون ہیں اس سے پہلے مسز اینی بیسنٹ اور نیلی سین گپتا دو خواتین رہی ہیں جنوں نے کانگریس کی صدارت کی کرسی کو رونق بخشی ہے۔ کانگریس اور نہرو خاندان کو الگ کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور بہت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد زیادہ تر نہرو خاندان کے لوگوں کا ہی اس کرسی پر قبضہ رہا ہے اور محترمہ گاندھی اس عہدہ پر فائز ہونے والی پانچویں رکن ہیں۔ 
سونیا گاندھی کے کرشمے تقریباً گجرات کو چھوڑ کر تمام صوبوں چلے لیکن بہار اور یوپی ایسی ریاست ہے جہاں ایک تہائی ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوکر آتے ہیں وہاں انہوں نے کوئی خاص طاقت نہیں دکھا سکیں اور جب ان کی خامیوں اور کمزور کا ذکر کیا جائے گا ان دونوں ریاستوں کا ذکر ضرور آئے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ جب انہوں نے سیتارام کیسری سے عہدہ صدارت حاصل کیا تو بہار  اور یوپی کانگریس کی حالت کہیں زیادہ خراب تھی گرچہ حالیہ ریاستی انتخابات میں کانگریس کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہوا لیکن ووٹ کے تناسب میں ضرور اضافہ ہوا جو کہ خوش آئند بات ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی کمزور کڑی یہ بھی ہے کہ انہوں نے بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہیں یا مرکزی حکومت بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے صحیح ہدایات جاری نہیں کرسکیں۔ اگر انہوں نے بی جے پی کے دوران حکومت بنیوں کو دی گئی ڈھیل پر نکیل کس لیتیں تو یقینی طور پر ہندوستان کو فلاحی ریاست میں تبدیل کرسکتی تھیں۔ لیکن ایسا نہیں اور یہی صورت حاصل برقرار رہی تو کانگریس کا حشر بی جے پی کے ”فیل گڈ“ کی طرح ہوسکتا ہے۔ محترمہ گاندھی کشادہ ذہنی اعلی ظرفی کا یہ بھی ثبوت ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قد کو کبھی بھی چھوٹا نہیں کیا اور نہ ہی ان کے وقار کے خلاف کوئی بات کہی۔ جس طرح ریموٹ کنٹرول کرنے والے دیگر پارٹی کے لیڈران کیا کرتے ہیں۔ کانگریس کے لئے 2014سے 2019  پریشان کن سال رہے ہیں۔ اسے یہاں کے عوام سے خوف نہیں ہے بلکہ یہاں کے بے ایمان اور احسان فراموش سسٹم سے ہے۔جمہوریت کے سارے ستون سے ہے جو ایمانداری، ذمہ داری، انصاف اور فرائض بھول گئے ہیں۔ہندوستان کی غلیظ سیاست میں راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہاں کے عوام کو قاتل، مکار، جھوٹ بولنے والا، گالی گلوج کرنے والا،بھیڑیا نما انسان اور انسانوں کی زندگی دوبھر کرنے والا لیڈر چاہئے۔حالیہ دنوں میں یہاں کے عوام نے جن لوگوں کو منتخب کیا ہے اسے کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہاں کے لوگوں کا انسان اور انسانیت سے کوئی واسطہ بچا ہے۔
D-64/10 Abul Fazal Enclave Jamia Nagar, Okhla, New Delhi- 110025
Mob. 9810372335
abidanwaruni@gmail.com

Comments

Post a Comment