دہلی حکومت نے تبلیغی مرکز کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی

عابد انور

Thumb

حضرت نظام الدین میں تبلیغی مرکز کے متعلق متضاد خبریں آرہی ہیں۔ دراصل اس کا مقصد اسے بدنام کرنا ہے۔ہندی اور ہندوتو میڈیا کو جس میں ٹی وی چینل اور اخبارات شامل ہیں،کو ایک سنہرا موقع مل گیا ہے کہ اس بہانے وہ مسلمانوں اور مرکز کو بدنام کریں۔ بغیر سوچے سمجھے اور حقیقت کو جانے اس میں مسلمانوں کاکچھ طبقہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب دہلی اور مرکزی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے اس کی جگ ہنسائی ہورہی تھی، دہلی سمیت پورے ملک میں غریب سڑکوں پر تھے، سارے لوگ پریشان حال ہیں اسی دوران مرکز کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ حکومت اور میڈیا نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ تمام ناکامی کو چھپانے کے لئے اس کا رخ مرکز کی طرف موڑ دیا۔ حکومت ایسا ظاہر کررہی ہے کہ سب کچھ پوشیدہ طور پر رہ رہے تھے، جب کہ تمام چیزیں پولیس کے علم تھی۔ پولیس نے مرکز والوں سے سوسل ڈسٹنس بناکر رہنے کو کہا تھا۔ ان میں سے تین سو بعض رپورٹ میں صرف سو غیر ملکی باشندے ہیں جو مختلف ممالک کے ہیں۔ یہ چھ منزلہ عمارت ہے ظاہر سی بات ہے کہ سب ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔ تین سو لوگ جو غیر ملکی تھے واپس بھیجا گیا تھا جو ہوائی جہاز بند ہونے کی وجہ سے پھر واپس آگئے۔ لاک ڈاؤن اچانک کردیا گیا ان لوگوں کو یہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ لوگ اپنے ایمبیسی کے رابطے میں تھے۔ کچھ ایمبیسی میں بھی ہیں۔ مجبوراً انہیں یہیں قیام کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ باقی ماندہ بیرون دہلی کے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ کہیں سفر نہیں کرسکتے تھے۔ اسی طرح ملک بھر میں جماعتیں گئی ہوئی تھیں جو مختلف مسجدوں میں قیام پذیر تھیں۔ یہ کہنا لاک ڈاؤن کے بعد بھی وہ باہر نہیں نکلے، وہ باہر نکل کر کہاں جاتے،لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمد و رفت کے تمام ذرائع بند تھے۔یہ ساری باتیں پولیس کے علم تھی۔ اس کے باوجود اسے بدنام کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ جن لوگوں کو لے جایا گیا ہے ان کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن میڈیا کا ایک بڑا طبقہ کورونا کا مرکز کہنا شروع کردیا ہے۔جب کہ معلوم ہونا چاہئے کہ جو غیر ملکی آتے ہیں اس کا علم وزارت داخلہ اور خارجہ کو ہوتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ان لوگوں کو بھیجنے کا انتظام کرتی، جسے اس نے پوری نہیں کی، مرکز والے انتظامیہ کے بھی رابطے میں تھے۔لاک ڈاؤن کے سبب وہ مرکز میں رہنے کو مجبور تھے۔ جو لوگ انہیں عقل سے پیدل قرار دے رہے ہیں کیا وہ یا ان کی جماعت ان لوگوں کو اپنے کیمپس یا گھروں میں پناہ دیتی۔کیا وہ لوگ مزدورں کی سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں کھاتے، ذلیل ہوتے۔ مسائل کو سمجھے بغیر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ 


دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز سے کورونا وائرس کے معائنے کے لئے 200 کے قریب افراد کو دہلی کے مختلف اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ بیرون ملک سے لوگ بھی اس مرکز  میں تھے۔  اب دہلی حکومت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مرکز کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو سیل کردیا ہے۔ پولیس ڈرون کے ذریعے پورے علاقے کی نگرانی کررہی ہے۔نظام الدین کیس سے متعلق دہلی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 24 مارچ کو ملک بھر میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ہاسٹلز اور اس طرح کے اداروں کے مالکان اور منتظمین کی ذمہ داری تھی کہ وہ معاشرتی فاصلے  (سوشل ڈسٹنس) کو پوری طرح سے  نافذ کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں اس کی پیروی نہیں کی جارہی ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں کورون وائرس سے متعلق جاری کردہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے بہت سی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ سربراہ کا یہ فعل مجرمانہ ہے۔ منتظمین نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔  نظام الدین کے علاقے میں لگ بھگ 2000 افراد کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو دہلی کے دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے سری نگر میں ایک ہلاکت کا تعلق سامنے آ رہا ہے۔
دریں اثنا، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، دہلی میں کورون وائرس کے انفیکشن کے 25 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ دہلی میں کورونا مثبت مریضوں کی تعداد اب بڑھ کر 97 ہوگئی ہے۔ دریں اثنا، دہلی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور ہجرت کو روکنے کے لئے دہلی بارڈر کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ڈی سی اور ڈی سی پی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے علاقے میں کوئی سڑکوں پر نہ آئے اور فرار نہ ہو۔
جنوب مشرقی دہلی کے نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کے مرکزسے کورونا وائرس کے انفیکشن کے  200 مشتبہ افراد کو  جانچ کے لئے  مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جبکہ تقریباً 1200 لوگ اب وہاں موجود ہیں جنہیں نکالا جا رہا ہے۔مرکز کے 300 لوگوں کو کورونا وائرس کے تعلق سے  مشتبہ مانا جا رہا ہے۔ یہ سردی، زکام، کھانسی وغیرہ میں مبتلا ہیں۔لاک ڈاؤن سے پہلے مرکز میں تقریباً دو ہزار لوگ موجود تھے لیکن کچھ لوگ مختلف ریاستوں میں چلے گئے تھے۔ مرکز میں وقت گزارکر یہاں سے جانے والوں میں چھ افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں جبکہ ایک شخص کی موت ہو گئی ہے۔ انتقال ہونے والے شخص کی ابھی جانچ رپورٹ نہیں آئی ہے۔محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت، میونسپل اور دہلی پولیس کی ٹیم مرکز سے لوگوں کو نکالنے کا کام کر رہی ہے۔

ایک پولیس کے افسر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی یہاں سے بھیڑ ہٹانے اور سوشل ڈسٹینسنگ کے لئے کہا جا رہا تھا لیکن مرکز کے لوگوں نے ان کی بات نہیں سنی۔ یہاں رہنے والے لوگوں میں بڑی تعداد میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہیں۔نظام الدین کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ مرکز سے گزشتہ دو دنوں میں 200 لوگوں کو کورونا وائرس انفیکشن کی جانچ کے لئے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا گیا ہے اور مرکز کے ارد گرد کے علاقے کو مکمل طور سیل کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں کو جانچ کے لئے لے جایا گیا ہے، ان میں بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان، ملائیشیا، سعودی عرب، انگلینڈ اور چین کے تقریباً 100 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ مرکز کے لوگوں نے لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ اس بیماری کو بھی سرسری طور پر لیا۔اتوار کو تمل ناڈو کے ایک 64 سالہ شخص کی موت ہو گئی تھی جو مرکز میں قیام پذیر تھے۔ مرنے والے شخص کی ابھی جانچ رپورٹ نہیں آئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے جانچ تیز کر دی تھی۔ پولیس معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر علاقے میں ڈرون سے نگرانی کر رہی ہے۔مرکز سے کچھ ہی دوری پر مشہور صوفی نظام الدین اولیاء کی درگاہ ہے جہاں پر بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں لیکن ان دنوں درگاہ مکمل طور بند ہے۔
دشمن اسلام کی نگاہ جب اس پر لگی ہوئی ہے تو احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔ 
پوری تفصیل کل لکھوں گا-

Comments