پولیس کی پوری کوشش فسادیوں کو بچانے کی ہے

عابد انور

Thumb

دہلی میں کس طرح حکومت اور پولیس کی سرپرستی میں ہندو فسطائی طاقتوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اس کاثبوت کئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان لوگوں نے چن چن کر مسلمانوں کے گھروں، مسجدوں اور دکانوں کو جلایا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی۔ان پر ہاتھ ڈالا، طرح طرح کی جسمانی اذیت پہنچائی لیکن اس پر ہندوستان کی عدالت، خواتین کمیشن، بچوں کے حقوق کے کمیشن، انتظامیہ، سب خاموش ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ کسی ہندو خاطی کو کوئی سزا نہ ملے۔غیر معلنہ طور پر یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ ہندو چاہے کچھ بھی کرلے ان کا بال بھی باکا نہیں ہونا چاہئے اور مسلمانوں کو کسی بھی حال میں چھوڑا نہیں جانا چاہئے۔ جس طرح گجرات میں ہندو انتہا پسندوں کو مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے لئے تین دن کا وقت دیا گیا تھا، اسی طرح دہلی میں بھی تین دن کا وقت دیا گیا تھا اور ہندو فسادی مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے اور پولیس فسادیوں کو تحفظ فراہم کرتی رہی اور مسلمانوں پر فائرنگ کرتی رہی۔ خبریں یہاں تک آرہی ہے کہ فسادات کے دوران پولیس نے مسلمانوں پر فائرنگ اور انہیں قتل کرنے کے لئے فسادیوں کے بندوق اور ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا تاکہ سرکاری طور پر یہ ثابت نہ ہوسکے کہ پولیس نے فائرنگ کی تھی۔ فسادات سے قبل ٹرک میں بھر کر پتھر لائے گئے تھے، دو ہزار سے زائد ہندو غنڈوں کو لایا گیا تھا تاکہ قتل عام کرکے وہ بھاگ جائے اور کبھی ان کی شناخت نہ ہو۔ ویسے بھی پولیس کی کوشش ہندوؤں کو بچانے کی ہوتی ہے اور ہر فساد میں پولیس نے ہندوؤں کو بچایا ہے۔ دہلی فساد میں گرفتار ہونے والوں میں بیشتر مسلمان ہیں۔ ان کو گھروں، کیمپوں اور دیگر مقامات پر پولیس گرفتار کررہی ہے۔ جو جلے ہوئے گھروں کو دیکھنے جاتے ہیں ان کو بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ جو مسلمان رپورٹ لکھوانے جاتے ہیں ان کی رپورٹ نہیں لکھی جاتی۔جو نامزد رپورٹ درج کرواتے ہیں  پولیس کہتی ہے کہ کسی نام مت لکھو، نامعلوم لکھو، جب رپورٹ لکھوانے کو پتہ ہوتا ہے کہ کس نے ان کا گھر جلایا اور کس نے ان پر حملہ کیا۔کس نے ان کے رشتہ داروں کو قتل کیا،کس نے ان کے خواتین پر ہاتھ ڈالا۔ اس کے باوجود ان کی رپورٹ نہیں لکھی جاتی۔ ہندوستان مسلمانوں کے ذبیحہ خانہ (بوچڑ خانہ، سلاٹر ہاؤس) بنتا جارہا ہے۔ کوئی بھی قتل کرکے آرام سے نکل جاتا ہے اور کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور ہوتی بھی ہے تو عدالت سے اسے فوراً ضمانت پر رہا کردیتی ہے اور کچھ دنوں میں خاموشی سے بری کردیا جاتا ہے۔دہلی فسادپر کانگریس سمیت وقف بورڈ اور جمعےۃ علمائے ہند نے بھی اسی طرح کے جذبا ت کا اظہار کیا ہے۔ 

دہلی تشدد کی جانچ کرنے گئے کانگریس کے وفد نے پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے اور کہا ہے کہ مرکز اور دہلی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے فسادات ہوئے ہیں اس لئے سچائی سامنے لانے کیلئے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی صدارت میں فسادات کی جانچ کرانے کے حکم دئے جانے چاہئے۔وفد نے کہا ہے کہ لوگوں سے بات چیت کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ فسادات کی وجہ بھارتیہ جنتا پارٹی  کے لیڈروں کیاشتعال انگیز بیانوں کا اہم رول ہے اس لئے عوام کو اشتعال دلانیوالے بی جیپی رہنما کپِل مشرا،انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف  فوری طورپر ایف آئی آر درج کرکے ان تینوں رہنماؤں  کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
محترمہ گاندھی کو ان کی رہائش گاہ پر دہلی تشدد کی جانچ رپورٹ سونپنے کے بعد وفد میں شامل پارٹی کے سینئر لیڈر مکل واسنک،شکتی سنگھ گوہل،طارق انور اور سشمیتا دیو نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے پایا کہ لوگ لڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن انہیں اشتعال دلایا گیا جس کی وجہ سے یہ فسادات ہوئے ہیں۔وزیرا عظم نریندرمودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال کو فسادات کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تشدد کو روکنے میں وزیر داخلہ کے طورپر مسٹر امت شاہ کا کردار پوری طرح سے غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔اس لئے انہیں عہدے سے فوراً استعفی دیدینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی شروع سے ہی انہیں ان فسادات کیلئے ذمہ دار مانتی ہے اس لئے پارٹی نے صدر رام ناتھ کووند سے مل کر انہیں ہٹانے کی اپیل کی ہے۔کانگریس وفد نے مسٹر کیجریوال کی بھی مذمت کی اور کہا کہ دہلی کے لوگوں نے حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں ان پر زبردست بھروسہ ظاہر کیا لیکن مسٹر کیجریوال نے دہلی کے عوام کی حفاظت کیلئے ذمہ داری سے کام نہیں کیا۔شہری انتظام دہلی حکومت کے پاس تھا لیکن مسٹر کیجریوال کی حکومت نے فسادات کے دوران حالات سے نمٹنے کیلئے کوئی کارگر قدم نہیں اٹھایا اور دہلی حکومت متاثرین کو راحت دینے میں پوری طرح سے ناکام رہی۔
کانگریس رہنماؤں نے فسادات کی عدالتی جانچ  کے مطالبے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں سے ہوئی بات چیت سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دہلی پولیس فسادات کے دوران زیادہ تر معاملوں میں خاموش تماشائی بنی رہی۔پارٹی نے کہاکہ یہ صحیح ہے کہ ان فسادات میں کئی پولیس اہلکاروں کی جان گئی  اور کئی زخمی بھی ہوئے  لیکن واقعہ کیلئے کچھ افسر ذمہ دار ہیں اس لئے  ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ فد نے گروتیغ بہادر اسپتال،اروند نگر،باپو نگر،چاند باغ،شیو وہار،دیال پور،گونڈہ چوک،کبیر نگر پرانا مصفطیآباد،سیلم پور،کھجوری،یمنا وہار وغیرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین اور ان کے گھروالوں سے ملے۔لوگوں نے بتایا کہ پولیس اب بھی مسلسل گرفتاری کررہی ہے اور رات کے اندھیرے میں لوگوں کو پکڑ کر لارہی ہے۔ان میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کا فسادات  سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں نے صاف کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر سیاست ان فسادات کے ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔کانگریس نے کہاکہ  بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل مذہب کی سیاست کرتی ہے اور یہاں بھی اس نے یہی کیا۔وفد کو یہ بھی محسوس ہوا ہے کہ بی جے پی حکومت نے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے ان فسادات کو انجام دیا ہے۔
اسی طرح دہلی وقف بورڈ کی فساد متاثرین کے لئے بنائی گئی ریلیف کمیٹی نے دہلی پولیس پر بڑا الزام لگاتے ہوئے دہلی کے پولیس کمشنر کو خط تحریر کیاہے۔راحت کمیٹی کی جانب سے دہلی پولیس کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 7مارچ کے بعد سے فساد متاثرین کے لئے بنائے گئے راحتی کمیپ عید گاہ مصطفی آباد میں متاثرین کی قانونی مدد کے لیئے لیگل ہیلپ ڈیسک لگائی گئی ہے جہاں متاثرین سے ان کی درخواستیں لیکر جمع کی جارہی ہیں تاہم جب ان شکایتوں کو متعلقہ تھانوں میں جمع کرایا گیاتو پولیس نے ایف آئی آر تو دورنہ تو رسیونگ دی اور نہ ہی کوئی ڈائری نمبر دیا جسکی وجہ سے متاثرین کے پاس اپنی شکایتوں کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے۔خط کے مطابق اسکی جانکاری فون پر متعلقہ اے سی پی اور ڈی سی پی کو بھی دی گئی جس کے بعد سے 9مارچ سے شکایتوں پر ڈائری نمبر تو دئے جارہے ہیں تاہم ان شکایتوں کو ایف آئی آر میں ابھی بھی نہیں بدلاگیا ہے۔خط میں آگے کہاگیا ہے کہ یہ شکایتیں کراول نگر،دیال پور اور گوکل پوری پولیس تھانوں میں جمع کرائی گئیں تھیں مگر پولیس نے ان شکایتوں کا کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت متاثرین کو فراہم نہیں کیا۔خط میں دعوی کیا گیا ہے کچھ آدھی ادھوری شکایتیں متاثرین کی جانب سے عید گاہ مصطفی باد میں قانونی ڈیسک بنائے جانے سے قبل بھی جمع کرائی گئیں ہیں تاہم ان پر بھی ڈائری نمبر نہیں دیا گیا ہے۔وقف بورڈ کی راحت کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں دہلی پولیس کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ شکایتوں پر ایف آئی آر کرنے یا ڈائری نمبر دینے کی ہدایت متعلقہ پولیس تھانوں کو دیں اسی کے ساتھ جو درخواستیں متاثرین نے عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ڈیسک بنائے جانے سے پہلے متعلقہ تھانوں میں جمع کرائی ہیں ان درخواستوں پربھی انھیں تاریخوں کے ساتھ ڈائری نمبر جاری کئے جانے کی ہدایت دی جائے۔خط میں آگے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عید گاہ مصطفی باد کی قانونی ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ متاثرین کی جو درخواستیں جمع کی گئی ہیں اور جنھیں ایف آئی آر میں بدلا جاچکاہے اس کی کاپی متاثرین کو فورا فراہم کرائی جائے۔ غور طلب ہیکہ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ بنائی گئی راحت کمیٹی نے عید گاہ مصطفی آبادکیمپ میں متاثرین کی قانونی مدد کے لئے ایک ہیلپ ڈیسک کا قیام کیا تھا جہاں کثیر تعداد میں متاثرین نے اپنی شکایتوں کو جمع کرایا ہے تاہم متاثرین نے جو باتیں بتائی ہیں ان میں کئی چونکانے والے انکشاف سامنے آئے ہیں۔متاثرین کے مطابق پولیس ان کی شکایتیں لینے میں امتیاز سے کام لے رہی ہے۔متاثرین کے مطابق یا تو پولیس ان کی شکایتیں ہی نہیں لے رہی ہے اور اگر لے بھی رہی ہے تو بنا ثبوت کے۔کئی متاثرین نے بتایاکہ اگر ان کی درخواست میں کسی سرکاری ملازم یا پولیس والے کے خلاف شکایت ہے یا کوئی نامزد ہے تو پولیس ان شکایتوں کے مضمون میں بھی بدلاؤکرارہی ہے۔متاثرین کے مطابق پولیس شکایتوں سے نامزد ملزمین کے نام نکلوارہی ہے خاص کر اگر ان میں پولیس یا کسی سرکاری ملازم کا نام ہے۔ فساد متاثرین کی قانونی مدد کا کام دیکھ رہے دہلی وقف بورڈ کے ممبر ایڈوکیٹ حمال اختر نے بتایا کہ دہلی پولیس پریہ بہت سنجید الزامات ہیں اوریہ بہت افسوسناک بات ہے۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ فساد میں لٹ پٹ گئے اور ان کا جان و مال سب کچھ تباہ ہوگیا اب ان کی شکایتوں پر دہلی پولیس ایف آئی آر بھی نہیں کر رہی اور جو شکایتیں متاثرین دے رہے ہیں ان میں بدلاؤکرارہی ہے اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوگی۔حمال اختر نے دہلی پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ لیں اور متعلقہ تھانوں کو صحیح قدم اٹھانے کی ہدایات جاری کریں۔
دریں اثناء دہلی فسادمیں بھیانک جانی ومالی تباہی کے باوجود سرکار اور پولس انتظامیہ کے غافلانہ رویے کے مدنظر جمعےۃ علماء ہند نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔عرضی میں عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ جو اب دہندہ(حکومت ہند) کو حکم دے کہ وہ فسادی اور مجرموں کے خلاف نام بنام ایف آئی آر درج کروائے اور پورے معاملے کی منصفانہ تحقیق کے لیے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے اورایسی کسی کمیٹی میں کوئی پولس فور س کا ممبر شامل نہ ہو۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہلی پولس عملہ کے ذریعہ لاپروائی یا دانستہ فساد میں شرکت اور ثبوتوں کو مٹانے جیسے جرائم جیسے واقعات کے فوٹیج منظر عام پر آئے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں لاء اینڈ آر ڈ کی ایجنسیوں کو لے کر بد اعتمادی کی فضا ہے، ایسے میں عدالت سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ان کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی کا حکم دے اور اس سلسلے میں ایک بااختیار اور علیحدہ باڈی قائم کی جائے جو فساد میں ملوث پائے جانے والی ایسی اسٹیٹ مشنریوں، سماجی و سیاسی تنظیموں کی مکمل تحقیق کرے جو فساد کے وقت یا پہلے متعلقہ علاقوں میں سرگرم تھیں۔یہ بھی حکم جاری کیا جائے کہ 23/فروری تا یکم مارچ 2020 کے درمیان فساد زدہ علاقوں کے ویڈیو فوٹیج کو محفوظ رکھا جائے اور ثبوتوں کو جمع کیے بغیر ملبے کو نہ ہٹایا جائے۔عرضی میں دہلی حکومت کے ذریعہ دیے گئے معاوضہ کو ناکافی بتاتے ہوئے عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی حکومت کو ہدایت کرے وہ سکھ فساد 1984میں دیے گئے معاوضے کے اسکیم کے تحت حالیہ دہلی فساد متاثرین کو معقول معاوضہ دے۔
اس پولیس کی تحقیقات پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے جو فسادیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔

Comments