شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں پنجاب کے 14اضلاع میں ریلیاں نکالی گئیں

عابد انور

Thumb
نئی دہلی، 3 مارچ (عابد انور) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین کو ملنے والی دھمکی کے خلاف اظہار یکجہتی کے لئے پنجاب کے 14 اضلاع میں ریلیاں نکالی گئیں اور کچھ مقامات پر کچھ وقت کے لئے ریل کو روکا گیا تھا۔ یہ بات شاہین باغ مظاہرہ میں سرگرم کردار ادا کرنے والے سردار سمرنجیت سنگھ نے بتائی۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرین کے ساتھ پورا سکھ کمیونٹی ہے خواہ وہ کہیں بھی رہتی ہو، شروع سے سکھ طبقہ کا یہاں آنا جانا لگا رہاہے اور بڑے بڑے وفد اور گروپ کی شکل میں آتے ہیں اور کئی دن تک رہ کر مظاہرہ میں شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ شرپسندوں کے شاہین باغ مظاہرین کو ڈرانے اور دھرنا اٹھانے دینے کی دھمکی دینے کے خلاف سکھوں میں زبردست غصہ ہے۔ انہو ں نے کہاکہ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی احتجاج کو اس طرح ایک طبقہ کے ذریعہ دھمکی دی جارہی ہو۔ اس کے خلاف غیر مہذب الفاظ کا استعمال کیا گیا ہولیکن شاہین باغ خاتون مظاہرین کے بارے میں بدتمیزی کا طوفان کھڑا کیا گیا ہے اس لئے سکھ سماج میں ا س کے خلاف زبردست غصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ کو جس طرح شاہین باغ دھرنا کو خالی کرانے کی دھمکی دی گئی تھی، اسی دن پنجاب میں سکھوں نے اضلاع میں ریلیاں نکال کر شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی تھی اور مظاہرہ ختم کرانے کی دھمکی دینے والوں کے خلاف غصہ کا اظہار کیا تھا اور صرف ریلیاں ہی نہیں نکالی گئی تھیں بلکہ کچھ گھنٹے کے لئے ریلوے نظام کو بھی ٹھپ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ اس سیاہ قانون کے خلاف پنجاب کے دیگر مقامات پر مسلمان بھائیوں کے ساتھ سکھ مظاہرہ کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لئے سکھوں کا ایک بڑا جتھہ شاہین باغ آنے والا ہے۔
مسٹر سمرنجیت سنگھ نے بتایا کہ پانچ مار چ کو لدھیانہ پنجاب کی 14تنظیمو ں نے مل کر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف ایک بڑیلی نکالی جائے گی اور اس ریلی کے ذریعہ حکومت کو سخت پیغام دیا جائے گا کہ اس میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں ہیں بلکہ سکھ بھی اتنے ہی خلاف ہیں جتنے مسلمان ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ آنے والے آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر پنجاب کے ہی مالیر کوٹلہ میں خواتین کا ایک بہت بڑا پروگرام قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف ہونے جارہا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں خواتین شریک ہوں گی۔ 

شروع سے مظاہرین میں شامل ہونے والا ایک پندرہ دن کا بچہ اب تین ماہ کا ہوگیاہے۔ اس بچے کی ماں ریحانہ خاتون نے بتایا کہ جب میں احتجاج میں شامل ہوئی تھی تو یہ پندرہ دن تھا اور آج تین مہینے کا ہوگیا ہے اور مسلسل میں اپنے ساتھ رکھتی ہوں۔ ان کو ساتھ لانے اور مقصد کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں احتجاج میں شریک ہوتی ہوں تو میں بچے کوچھوڑ کر نہیں آسکتی۔اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ جب یہ بڑا ہو گااس قانون کے بارے میں پتہ چلے گا تو ان کو یہ بھی پتہ چلے گا جب وہ پندرہ دن کا تھا تو اپنی ماں کے ساتھ احتجاج میں شامل تھا۔ اس قانون کے خلاف لڑنے میں ان کا بھی کچھ حد تک  معصومانہ حصہ تھا۔ اس کے علاوہ شاہین باغ ْخاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے سابق مرکزی سلمان خورشید بھی رات میں پہنچے اور مظاہرین کے ساتھ بات چیت کی۔ 
انہوں نے کہاکہ اسی کے ساتھ میں یہ بھی پیغام دینا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی تحریک اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اس میں تمام طبقوں اور تمام عمر کے لوگوں کی حصہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنے بچے کے ساتھ اس لئے بھی شریک ہوں اور روڈ پر ہوں تاکہ مستقبل میں ان کی زندگی روڈ پر نہ گزرے۔ اسی کے ساتھ خاتون مہر النساء بھی ہیں جو احتجاج میں کبھی بھوک ہڑتال کرتی ہیں تو کبھی روزے رکھتی ہیں اور بیماری اور کمزوری کی حالت میں بھی احتجاج میں شریک ہوتی ہیں۔ 

واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیاگیا تھا اوربڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکارکو تعینات کردیا گیا تھا۔ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تھی۔اب اس علاقے سے دفعہ 144کو ہٹالیا گیا ہے۔ 
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 

راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔جوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو اس وقت بند ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا،  بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

Comments