مسلمانوں کو نظرانداز کرکے ہندوستان کبھی بھی ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا!

عابد انورThumb


عابد انور 
ہندوستان میں مسلمان، غربت، جہالت، پسماندگی،استحصال، امتیاز،تعصب اورظلم و ستم ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی سرانکل جائے تو پھروہ ادھورے ہوجائیں گے۔ آزادی کے بعد ایک منظم سازش کے تحت پہلے ان سے ان کی زمینیں چھین لی گئیں۔ اس کے بعد فسادات کالا متناہی سلسلہ برقراررکھ کر جہاں انہیں خوف و ہراس میں رکھاگیاوہیں فسادات کے بہانے مسلمانوں کی تجارت و صنعت کو لوٹاگیا۔یہ سب حکومت کی نگرانی میں ہوا خواہ حکومت کسی بھی پارٹی کی رہی ہو۔ مثال کی کوئی کمی نہیں ہے بھاگلپور، مرادآباد، بھیونڈی اورگجرات کی مثال ہی کافی ہے اس مکڑ جال کو سمجھنے کیلئے۔ جہاں صرف چن چن کر مسلمانوں کی فیکٹریوں، دکانوں،مکانوں اور اداروں کو نذرآتش کیاگیا وہ بھی پولیس کی نگرانی میں۔ سیاسی طور پر تقسیم کرنے اور مسلمانوں کو عضو معطل بنانے کے لئے مسلکی اختلافات کو ہوادی گئی یہاں تک کے ایک خاص مسلک کے لوگوں کو مستحکم کرنے، ان کو مدارس اور مساجد قائم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے فنڈکی بھی فراہمی کی گئی تاکہ یہ لوگ اس میں الجھ کر کسی مثبت سوچ وفکر اور کام کے لئے لائق نہیں رہ جائیں اورآپس میں برتری کی جنگ میں اس قدرمدہوش ہوجائیں کہ ان میں صحیح و غلط کی تمیز تک باقی نہ رہ جائے اور مسلمان اپنے مشترکہ مفادات کو فراموش کرکے علاقائی اور محلاتی مفاد کے دائرے میں محصور ہوجائیں۔ اس میں مسلم دشمن طاقتیں امید سے زیادہ کامیاب ر ہی ہیں اس کا نظارہ آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں اور اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات اس کامیابی کے واضح دلائل ہیں۔افسوس کی بات تویہ ہے باتیں اب بھی جاری ہیں اور مسلمان عمداً مسلکی اختلافات کا شکار ہورہے ہیں۔دراصل مسلم دشمن طاقتوں کا مقصداس طرح کے مفروضے کو ہوا دے کر مسلمانوں کو جہالت و پسماندگی کے دلدل میں مبتلارکھنا ہے۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں کئی رپورٹیں منظر عام پر آچکی ہیں جس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی اوقات میں رہیں ورنہ اس سے بدتر حشرہوسکتا ہے لیکن اسی کے ساتھ اس حیلے سے مسلم ووٹوں پرقبضے کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے کیوں کہ جب اس طرح کی رپورٹیں منظر عام پرآتی ہیں ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے لئے گھڑیالی آنسو بہانا شروع کردیتی ہیں۔ وہ ایک دوسری پارٹیوں کو اس کے لئے کوسنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے لئے اسپانسرکرکے سیمنار اور کنونشن کاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں مسلمانوں کی پسماندگی کارونا رویاجاتاہے لیکن جب وہی حکومت برسراقتدارآتی ہیں تو مسلمانوں کی پسماندگی کو دورکرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتی بلکہ قاعدے قانون کے جال میں الجھاکر اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر اس کے لئے کوئی پروگرام وضع بھی کیا جاتاہے تو اس کاباگ ڈورایسے افسران کے ہاتھ میں دے دیاجاتا ہے کہ جو خالص خاکی نیکر دھاری ہوتا ہے اور اس فنڈکو دوسرے منصوبے میں استعمال کرکے اعداد و شمار کے ذریعہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اتنی رقم اس مدمیں خرچ کی گئی۔ ان اسکولوں اور علاقوں پرخرچ کردیاجاتا ہے کہ جہاں نہ تو مسلم بچے ہوتے ہیں اورنہ ہی مسلمانوں کی آبادی۔ اگر اس کھیل کو سمجھنا ہے تو اقلیتی اضلاع قراردے گئے علاقوں میں حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں۔ زمین پردیکھیں اس سے کتنے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا،کتنے اسکول کھولے گئے اور مسلم علاقے کے اسکولوں میں کتنے کمرے بنوائے گئے اورکتنے مسلم بچے کو وظائف دئے گئے۔ اقلیتوں کے نام پربہار میں آج راجپوت میڈیکل کالج کھول رہے ہیں۔اقلیتوں کے نام پر مختص فنڈ دوسرے مد میں بے دریغ استعمال کیاجاتاہے اور مسلمانوں کی ترقی صرف کاغذوں پر ہوتی ہے۔ 
ایک بار پھر مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان قلمبندکی گئی ہے۔اس کامصنف کوئی عام آدمی نہیں بلکہ حکومت ہند ہے جس پر مسلمانوں کی فلاح بہبود اور یکساں سلوک کرنے کی آئینی ذمہ داری ہے۔منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ سے حکومت کے امتیازی سلوک اپنانے کا رویہ ایک بار پھر اجاگر ہوا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ سے جہاں افلاس کی صورت حال واضح ہوئی ہے وہیں مسلمانوں کی پسماندگی اور ابتری سے بھی پردہ اٹھا ہے۔ حالانکہ منصوبہ بندی کمیشن سے غربت کے نئے پیمانے وضع کرکے غریبوں کی تعدادکم دکھانے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن حقیقی اعداد و شمار حکومت کے پیش کردہ اعدادوشمار سے تقریبادوگنا زیادہ ہیں۔ سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی تھی اس لئے مسلمانوں کی غربت و پسماندگی کا بھی جائزہ لیا گیاہے۔منصوبہ بندی کمیشن نے جاری کردہ اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں کہا ہے کہ شہری علاقوں میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں غربت سب سے زیادہ ہے اور سب سے کم عیسائیوں میں ہے۔شہری علاقوں میں تقریباً 34فیصد مسلمان انتہائی غریب ہیں اور سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال گجرات، اترپردیش اور بہار میں ہے۔ اتر پردیش کے شہری علاقوں میں تقریباً نصف آبادی انتہائی غریب ہے جبکہ بہار میں یہ تناسب 56 فیصد سے زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی مسلمانوں کی حالت انتہائی خ راب ہے۔ آسام میں 53 فیصد سے زیادہ اور اتر پردیش میں 56 فیصد سے زیادہ مسلمان خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارتے ہیں۔کمیشن نے صرف ان لوگوں کو غریب تسلیم کیا ہے جو روزانہ 28روپے سے کم میں گزارا کرتے ہیں۔
ایک دیگر رپورٹ کے مطابق غریب مسلمانوں کے بارے میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے، وہ دل دہلا دینے والی ہے۔ دیہی علاقوں میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے 94.9 فیصد مسلمانوں کو مفت اناج نہیں مل رہا ہے۔ صرف 3.2 فیصد مسلمانوں کو سبسڈائزڈ قرض کا فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ صرف 2.1 فیصد دیہی مسلمانوں کے پاس ٹریکٹر ہیں۔مسلمانوں کی اجتماعی کوششوں اور بیداری کے باوجود تعلیمی صورت حال امید افزا نہیں ہے۔ گاؤں میں 54.6 فیصد اور شہروں میں 60 فیصد مسلمان کبھی کسی اسکول میں نہیں گئے۔مغربی بنگال میں مسلمانوں کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہے، لیکن سرکاری ملازمت میں وہ صرف 4.2 فیصد ہیں - فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔مسلمانوں کی بے بسی کا اندازہ جیلوں سے ہوتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد جیل میں سب سے زیادہ ہے- مہاراشٹر میں 10.6 فیصد مسلمان ہیں، لیکن یہاں کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 32.4 فیصد ہے۔ دہلی میں 11.7 فیصد مسلمان ہیں، لیکن جیل میں بند 27.9 فیصد قیدی مسلمان ہیں۔اس حکومت کامتعصبانہ رویہ صاف طور پرجھلکتا ہے۔ انتظامی خدمات میں مسلمانوں کی تعداد قابل رحم ہے۔ ملک میں صرف 3.22 فیصد آئی اے ایس، 2.64 فیصد آئی پی ایس اور 3.14 فیصد یف ایس مسلمان ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ سکھوں اور عیسائیوں کی آبادی مسلمانوں سے کم ہے، لیکن ان خدمات میں دونوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ملک کے سرکاری محکموں کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ عدلیہ میں مسلمانوں کی شراکت صرف 6 فیصد ہے۔اس اعدادوشمار سے عیاں ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ عدلیہ میں تعصب کیوں برتا جاتا ہے اورمسلمانوں حصول انصاف سے کیوں محروم ہیں۔ جہاں تک بات سیاست میں حصہ داری کی ہے تو یہاں بھی حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں۔ آزادی کے ساٹھ سال کے بعد بھی اب تک صرف سات ریاستوں میں مسلم وزیر اعلی بن پائے ہیں حیرت و افسوس کی بات یہ ہے کہ جموں کشمیر کے فاروق عبداللہ کے علاوہ ملک میں ایک بھی ایسا مسلم وزیر اعلی نہیں ہے جو پانچ سال کی اپنی میعادپوری کرسکا ہو۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے میکانزم اور افسران کے متعصبانہ رویہ کی جیتا جاگتا مثال ہے۔ 
منصوبہ بندی کمیشن نے اعدادوشمارکے کھیل اورغربت کے پیمانے وضع کرکے ہندوستان سے غربت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق 2005 سے 2010 کے درمیان پانچ کروڑ لوگ غربت کے زمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن غربت کے زمرے میں کس کو شامل کیا جانا چاہیے، اس سوال پر گزشتہ برس اس وقت بھی شدید بحث ہوئی تھی جب حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک حلف نامے میں کہا تھا کہ 32 روپے روزانہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو انتہائی غریب کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔نئے تخمینوں کے لیے منصوبہ بندی کمیشن نے جو پیمانہ اختیار کیا ہے اس کے مطابق دیہی علاقوں میں 672(تقریباً بائیس روپے روزانہ) اور شہری علاقوں میں 869(تقریباً اٹھائیس روپے روزانہ) سے زیادہ ماہانہ خرچ کرنے والوں کو غریب تسلیم نہیں گیا ہے۔منصوبہ بندی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کہ 2004-2005 میں  37.2 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے تھی، 2009-2010 میں یہ 29.8 فیصد رہ گئی۔ یہ دور تھا، جب ہندوستان کا اقتصادی ترقی کی شرح اوسطا ساڑھے آٹھ فیصد کے آس پاس تھی۔ اس سال ترقی کی شرح سات فیصد کا اعداد و شمار شاید ہی برقراررکھ سکے۔ ایک اور مسئلہ جو 2005-2010 کے دور میں بھی دکھائی دیتا تھا وہ آگے مزید شکل اختیار کرسکتا ہے۔ وہ روزگار کا مسئلہ ہے۔ 2005-2010 کے دوران بھی روزگار کے مواقع بہت تیزی سے نہیں بڑھے ہیں اور منظم سیکٹر میں روزگارکے مواقع میں کمی آئی لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ غیر منظم سیکٹر میں روزگار کے مواقع مزید تیزی سے بڑھے ہیں جس کی وجہ سے دیہی غربت میں کمی دیکھی گئی۔ دیہی علاقوں میں غریبوں کی تعداد تقریباً آٹھ فیصد اور شہری علاقوں میں چار اعشاریہ آٹھ فیصد کم ہوئی ہے۔
ایک طرف ہمارے سیاسی وسماجی رہنما  ہندوستان کو سپرپاور بنانے کے بڑے بڑے بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف ملک کی تقریبا ایک نصف آبادی بھوک اور نقص تغذیہ کا شکار ہے۔ حال ہی میں کئے گئے ایک مطالعہ میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ خوف ہراس میں مبتلاکرنے کے سا تھ ساتھ تدبر و تفکر کی بھی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے مطابق ہندوستان میں 21 فیصد لوگ نقص تغذیہ کے شکار ہیں۔5 سال سے کم عمر کے 44 فیصد بچوں کا وزن معمول سے کم ہے۔ اس میں سے 7 فیصد بچوں کی موت 5 سال کی عمر سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ ہندوستان دنیا کے ان مخصوص ممالک میں سے ایک ہے، جہاں سب سے زیادہ لوگ بھوکے رہتے ہیں۔بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے، زچگی کے دوران اموات میں بھی ہندوستان کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ایک طرف ہندوستان میں امیروں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور دنیا کاامیرترین انسان ہندوستان میں ہی بستا ہے لیکن دوسری طرف افسوس اورپشیمانی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی حالت سوڈان، نارتھ کوریا، پاکستان، نیپال جیسے پسماندہ ممالک سے بھی بدتر ہے۔یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے کہ بلکہ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی ایف پی آر آئی) کے مطابق گلوبل ہنگر انڈکس میں نقص تغذیہ کے معاملے میں ہندوستان 80 ممالک کی فہرست میں 67 ویں نمبر پر ہے۔اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کی طرف سے جاری کی گئی انسانی ترقی کی رپورٹ کے مطابق  ہندوستان میں 61 کروڑ لوگ غریب ہیں، جو کہ ملک کی نصف آبادی سے بھی زیادہ ہے۔وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے گزشتہ دنوں اس سے متعلق ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ غذائیت کی کمی کا مسئلہ قوم کے لیے شرم کی بات ہے اور ہماری قومی گھریلو پیداوار میں شاندار ترقی کے باوجود ملک میں غذائیت کی اتنی اونچی شرح کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ کے کچھ پہلو باعثِ تشویش ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی تعداد چھ کروڑ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور مناسب غذا نہ مل پانے کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی کل آبادی کا تیسرا حصہ ہندوستان میں رہتا ہے۔ رپورٹ تیار کروانے والے ادارے سٹیزنس الائنس میں اراکین پارلیمان، ممتاز شخصیات، سماجی کارکن اور فنکار شامل ہیں۔
ہندوستان میں حکومت کسی بھی پارٹی کی رہے لیکن کوئی بھی حکومت مسلمانوں کو ان کاواجب حق دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ البتہ مختلف بہانے مسلمانوں کو جیل میں ڈالنے کے لئے تمام حکومت مستعدرہتی ہیں۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ تمام ریاستوں میں جیل میں بندقیدیوں کے اعدادو شمارکہہ رہے ہیں۔ مغربی بنگال جہاں کمیونسٹ حکومت تقریباً 35برس تک رہی لیکن وہاں مسلمانوں کی حالت سب سے زیادہ ابترہے۔ بہاراور گجرات میں مسلمانوں کی حالت بہت ہی دگرگوں ہے لیکن دونوں ریاستوں میں ”وکاس پرش“  (نریندر مودی) اور سوشاشن بابو“ (نتیش کمار)کی حکومت ہے۔دونوں حکومتوں کو میڈیا نے مثالی حکومت قرار دیا ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے نہ صرف مرض کی تشخیص کی ہے بلکہ اس کا علاج بھی بتایا ہے لیکن کوئی بھی حکومت اس مرض کا علاج کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت سمیت تمام ریاستی حکومتیں صرف کاغذوں پر ہی مسلمانوں کو ترقی دینا چاہی ہے۔یہ بات سوچنا چاہئے کہ مسلمان ہندوستان کانہ صرف ایک اٹوٹ انگ ہیں بلکہ اس کی تعمیر و ترقی میں برابر کے شریک بھی ہیں۔ اگرمسلمان تعلیم و ترقی کی راہ میں اپنے ہم وطن سے پسماندہ اور پچھڑاہوا رہا تو نہ صرف یہ کہ مسلمان ترقی یافتہ کہلانے سے محروم رہ جائیں گے بلکہ ہندوستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کبھی کھڑا نہیں ہوسکے گا کیوں کہ اتنی بڑی تعداد کو نظر انداز کرکے کوئی ملک ترقی کرنا تودور کی بات ترقی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہاں سب کو یکساں مواقع ملے تو پروگرام اوراسکیم کو نافذ کرنے کیلئے ایسے افسران کو مقرر کرنا ہوگا جو ہندوستان کا بہی خواہ ہو نہ کہ سنگھ پریوارکا۔
9810372335
abidanwaruni@gmail.com

Comments