مسلم لیڈرشپ کو پیدا کئے بغیر کسی مسئلے کا حل ممکن نہیں

  • عابد انور
Thumb

مسلم قیادت پرآزادی کے بعد ہی بحث شروع ہوگئی تھی اور اس کی افادیت اور کمی پر غور و فکر شروع کردیا گیا کیوں کہ ایک بڑا طبقہ جو کریم کہلاتا تھا خواہ علماء میں سے ہوں یا دانشور، اعلی افسران، سیاست داں، دانشور ہوں یا ادیب و مفکر ہوں یا مصلح ہوں، پاکستان ہجرت کرگیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کے ہرشعبے میں جو خلا پیدا ہوا تھا اس کی تلافی آج تک نہیں ہوسکی اور نہ ہی ہندوستانی مسلمان اس گہرے زخم سے اب تک نکل پائے ہیں اور مسلمانوں کو اس سانحہ کا حوالہ دیکر ان کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک، نوکری و ملازمت میں تعصب اورملک کے دیگر شعبہائے جات میں ان کے ساتھ امتیاز روا رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس وقت جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری اس وقت کی قیادت پر تھی جن میں بیشتر ہندو تھے جو آسانی سے ملک کی تقسیم پر راضی ہوگئے تھے کیوں ان کے سامنے ان کا مفاد تھا۔اس وقت تک کی جو نسل ہے ان کو ان سب واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ اس میں پڑنا بھی نہیں چاہتے لیکن عمداً انہیں اس میں گھسیٹا جاتا ہے اور ان واقعات کے لئے آج کی نسل کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں مسلم قیادت ہوتی تو دنداں شکن جواب دیتی کہ اس کے لئے کون ذمہ داری ہے اور ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی پسند سے اس ملک میں رہنا قبول کیا تھا۔ آزادی کے بعد جوں جوں اقدار ختم ہوتی گئی اس کی جگہ ہندو شدت پسندی لیتی گئی اور اس وقت ہندو شدت پسندی برگد کے درخت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ جہاں اس طرح کے حالات ہوتے ہیں وہاں لیڈر شپ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اور وہ قوم پس جاتی ہے جس کے پاس لیڈر شپ نہیں ہوتی۔ اس لئے مسلم قیادت پر گزشتہ دو تین دہائی سے بحث ہوتی رہی ہے خاص طور پر بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور جتنی شدت سے اس پر زور دیا گیا اسی شدت سے اس کی کمی محسوس کی گئی لیکن عملاً اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا گیا اس وقت کے علماء اور سیاسی لیڈران درجنوں نوجوانوں کی تربیت کرسکتے تھے لیکن ان کی تربیت صرف اپنے جانشیں تک رہی۔ سیدشہاب الدین،غلام محمود بنات والا، سلیمان سیٹھ اور ضیاء الدین انصاری، علماء میں، مولانا سید منت اللہ رحمانی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید اسعد مدنی وغیرہ اس وقت باحیات تھے اور کسی نہ کسی حدتک اس وقت یہ حضرات مسلمانوں کی قیادت کر رہے تھے اور مسلم لیڈر شپ کی کمی بھی پوری کر رہے تھے لیکن بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلم لیڈروں کے تئیں مسلمانوں میں جو بدگمانی پیدا ہوئی اس کا ازالہ اب تک نہیں ہوسکا اور اس وقت اس میں شدت عروج پر ہے کیوں کہ اس کیلئے بہت حد تک علمائے ہی ذمہ دار ہیں کیوں ان کے اور ان کی تنظیم کے درمیان شفافیت کا فقدان ہے باضابطہ حساب و کتاب کا کوئی نظام نہیں ہے اور اپنے حساب سے بیلنس شیٹ تیار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی قیادت عام طور پر سیاسی لیڈر کم علمائے کرام کے ارد گرد زیادہ رہی ہے کیوں کہ جتنا بڑا اجتماع علماء کرام کرلیتے ہیں مسلم سیاسی لیڈر نہیں کرپاتے۔جتنا بڑا اجتماع جمعےۃ علمائے ہند کرسکتی ہے ہندوستان کا کوئی مسلم لیڈر نہیں ہے وہ اتنا بڑا اجتماع کرسکے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کا رجحان دینی اجتماع میں زیادہ ہوتا ہے اور سیاسی اجتماع کو وہ وقت کا زیاں سمجھتے ہیں حالانکہ وہ خود اس میں ماہر ہوتے ہیں۔مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ بھی یہی سے شروع ہوتا ہے کیوں کہ جمہوری نظام خاص طور پر تکثیری جمہوری نظام میں سروں کی اہمیت بہت ہوتی ہے اور مسلمانوں کو جہاں سر دکھانا ہوتا ہے وہ وہاں سے غائب رہتے ہیں۔ جس طرح جمعےۃعلمائے ہنداور تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں مسلمان جمع ہوتے ہیں اگر اسی طرح اپنے سیاسی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی مسائل کے سلسلے میں جمع ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کے مسائل چٹکیوں میں حل ہوجائیں۔ اس سے سیاسی قدر اور وزن بھی بڑھ جائے گا اور مسلم قیادت میں ویژن بھی پیدا ہوگا۔ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت بھی بڑھ جائے گی اور وہ سیاسی بارگیننگ (سودے بازی) کی حالت میں ہوں گے۔

مسلم لیڈروں پر عام طور پر مسلمانوں کے لئے کام نہ کرنے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے اور اس میں بہت حد تک سچائی بھی ہے لیکن یہ صرف ایک پہلو ہے سکے کا ایک رخ ہے دوسرا رخ مسلمان بھی ہیں، کیا وہ اپنے لیڈروں کا اسی شدت سے ساتھ دیتے ہیں جس طرح کانشی رام اور مایاوتی کو ان کی کمیونٹی کے لوگوں نے دیا، اسلام میں ہے کہ دو چار لوگ کہیں نکلتے ہیں تو ان میں بھی ایک کو امیر چننے پر زور دیاگیا ہے لیکن کیا اتنی بڑی آبادی کی قیادت کے لئے کسی کو ہم نے منتخب کیا ہے، ہماری بدقستمی ہے کہ ہم کسی کو فلو نہیں کرتے۔ کیا مسلمانوں نے کبھی اپنے معاشرے سے کبھی کسی مسلمان کو لیڈر پیدا کیا؟ جب لیڈر پارٹی سے پیدا ہوں گے تو پارٹی کے لئے سوچیں گے، پارٹی کی رہنما ہدایات پر عمل کریں گے، پارٹی اعلی کمان کی ہدایت اور اشارے پر رقص کریں گے۔تو پھر وہ مسلمانوں کی قیادت کیسے کرسکتے ہیں۔ ان کو پارٹی کی ہدایت ہوتی ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کا ووٹ کیسے حاصل کرسکتا ہے اس کے بارے میں سوچے۔ کانگریس پارٹی کے مسلمانوں کا حال تو سب سے زیادہ دگرگوں اور ناگفتہ بہ ہے۔ وہاں ان کو مسلمانوں کے حق میں بولنے کا حق نہیں ہوتا ہے بلکہ بہت سے ہندو لیڈر کہتے ہیں کہ تم مسلمان کے لئے مت بولو، مسلمان کے بارے میں ہم بولیں گے۔اس لئے کہ ہندوستان کو مسلمانوں کے لئے یہاں کی سیاسی پارٹیوں اور جمہوریت کے چاروں ستونوں نے عملی طور پر بند گلی بنادیا ہے۔ اس کے پاس متبادل کا فقدان ہے۔مسلمانوں سے متعلق فلاح و بہبودکو منہ بھرائی کا نام دیا جاتا ہے اور جمہوریت کے چاروں ستون خاموش رہتے ہیں۔ ایسے میں مسلم لیڈر شپ کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے جو مسلمانوں کو ایک جھنڈے کے تلے جمع کرسکے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ممکن ہے۔ جی ہاں بالکل ممکن ہے اور مسلمان اپنے اندر سے مسلم لیڈر پیدا کرسکتے ہیں جو پارٹی کا علمبردار ہونے کے بجائے مسلمانوں کا بوجھ اٹھانے والا ہوسکتا ہے لیکن مسلمانوں کو اپنے نظریات میں تبدیلی کرنی ہوگی اور فرشتہ صفت اور صحابہ کے معیار کا لیڈر ڈھونڈنے کے بجائے خود پہلے فرشتہ صف اورصحابہ کے معیار کا نہیں تو کم از کم اس کے پیر کے دھول کی طرح زندگی اور معاشرہ بنانا ہوگا۔جب ہم اپنے اندر سے مسلم لیڈر شپ پیدا کرسکتے ہیں یہ مشکل نہیں ہے، دس پندرہ برسوں میں مسلم لیڈر کی ایک کھیپ پیدا کرسکتے ہیں جو پنچایت کی سطح سے لیکر اراکین پارلیمنٹ تک بن سکتے ہیں بس مسلمانوں کو سیاسی سرمایہ کاری کی طرف توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔مشکل یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ شیطان صفت ہے اور ہم صحابہ صفت لیڈر ڈھونڈتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیڈر پیدا کئے بغیر مسلمان اپنے مسائل حل نہیں کرسکتے اور اس کے بغیر مسلمانوں کا نہ تو وزن پیدا ہوگا اور نہ ہی ویژن۔
لوک سبھا اور بعد کے اسمبلی اورموجودہ  جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب میں مسلم لیڈر شپ کی کمی کی شدت سے احساس ہورہا ہے۔ کئی اہم پارٹیوں نے مسلم لیڈروں کے ٹکٹ کاٹ دئے تھے۔ ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ کیا وہ صحیح معنوں میں مسلم لیڈر تھے۔ حقیقی معنوں میں دیکھاجائے تو وہ صرف پارٹی کے لیڈر تھے یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہب کے اعتبار سے مسلمان تھے۔ اگر صحیح معنوں میں وہ مسلمانوں کے لیڈر ہوتے تھے یا انہوں نے مسلمانوں کا کوئی کام کیا ہوتا ہے ان کے پیچھے مسلمانوں کی بھیڑ کھڑی ہوتی اور پارٹی کو مجبور ہوکر انہیں ٹکٹ دینا پڑتا ہے۔ کیوں کہ پارٹی کو ان لیڈروں کی اوقات معلوم ہے کہ وہ بلبلے کی مانند ابل سکتے ہیں اور جھاگ کی طرح چھا سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ جب ان سے ان کے کام کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو پرسنل کام علاوہ اجتماعی کوئی کام نظر نہیں آتا۔ زمینی سطح پر ان کا کوئی ایسا کوئی کام نہیں ہوتا کہ مسلمان ان کے پیچھے دیوانوں کی لٹو ہوجائیں۔ یہ وقت ایسے لیڈروں کے لئے احتساب کا وقت ہے اور ان نوجوان نسل کے لئے سبق ہے جو سیاست کے میدان میں آنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں آنا ہے اور سکہ جمانا ہے تو اپنے پیچھے پہلے ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی بھیڑ پیدا کرنی ہوگی اور فلوورس کی بڑی جماعت تشکیل دینی ہوگی جس کی وجہ سے انمیں ویژن اور وزن پیدا ہو۔ اس وقت بہت مسلم لیڈر انتخابی میدان میں ہیں جو بہترین مقرر بھی ہیں، بہترین سوچ بھی رکھتے ہیں، جذبہ بھی ہے، کام کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں، بس انہیں آپ کی حمایت کی ضرورت ہے اور اآپ کی بے لوث حمایت سے وہ پارلیمنٹ اور اسمبلی کا منہ دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں جہاں بھی،مسلم لیڈرکھڑے ہیں جن میں تھوڑا بہت بھی لیڈر شپ کا جذبہ ہے، انہیں ضرور کامیاب بنائیے۔ آپ کی تھوڑی سی عقل مندی، سمجھداری اوراتحاد کے ساتھ حق رائے دہی کا استعمال آپ کو بہت ساری مصیتوں سے بچا سکتاہے۔ ورنہ آئندہ پانچ سال کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ 
اس وقت صورت حال نہایت تشویشناک ہے کیوں کہ مسلم اکثریتی سیٹ پر متعدد مسلمان کھڑے ہوئے جس کا خمیازہ لوک سبھا میں اور ہریانہ مہاراشٹر اسمبلی میں بھگتنا پڑا جس کی وجہ سے حالات بہت دگرگوں ہیں اور مسلمان پس و پیش اور مخمصے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ کس کو ووٹ دیں اور کس نہ دیں۔دوسری اکثریتی طبقہ ہزاروں اختلافات کے باوجودمتحد ہیں اور وہ یکطرف ووٹ ڈالیں گے۔مسلمانوں اور خاص طور پر اہل علم، اہل ثروت، اہل رسوخ،علماء، صلحاء اور تمام اہل فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سمت میں ایک ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کریں اور خاموشی کے ساتھ کریں تاکہ مسلمانوں کو پیغام جائے کہ کیا کرنا ہے اور کس سمت میں جانا ہے۔ورنہ آنے والی نسل ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی کیوں کہ ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے ملت کو انتشار میں مبتلا رکھنا، مسائل کا حل نہ نکالنا اور انتشار کو ختم کرنے لئے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کرنا اور اتحاد کے لئے قربانی نہ دینا انہیں ان کی نظروں میں ذلیل و خوار کریں گے۔
اس کے علاوہ مسلم لیڈر شپ کی کمی کی وجہ سے کشمیر سے اس لئے خصوصی درجہ سمیت ریاست کا درجہ چھین لیا گیا کیوں کہ مسلم وزیر اعلی ہوا کرتا تھااور یہ حکومت کسی مسلمانوں کو دیکھنا نہیں چاہتی۔ ایسی ریاست تھی جس کی زبان اردو ہے، اب رہے گی یا نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مسلمانوں کو این آر سی، ووٹر ویرو فیکشن کے نام سے ڈرایا جارہاہے۔ ساٹھ ستر سال کے گاؤں لوگوں سے پیدائشی سرٹفیکٹ طلب کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت مسلمانوں کو خوف و اہراس میں مبتلا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا ہے، مسلمانوں میں اشتعال دلانے کے لئے آنحضرت ﷺ کے خلاف، ام المومین کے خلاف اور اسلام کے خلاف منظم طور پر گستاخیاں کی جارہی ہیں اور یہاں کی ایجنسیاں، عدالت اور دیگر دایجنسیاں خاموش تماشائی ہیں۔ جب کہ کسی مسلمان پر بیجا الزام بھی لگتا ہے تو عدالت سمیت تمام ایجنسیاں حرکت میں آجاتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہورہا ہے کہ ہم لیڈر شپ سے محروم ہیں۔ فی الحال مسلمانوں کے پاس مسلم لیڈر شپ کو ابھارے بغیر کوئی متبادل نہیں ہے۔ جتنی جلد اس سمت میں سوچیں گے عمل کریں گے، مسلمانوں کے مسائل کا حل اتنا ہی جلدہوگا۔

Comments