سپریم کورٹ نے شاہین باغ معاملے میں سماعت 23مارچ کیلئے ملتوی کو

عابد انورThumb


نئی دہلی، 26 فروری۔سپریم کورٹ نے بدھ کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں مظاہرین کو ہٹائے جانے سے متعلق عرضیوں پر سماعت 23 مارچ تک کے لئے یہ کہتے ہوئے ملتوی کردیا کہ ماحول سماعت کے لئے سازگار نہیں ہے۔اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے فی الحال کوئی حکم دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔عدالت عظمی نے ساتھ ہی دہلی تشدد معاملے کی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی)سے جانچ کرانے سے متعلق بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر کی عرضی خارج کردی۔
جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ا کے ایم جوزف کی بنچ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہورہی ہے اس لئے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔درین اثناء  عدالت عظمی نے اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے سلسلے میں دہلی پولس کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔بنچ نے کہا کہ پبلک سڑک مظاہرے کے لئے نہیں ہے۔  عدالت نے رائے زنی کی کہ ابھی ماحول اس مقدمے کی سماعت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔
سماعت کے ابتدا میں ہی جسٹس کول نے کہا ہے کہ بنچ اس معاملے کے دائرے ’جو شاہین باغ ناکہ بندی کی منظوری کے لئے ہے) کی توسیع کرنے کا ارادہ نہیں کررہی ہے۔ جسٹس کول نے کہا کہ وہ بعد میں اس پر سماعت کریں گے ابھی ماحول سازگار نہیں ہے۔بینچ نے کہا ہے کہ 13 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ یہ بے حد سنگین موضوع ہے۔ ’پبلک سڑک‘ مظاہرے کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔عدالت عظمی نے کہا ہے کہ پولس اپنا کام کرے۔ کبھی کبھی صورت حال ایسی  ہوجاتی ہے کہ ’آؤٹ آٖ ف دی باکس‘ جاکر کام کرنا پڑتا ہے۔“
جسٹس جوزف نے کہا ہے کہ ”جس پل  اشتعال انگیزتنقید کی گئی ہے پولس کو کارروائی کرنی چاہئے تھی، دہلی ہی نہیں، اس معاملے کے لئے کوئی بھی ریاست ہو، پولس کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ یہ پریشانی پولس کی پروفیشنلزم میں کمی کی ہے۔“جسٹس جوز ف نے کہا ہے کہ پولس قانون کے مطابق کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ”ہم نے کئی مرتبہ اس معاملے میں ہدایات جاری کئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں پولس کیسے کام کرتی ہے۔ وہاں پر پولس کسی کے حکم کا انتظار نہیں کرتی ہے۔ جیسے ہی کوئی اشتعال انگیز بیان دیتا ہے۔ پولس اس کی گرفتاری کے لئے کام کرتی ہے۔ چاہے وہ اس کا تعلق ’اے‘ سیاسی پارٹی سے ہو یا ’بی‘۔
سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہاکہ اگر پولس کام کرنا شروع کردے تو عدالت کو اسے روکنے کے لئے دخل دینا ہوگا۔انہوں نے پولس کے کام کاج پر کوئی تنقید نہ کرنے کا سپریم کورٹ سے درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنقید سے پولس بے عزتی محسوس کرے گی۔“
جسٹس جوزف نے کہا کہ ”اس بارے میں، میں کچھ گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں نہیں کروں گا تو اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کروں گا۔“ اس ادارے کے تئیں، اس ملک کے تئیں میری ذمہ داری ہے۔“ پولس کی جانب سیآزادانہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی کمی رہی ہے۔مسٹر مہتہ نے جسٹس سے درخواست کی کہ ”اس ماحول میں، آپ کو اس طرح کی تنقید نہیں کرنی چاہئے، پولس کی حوصلہ شکنی  نہیں کی جانی چاہئے۔“
جسٹس جوزف نے کہا ہے کہ ”مسئلہ پولس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کی کمی ہے، اگر یہ پہلے کیا گیا ہوتا تو یہ صورت حال نہیں پیدا ہوتی۔“بنچ نے یہ بھی کہا ہے کہ پولس کی آزادی یقینی بنانے کے لئے پرکاش سنگھ معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کا نفاذ نہیں کیا گیا ہے۔جسٹس جوزف نے کہا  ہے کہ وہ ”پریشان ہیں کہ 13 لوگوں کی جان چلی  گئی ہے۔“اس درمیان عدالت میں ایک وکیل نے بنچ کو اطلاع دی کہ اب یہ تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔ اب اس معاملے کی سماعت 23 مارچ کو ہوگی۔

Comments