نکسلیوں کا خاتمہ غیر امتیازی نظام انصاف کے قیام سے ہی ممکن تیشہ فکر عابد انو/naxalism indian govt and socity. by abid anwar

نکسلیوں کا خاتمہ غیر امتیازی نظام انصاف کے قیام سے ہی ممکن
تیشہ فکر عابد انور
ہندوستان میں نکسل ازم کاوسیع ہوتا دائرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی سیاست دانوں اور حکمرانوں میں کسی مسئلے کے حل کیلئے عزم کا فقدان ہے۔ حکمراں اور سیاست دانوں نے ہمیشہ مسئلے کوسلجھانے کے بجائے الجھانے میں زیادہ دلچسپی دکھائی ہے۔ ان کی ہر سوچ ذاتی مفادات سے عبارت ، پارٹی کے حق میں فائدہ مند اور ووٹ بینک پر قبضہ کی پالیسی پر مبنی رہی ہے۔ کبھی کسی سیاست داں نے خلوص کے ساتھ کسی نظر انداز شعبہ میں کام نہیں کیا۔ ان کی پالیسی غریب کو مزید غریب ، جاہل اور ان پڑھ رکھنے میں رہی۔ اس طبقہ کو ہمیشہ یہی خوف ستاتا رہا کہ اگر یہ لوگ لکھ پڑھ گئے تو اپنے حقوق جان جائیں گے اور پھر ان کے حق میں نعرہ لگانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ یہی صورت حال مسلمانوں کے ساتھ بھی ہے۔ مسلم سیاست داں اور سیاست کم مولوی حضرات نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی کوئی اسکیم نہیں بنائی اور نہ ہی حکومت سے اس ضمن میں کوئی بات کی پروجیکٹ تو دور کی بات منصوبہ تک حکومت کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی سوچ، حج کمیٹی، اردو اکیڈمی اور مسلم پرسنل تک ہی محدود رہی۔ مسلم سیاست داں اور سیاست داں نما مولوی حضرات کے خزانے میں کوئی کمی نہیںآئی۔ ان کی ترقی کو مسلمانوں کو ترقی تصور کرلیاگیا۔ ہندوستان ہی نہیں دنیا میں آج تک جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں وہ ظلم و جبر کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہیں۔ اس کی جڑ میں سیاسی، سماجی، اقتصادی اور جنسی استحصال رہا ہے۔ زمینداروں نے جس طرح بندھوا مزدوری کے رواج کو عام کیا اور انہیں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا ۔ ان کی خواتین کو اپنے اوپر مباح کرلیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے غیر مساویانہ اقتصادی نظام نے غریب اور کسانوں کو رات دن محنت کرنے کے باوجوود دو وقت کی روٹی سے محروم رکھا۔ اس کے خلاف کئی گروپ اور تحریکیں پیدا ہوئیں۔ ان میں نکسلی تحریک بھی ہے جسے کانو سانیال (پیدائش1932۔وفات 23 مارچ 2010) اور چارو مجمدار نے مغربی بنگال کے دارجلنگ کے علاقہ کرسیانگ میں نکسل باڑی گاؤں سے1967 میں شروع کی تھی۔ کانو سانیا کو بنگال کے وزیر اعلی ایم چندر رائے کو سیاہ پرچم دکھانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ جیل میں ان کی ملاقات چارو مجمدار سے ہوئی تھی۔ جب کانو سانیال جیل سے باہر آئے تو انہوں نے کل وقتی کارکن کے بطور کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت لی۔1964 میں پارٹی ٹوٹنے کے بعد انہوں نے سی پی ایم کے ساتھ رہنا پسند کیا۔ 1967 میں کانو سانیال نے دارجلنگ کے نکسل باڑی میں مسلح تحریک کی قیادت کی۔ وہ 14 سال جیل میں رہے۔ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ مغربی بنگال میں زمین کی تقسیم صحیح طریقے سے ہوئی ۔ اس میں اس تحریک کا اہم رول رہا ہے۔ نکسلیوں کے نیم فوجی دستے پر حملے اور نیم فوجی دستوں کا نکسلیوں پر حملے کے واقعات ہمیشہ اخبارات میں شرخیاں بنتے رہتے ہیں لیکن نکسلی تحریک پر بحث چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں کانگریس کی پریورتن ریلی سے واپس آنے والے کانگریسی لیڈروں پر حملے کی وجہ سے ہے جس میں درجنوں کانگریس کے اعلی رہنما مارے گئے۔
گزشتہ ماہ 25مئی کو سنیچر کے روز ہونے والے حملے میں چھتیس گڑھ کانگریس کے اعلی صف کے رہنما جن میں مہندر کرما، ریاستی صدر نند کمار پٹیل ان کے بیٹے اور دیگر اعلی رہنماشامل ہیں۔ جب کہ سابق مرکزی وزیر وی سی شکلا اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پارٹی کی ریلی سے واپس آ نے والے کانگریسی رہنماؤں پر ماؤنواز باغیوں نے ضلع سکما کے جنگل میں گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں چھتیس گڑھ کے کئی سینئر کانگریس لیڈر مارے گئے ۔اس قافلے کی حفاظت کے لئے ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کوئی خاص انتظام نہیں کیا تھا۔ صرف ذاتی محافظ ہی تھے۔ ایسا کیوں ہوا یہ تو بی جے پی والے ہی بتائیں گے۔ یا اہل سیاست داں بتائیں گے ۔ میرا مقصد اس پر زیادہ روشنی ڈالنے کا بھی نہیں ہے۔ صرف کچھ اسباب ،وجوہات اور قانون کے نفاذ میں برتا جانے والا امتیاز کی طرف توجہ مبذول کراناہے۔ نکسلی تحریک جسے بعض اوقات نکسل ازم بھی کہا جاتا ہے اس وقت شروع ہوئی جب مئی 1969 میں مغربی بنگال کے ایک گاؤں ’’ نکسل باڑی‘‘ کے کسا نوں نے بغاوت کر دی۔ابتدائی طورپر اس کی قیادت 54 سالہ چارو مجمدار )پیدائش 1918 وفات 16جولائی 1972)نے کی اورا ن کا مقصدایک زرعی انقلاب کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ تھا۔مجمدار 1972 میں اپنی گرفتاری کے12 دن بعد پولیس حراست میں ہلاک کردیئے گئے تھے اور اس طرح وہ ماؤنواز کے ہیرو بن گئے۔ باوجود اس کے کہ یہ تحریک دوحصوں میں بٹ گئی یہ اس وقت سے اب تک اپنے ارکان اور اپنی طاقت کے لحاظ سے بڑھتی چلی جارہی ہے، ابتدائی نکسل بغاوت کو تو پولیس نے محض دوماہ میں ہی پولیس اورانٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے کچل دی تھی لیکن ہر شکست کے بعد یہ اور پھولتی پھلتی چلی گئی اور اب تویہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ماؤنوازوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کی ایک بڑی وجہ غربت،محرومی ، ظلم و ستم اور حصول انصاف میں ناکامی ہے۔ دنیا کے غریب لوگوں میں ہندوستان کا حصہ بڑھ کر39 فیصد ہو چکا ہے جبکہ 1985 میں ہندوستان کے اندر دنیا کے کل غریبوں کے صرف 25 فیصد موجود تھے۔عالمی سطح پر خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد اس دوران ایک ارب 47 کروڑ نفوس سے کم ہوکر97 کروڑ رہ گئی ہے۔ان میں سے30 کروڑ 10 لاکھ ہندوستان ہیں(سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ورنہ اس کی تعداد دو گنی ہے) اور یہ1983 کے(غربت کے) عالمی اعدادوشمار سے محض ایک کروڑ 90 لاکھ کم ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب کی جانے والی انسانی ترقی کی رپورٹ میں ہندوستان کو 193 ممالک کی فہرست میں نچلی جانب کے60یا65 ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی یہ خراب کارکردگی اس امر کے باوجود ہے کہ ہندوستان میں دیگر ممالک کے مقابلہ میں معیشت کی رفتار تیز ہے۔ہندوستان کی یہ غربت سیر وسیاحت کیلئے یہاں آنے والے لوگوں پر بھی عیاں ہوتی ہے جو کہ مایوس اور بے حال کنبوں کوفٹ پاتھوں اور جھونپڑ پٹیوں میں گزارہ کرتے دیکھ سکتے ہیں، جو ہندوستانی میڈیا پر کسانوں کی خودکشیوں اور اپنے قرض اتارنے کیلئے اپنی بیویاں اور بچے بیچنے والوں کی خبریں پڑھتے ہیں۔اگرچہ ریکارڈ پر آئے ہوئے ایسے کیسز کی تعداد ہندوستان جیسی بڑی آبادی کے ملک میں بہت زیادہ نہیں ہیں لیکن اس سے مخصوص کمیونٹیز کی مصائب زدہ زندگیوں کاپتہ چلتا ہے۔ہندوستان کے غریب اور بے حیثیت لوگوں پر مشتمل گروہو ں نے مختلف مواقع پر ووٹ کی طاقت سے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے سوائے مسلمان کے۔
نکسل ازم کے قلعہ کو قمع کرنے کے لئے وسیع پیمانے پرپالیسی بنانے کی ضرورت تھی جس کا فقدان نظر آتا ہے۔ حکومت کی ساری توجہ صرف مسلمانوں کو سزا دینے پر مرکوز ہے اس لئے نکسلیوں کے بڑے سے بڑے کو دو چار دن کے بحث مباحثہ کے بعد طاق نسیاں بنادیا جاتا ہے۔ کشمیر میں تو چھ لاکھ سے زائد فوج رکھی جاسکتی ہے، کشمیریوں کے وسائل پر قبضہ کیا جاسکتا ہے لیکن نکسل متاثرہ علاقے میں فوج کی تعیناتی نہیں کی جاسکتی ۔ جیسا کہ اس حملے کے بعد وزیر دفاع اے کے انٹونی کہہ چکے ہیں۔ نکسلی تحریک کو کچلنے کے لئے سلواجوڈوم تحریک شروع کی گئی جس کا الٹا اثر پڑا اور مہندر کرما کے قتل کی وجہ بھی سلواجوڈم تحریک سے ان کی وابستگی قرار دی جارہی ہے۔ سلواجوڈوم کے نام پر جس طرح قبائلیوں کا ہر طرح سے جانی ،مالی اور جنسی استحصال کیاگیا اس کی رپورٹیں ہم اخبارات میں گاہے بگاہے پڑھتے رہتے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار سے زائدقبائلیوں کونکسلی حامی کہہ کر مار ڈالا گیا۔ تقریبا 50۔60 ہزار (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق) سے لے کر 1 لاکھ سے زیادہ قبائلی بھائی اور بہن بچوں سمیت مبینہ سلواجوڈوم پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزاررہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ یہ پناہ گزین کیمپ مستقل نوعیت کے ہو جائیں گے کیونکہ ان میں رہائش پذیر قبائلیوں کے لئے اپنے گھروں کی واپسی کے راستے تقریبا بند ہو چکے ہیں۔ان کے زمین پر کھیتی کرنے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور جانورچھن گئے ہیں۔ان کے گھر مکمل طور پر اجاڑ دئے گئے ہیں اور واپسی پر نکسلی حملوں کا سامنا کرنے کا چیلنج موجود ہوگا۔چھتیس گڑھ، اڑیسہ، جھارکھنڈ وغیرہ علاقوں میں 2004 میں کمپنیوں نے 100 سے زیادہ ایم او یو کئے ۔قبائلیوں کو بندوق دے کر سلواجوڈوم کا شریک بنایا گیا اور جنگل میں بہت بڑی جنگ کھڑی کی گئی ہے۔ 600 گاؤں جلا دیئے گئے۔ تین لاکھ لوگوں کو ان کے گھر سے بھگا دیا گیا۔ جس نے مخالفت کی اس کوماؤنواز کہہ کر مار ڈالا یا جیل میں ڈال دیا۔
نیپال کی سرحد سے ملحق ہندوستانی علاقوں سے لے کر جنوبی ریاست تمل ناڈو تک اپنی جڑیں گہرئی میں پیوست کرلی ہیں اور حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی انتہاپسند انہ کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس میں بڑ ی تعداد میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہورہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالانکہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ماؤنواز یا نکسلی انتہاپسندی کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے بعض سیاسی وجوہات کی بنا پر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہاں مؤقر تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسس میں سینئر ریسرچ فیلو اور نکسلی امور کے ماہر اوم شنکر جھا کے مطابق نکسلی مسئلہ ہندوستان کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اور حکومت کو اس سے نمٹنے کے لئے فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہئے۔ نکسلی دراصل تشدد کے ذریعہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول پر یقین رکھتے ہیں۔ انتطامیہ کی کمزوری کی وجہ سے نکسلیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے جدید گوریلا جنگ میں مہارت حاصل کرلی ہے۔اوم شنکر جھا کہتے ہیں کہ نکسلی مسئلے کی ایک بڑی وجہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات ہے۔ آزادی کے بعد بعض علاقوں میں کافی اقتصادی اور صنعتی ترقی ہوئی لیکن بہت سے علاقوں کو نظرانداز کردیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں ناراضگی بڑھتی گئی اور ماؤنواز انتہاپسندوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ نکسلیوں کا زیادہ اثر ان علاقوں میں ہے جو معدنیاتی دولت سے مالا مال ہیں۔ دراصل بڑی بڑی کمپنیاں معدنیاتی دولت سے خود تو مالا مال ہورہی ہیں لیکن ان علاقوں میں رہنے والے عوام اور بالخصوص قبائلیوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملتا ہے جس سے ان کے اندر ناراضگی اور غصہ بڑھتا جارہا ہے اورنکسلی اسی کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ماؤنواز انتہاپسند جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ انہوں نے ہتھاروں کا بڑا ذخیرہ جمع کررکھا ہے لیکن اوم شنکر جھا کہتے ہیں کہ یہ اب بھی دیسی ہتھیاروں مثلا تیر بھالے وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماؤنوازوں کے پاس جو جدید ہتھیار ہیں وہ دراصل ہندوستانی سیکیورٹی فورسز سے چھینے گئے ہیں۔ماؤنوازوں کے اثر کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے تقریبا 630 اضلاع میں سے 220میں وہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ وہ نیپال سے لے کر ہندوستان کے جنوبی سرحدکیرالہ تک ایک ریڈکوریڈور بناناچاہتے ہیں۔ جس میں بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، مہاراشٹراور تمل ناڈو شامل ہیں تاہم اوم شنکر جھا کا کہنا ہے کہ ریڈکوریڈور کانظریہ حقیقت سے کافی دور ہے۔
وکی لیکس کے جاری کردہ ایک خفیہ امریکی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں نکسل ازم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات آراضی کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں وکی لیکس کی طرف جار کردہ امریکی سفارتی دستاویزات کوہندوستانی اخبار ’دی ہندو‘ نے شائع کیا تھا۔اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کو ان ماؤنواز رہنماؤں پر حملے نہیں کرنے چاہیں جو سیاست میں آچکے ہیں۔امریکہ کاخیال ہے کہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں جاگیردارانہ نظام کی جڑیں اب بھی ہیں اور وہاں غریبوں کا بری طرح استحصال ہوتا ہے۔ہندوستان کی مستقل اقتصادی ترقی کے باوجود غریب دیہی علاقوں میں ماؤنواز تنظیموں اور شہروں میں نکسلیوں سے ہمدردری رکھنے والے پڑھے لکھے لوگوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔امریکی سفارت کار کا خیال ہے کہ ہندوستان کے دوردراز علاقوں میں رہنے والے پسماندہ اور دلت طبقے کے لوگ مایوسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ماؤ نواز ہی انہیں اس مصیبت سے بچا سکتے ہیں۔اس مراسلے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ اس بات کے امکانات کم ہیں کہ ماؤنواز ہندوستانی حکومت کو کوئی چیلنج دے سکتے ہیں اور اسی طرح ہندوستانی پولیس کے طاقت سے انہیں بھی ختم نہیں کر سکتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق آج کی تاریخ میں جھارکھنڈ کے کئی اضلاع میں سے آدھے سے زیادہ نکسلی ایسے ہیں، جن کی عمر 16 سال سے کم ہے۔ کچھ علاقوں میں تو 9۔10 سال کے بچوں نے ہتھیار تھام لئے ہیں۔نکسلی تنظیموں میں چھوٹے بچوں کے شامل ہونے کایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ابتدائی دور میں نکسلی تنظیموں کی طرف سے ان بچوں کا استعمال صرف معلومات کے تبادلے کے لئے کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ نکسلی تنظیموں کی ایک جلسہ یا عوامی عدالت میں ثقافتی پروگرام پیش کرنے کا کام بچے کرتے تھے۔بہار، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں سرگرم نکسلی تنظیم کمیونسٹ پارٹی ماؤنواز کی طرف سے ان دنوں سینکڑوں کی تعداد میں 10 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو ہتھیار چلانے اور بارودی سرنگ بچھانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ جس عمر میں بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونے چاہئے تھے، ان بچوں کے ہاتھوں میں مہلک ہتھیار ہیں۔جھارکھنڈ کے تقریبا ہر ضلع میں نکسلیوں کا ایسا بچہ دستہ ہے، جن میں 18۔20 بچے شامل ہیں۔ کچھ علاقوں میں تو ایسے بچہ نکسلی دستے کی تعداد درجنوں میں ہے۔ان بچوں کا کہنا ہے کہ گھر میں رہتے تو بھوکوں مر جاتے۔ زندہ رہتے بھی تو جانوروں کی طرح. یہاں کم سے کم کھانا تو مل رہا ہے۔ سماج اور حکومت ہم غریبوں کے لئے کیا کر رہی ہے، یہ دیہات میں جا کر کیوں نہیں دیکھتے؟ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے بی جے پی وہیں سب سے زیادہ مضبوط ہے جہاں نکسلی زیادہ ہیں۔ بستر کے 12 ارکان اسمبلی میں سے 11بی جے پی کے ہیں۔ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں بی جے پی کافی مضبوط ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
ڈی۔۶۴، فلیٹ نمبر۔ ۱۰ ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ ۲۵
9810372335

abidanwaruni@gmail.com

Comments