UP Election and Muslim by Abid Anwar


 اسمبلی انتخابات کی بساط اور مسلمانوں کی ذمہ داری
تیشہ فکر عابد انور
یوپی اسمبلی سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی بساط بچھ چکی ہے لیکن یوپی اسمبلی کا انتخاب مسلمانوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے دیگر ریاستوں میں قابل ذکر اثر نہیں ہے ۔ وعدے اور وعید کا موسم سہانہ ہوگیا ہی۔ ہر پارٹی کے پٹارے میں عوام کے لئے کچھ نہ کچھ سبز باغ ضرورہی۔جمہوریت کے پانچ سالہ میلہ میں ہر کھلاڑی کو اپنا جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے اورہر مداری اپنے فنی کمال کا مظاہرہ کرتا ہی۔ جس طرح مداری تماشہ دکھاکر غائب ہوجاتا ہے اسی طرح انتخاب کے بعد پانچ سال تک امیدوار صحفہ ہستی سے غائب ہوجاتے ہیں اور عوام اپنی چھوٹی موٹی پریشانی، پانی، بجلی اور دوسرے مسائل کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔جمہوریت کی یہ جہاں ایک طرف خامی ہے کہ منتخبہ  امیدوار پانچ سال کے لئے راجا بن جاتا ہے وہیں اس کی خوبی ہے کہ پانچ سال کو بعد راجہ سے اسے رنک بناسکتی ہی۔جس طرح دوسری قوم کے لئے یہ آسانی ہے وہیں یہ آسانی مسلمانوں کے لئے بھی دستیاب ہی۔ وہ آسانی سے کسی بھی امیدوار کو ان کی حیثیت دکھا سکتے ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخابات میں بھی ان کے لئے بہت سارے مواقع ہیں۔ یہ انتخاب یہ طے کرے گا 2014 میں اگلی مرکزی حکومت کس کی بنے گی۔ مسلمانوں کے لئے سبھی سیکولر پارٹیوں نے گھڑیالی آنسو بہانا شروع کردیاہی۔ رنگ برنگی اور خوش نما وعدوںکا جال مسلمانوں کی طرف پھینکنا شروع کردیا ہے کہ کس جال میں عوام پھنستے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے ہندوستان میں محدود متبادل ہیں بدترین میں سے بدتر کو منتخب کرنا ہوتا ہی۔ اس میں ذرا سی چوک بھی اسے دہائیوں کے لئے پریشانی میں ڈال سکتی ہی۔ مسلمانوں کو صرف یہی نہیں دیکھنا ہے کہ کون سا امیدوار سیکولر ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ سیکولر جماعت جو مسلمانوں کے ہمنوا ہونے کا دعوی کرتی ہے کہیں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آلہ کار تو نہیں۔اس موقع بہت ساری جماعت میں میدان میں ہوں گی جس کو کسی شاہی امام کی حمایت حاصل ہوگی تو کسی کو کسی اور کی لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس کا وجود بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کے لئے  تونہیں ہی۔بی جے پی اترپردیش اسمبلی الیکشن میں بہت زیادہ وجود نہیں رکھتی ہے اس لئے بی جے پی اعلی کمان پریشان ہے کہ یو پی میں کس طرح بی جے پی کو عدم سے وجود میں لایا جائی۔اس کے لئے انہوں نے وہی پرانے طریقے اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ایسے حلقہ میں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوں گے وہاں کثرت سے مسلم امیدوار کو کھڑا کیا جائے گا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ گجرات قتل عام کا ذمہ دار نریندر مودی نے انتخاب جیتنے کے لئے گزشتہ گجرات اسمبلی انتخابات میں میں کم از کم پچاس (۰۵) مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا اور ان کے سارے اخراجات برداشت کئے تھے اور مسلمان اس سے غافل رہے تھی۔ یوپی میں بھی یہی ہونے والا ہی۔ ایک پارٹی جس کے بڑے بڑے اشتہارات نظر آرہے ہیںاور وہ مسلمانوں کی پارٹی بھی ہے ‘کو کھڑا کرنے میں بی جے پی کا بہت بڑا رول رہا ہی۔بی جے پی اس کے توسط میں یوپی اسمبلی انتخابات میں سارے سیٹوں پر مسلم امیدواروں کو کھڑا کرانے کی کوشش کرے گی جس سے کہ بی جے پی کو اپنی عزت بچانے کا موقع مل جائی۔
اتر پردیش ہندوستان کی سب سے بڑی آبادی (تقریبا 19کروڑ ) والی ریاست ہے ۔ دنیا میں صرف پانچ متحدہ چین ، خود ہندوستان ، دوسرا امریکہ ، انڈونیشیا اور برازیل کی آبادی پردیش کی آبادی سے زیادہ ہی۔اتر پردیش کی تاریخ تقریبا 4000 سال پرانی ہے ۔وید تہذیب کا آغاز ہوا ور اس کی پیدائش بھی یہیں ہوئی۔ 1902 میں نارتھ ویسٹ پروونس کا نام بدل کر یونائٹیڈ پروونس آف آگرہ اینڈ اودھ کردیا گیا۔ عام بول چال کی زبان میں اسے یوپی کہا گیا۔ 1920 میں ریاست کے دارالحکومت کو الہ آباد سے لکھنؤ کر دیا گیا۔ ریاست کی عدالت عالیہ الہ آباد میں رہی۔ البتہ اس کا ایک بینچ لکھنو میں قائم کیا گیا۔ آزادی کے بعد 12 جنوری 1950 کو اس کا نام تبدیل کر کے اتر پردیش کر دیا گیا۔ گووند وبلبھ پنت اس کے پہلے وزیر اعلی بنی۔اکتوبر 1963 میں سوچیتا کرپلانی ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ابتداء سے ہی یہ ریاست کانگریس کی گڑھ تھی لیکن حالات بدل گئے ۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اتر پردیش کی 403 رکنی اسمبلی میں صرف 22 نشستیں ملیں تھیں اور 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں 21 اور بعد کے ضمنی الیکشن میں ایک اور سیٹ کانگریس کی جھولی میں آگئی۔ کل ووٹوں میں کانگریس کی حصہ داری صرف نو فیصد تھی کہہ سکتے ہیں کہ اس نو فیصد میں امیدواروں کا نجی ووٹ زیادہ تھا ۔ اگر نہرو جی کے زمانے کو یاد کریں تو کانگریس کا ووٹ تقریبا 50 فیصد ہوا کرتا تھا۔989 میں جب کانگریس اتر پردیش میں اقتدار سے باہر ہوئی ، اس وقت بھی کانگریس کو 28 فیصد ووٹ ملے تھی۔ان 20 سے 22برسوں میں کانگریس کا تقریبا 20 فیصد ووٹ کم ہوگیا۔ ان میں دلت اور مسلم کمیونٹی کے علاوہ اعلی ذاتیں شامل ہیں۔
مایاوتی کو لوگوں نے بہت ہی امید کے ساتھ بلاشرکت غیرے اقتدار پر بٹھایا تھا کہ وہ نہ صرف ریاست کو ترقی دیں گی بلکہ کمزور، محروم طبقوں، دلتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی مسلسل نا انصافیوں کا مدوا کریں گی لیکن اترپردیش میں جس طرح کے واقعات پیش آئے اور خود مایاوتی نوٹوں کے ہار سے لیکر کئی تنازع میں پھنسیں اس سے ان لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہی۔ اس کے علاوہ جرائم کا گراف جس قدر تیزی سے بڑھا وہ بھی اپنے میں ریکارڈ ہی۔ گرچہ انہوں نے اپنے ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کو پولیس کے حوالے کیا لیکن اس سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کے ممبران اور وزراء پر بدعنوانی سمیت آبروریزی، قتل، دھمکانی، زمین ہڑپنے اور دیگر سنگین الزام لگتے رہے ہیں ۔ مایاوتی امن و قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ان کا جو نعرہ تھا ’’بھے مکت سماج‘‘ وہ کبھی پورا نہیں ہوا۔ خواتین وزیر اعلی ہونے باوجود خواتین کے ساتھ چھیڑ خوانی، قتل، آبروریزی کے واقعات کی وجہ ریاست اترپردیش ہمیشہ سرخیوں میں رہی۔ ان کی ساری توجہ یادگار قائم کرنی، مورتیاں نصب، پارک بنانے ، اپنا اور اپنی پارٹی نشان ہاتھی کا اسٹیچو بنانے تک منعکس رہی۔مایاوتی کا ایک اور مقبول عام نعرہ ’’سروجن ہتائی، سرو جن سکھائی‘‘ صرف یوپی روڈویز بسوں اور بورڈوں پر ہی صرف چسپا ں ہوکر رہ گیا ۔ عملی طور پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کیاگیا۔ مایاوتی نے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران سوشل انجنئرنگ، برہمن، مسلم اور دلتوں کے اتحاد کا نعرہ دے کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ہمیشہ اکیلی بیٹھتی تھیں لیکن گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران اور اقتد ار میں آنے کے بعد بھی ایک طرف ستیش چند مشرا (برہمن) او ر دوسری طرف نسیم صدیقی (مسلم) کے ساتھ نظر آتی تھیں جس کا مقصد یہ تھاان کے دل میں تمام لوگوں کے لئے یکساں احترام ہی۔یہ پہلا موقع ہوگا جب مایاوتی وزیر اعلی رہتے ہوئے اسمبلی انتخابات کا سامنا کریں گی۔اکیلے مکمل اکثریت سے پانچ سال تک حکومت چلانے کے بعد اب ان کے پاس ووٹروں کے سامنے وعدے پورے نہ کر پانے کا کوئی بہانہ نہیں ہے کہ وقت کم ملا یا پھر یہ کہ اتحاد کی حکومت تھی۔ پانچ برسوں میں مسلسل یادگار، مجسمے اور پارک بنانے کے علاوہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس سے ووٹروں کا رجحان مایاوتی کی طرف ہو۔ مایاوتی حکومت بدعنوانی کے لئے بھی خاصی تذکرے میں رہی۔ 
D
سماجی وادی پارٹی کے لئے یو پی کی راہ بھی آسان نہیں ہے گرچہ ایک مسلم لیڈر اعظم خاں کی واپسی ہوگئی ہے لیکن کئی بڑے مسلم لیڈر سماج وادی پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اس کے اچھے مالی منیجر امر سنگھ کا بھی ساتھ نہیں ہی۔ پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کا فائدہ دے کر کانگریس نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی دونوں کا حساب کتاب بگاڑ دیا ہی۔ اس الیکشن میں جہاں کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کا امتحان ہے وہیں ملائم سنگھ یادو بیٹے اور اترپردیش سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش سنگھ یادو ، چودھری اجیت سنگھ کے جینت دچودھری اور راہل گاندھی کے چیچیرے بھائی ورون گاندھی کا بھی امتحان ہی۔ راہل گاندھی گزشتہ کچھ برسوں کے یوپی میں کانگریس کی کھوئے وقار اور وجود کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں اکھلیش سنگھ یوپی کی انتخابی جنگ میں نہ صرف اپنے وجود کو باقی رکھنا چاہتے ہیں کہ بلکہ مایاوتی سے اقتدار بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال بہار کے اسمبلی انتخابات میں تمام کوششوں کے باوجود کانگریس کی کراری شکست کے بعد اتر پردیش کی انتخابی جنگ راہل کے لئے وقار کا سوال بن گئی ہے اور ریاست میں تقریبا 22 سال سے اقتدار سے دور کانگریس کو دوبارہ اقتدار میں واپس لانے کی ذمہ داری ہی۔ادھر ، سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر اکھلیش کے لئے بھی چیلنجز کم نہیں ہیں۔انہوں نے پارٹی کا انتخابی مہم مہم اپنے ہاتھوں میں لیا ہی۔ ریاست میں انتخابات کے اعلان سے بہت پہلے ہی ووٹروں کو آمادہ اور پارٹی کارکنوں کو فعال کرنے کے لیے انہوں نے کرانتی رتھ یاترا شروع کی تھی۔ستمبر میں شروع کی گئی یہ یاتراابھی تک آٹھ دور پورے کر چکی ہی۔انتخابی تاریخ جس قدر نزدیک آتی جائے گی وہ اسی طرح فعال ہوتے جائیں گی۔ حالانکہ بی جے پی نے فروری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے ابھی تک اپنے پتے نہیں کھولے ہیں لیکن پارٹی ذرائع کے مطابق آئندہ اسمبلی انتخابات کے مہم میںراہل گاندھی، اکھلیش سنگھ یادو اور جینت چودھری  مقابلے میں ورون گاندھی کو اتارے گی۔ 
اترپردیش کی سیاسی صورت حال میں بہت تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ۔چھ ماہ پہلے تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ وزیر اعلی مایاوتی کی پارٹی سب سے مضبوط پارٹی ہے ، آج اس میں کمی آگئی ہی۔ اسی کے ساتھ جب انا کی مہم شباب پر تھی تو ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس کا صفایا ہوجائے گا لیکن جب سے بی جے پی نے ریاست کے کھلاڑیوں کو انتخابی میدان میں اتار ا تواسے اپنی اوقات کا اندازہ ہوگیا اور ان کے لیڈروں کے یاترائوں کو جس طرح یوپی کے عوام نے مسترد کیا اس سے اس کے چودہ طبق روشن ہیں۔ آج بی جے پی بالکل حاشیہ پر نظر آرہی ہے ۔ بی جے پی اعلی کمان نے ریاست اترپردیش میں اوما بھارتی کو سرگرم کرکے ہندوتو کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی تھی لیکن بار بار دھوکہ کھانے کے بعد عوام نے اسے مسترد کردیا ہی۔ کلیان سنگھ بھی بجھے ہوئے کارتوس سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ ویسے بھی اب ملک کا نوجوان طبقہ کو تعلیم، ترقی اور روزگار سے مطلب ہے اور یہ اسی صورت حال میں ہوسکتا ہے جب ریاست میں پرامن ماحول ہوگا۔ بی جے پی حکومت والی ریاستوں کا حال سب سے زیادہ خراب ہے وہ صرف میڈیا اور  اخبارات میںاچھی حکمرانی دے رہے ہیں۔ کانگریس اور اجیت سنگھ راشٹریہ لوک دل کے درمیان انتخابی مفاہمت سے جہاں ریاست کی انتخابی تصویر میں تبدیلی آئی ہے وہیں رشید مسعود کی کانگریس کی شمولیت سے کانگریس کو مغربی اترپردیش میں فائدہ ہوگا۔ کانگریس نے اجیت سنگھ کو ساتھ لے کر مغربی اتر پردیش میں کچھ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ مغربی اترپردیش میں اجیت سنگھ کا کچھ اثر ہے جس کا فائدہ دونوں پارٹیوں کو ہوگا۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے مسلمانوں کے لئے ساڑھے فیصد ریزرویشن کوٹہ مختص کرنا یقینا مسلم ووٹوں کا رجحان کانگریس کی طرف ہوگا۔ مایاوتی نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے طویل دور حکومت کے باوجود مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ۔انہوں نے کانگریس حکومت میں ہوئے فسادات اور بابری مسجد انہدام کی یاد دلائی۔مسلمانوں کو دئے گئے ساڑھے فیصد ریزرویشن کو اونٹ کے منہہ میں زیر ا بھی کہا۔ محترمہ مایاوتی نے آئین میں ترمیم کرکے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے مطالبہ بھی کیا اور یہ وعدہ کیا کہ اگر ترمیم کرنے کی ضرورت پڑی تو ہماری پارٹی کی حمایت کرے گی۔ مایاوتی نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کو فروغ دیتی ہی۔ یہ الگ بات ہے کہ خود مایاوتی  بھی تین بار بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنا چکی ہیں اور گجرات میں نریندر مودی کے حق میں انتخابی مہم چلانے گجرات بھی جا چکی ہیں۔
  اب مسلمانوں کے پاس کانگریس ، بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی میں سے کسی کے بھی ساتھ جانے کا آپشن موجود ہی۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہاں بھی انتخابی لڑائی دلچسپ ہو گئی ہی۔ مایاوتی سے ناراض ووٹر کے سامنے بھی اب سماج وادی پارٹی کا مضبوط متبادل کے علاوہ کانگریس اور آر ایل ڈی کااتحاد بھی دستیاب ہی۔ مایاوتی نے گرچہ بہت سارے بدعنوان وزراء ، ممبران اسمبلی اور اور عہدیدار کو  پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے لیکن اس سے بہت زیاہ فائدہ انہیں نہیں پہونچے گامسلمانوں کو تعلق سے بھی مایاوتی کی جھولی میں کوئی کارنامہ نہیں ہے جہاں تک مسلمانوں کو ریزوریشن کو تعلق سے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے آندھرا پردیش کے طرز پر مسلمانوں کو ریزرویشن کیوں نہیں دیا سارا معاملہ مرکز پر کیوں ڈال دیا اس کے علاوہ مایاوتی کے دامن سرواشتی عصمت دری کیس بھی ہے جہاں ایک مسلم گائوں کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی تھی اور ہر عمر کی مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی‘ دست درازی اور زیادتی کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق اتر پردیش کے 12 کروڑ ووٹروں میں تقریبا 25 فیصد (چار کروڑ سے زیادہ) 18 سے 30 سال کے درمیان کے نوجوان ہیں۔ ان میں سے تقریبا 53 لاکھ ووٹر جو کہ 18 سال کے ہیں ، پہلی بار ووٹنگ کریں گی۔ اس لحاظ سے تمام سیاسی جماعتوں کے لئے نوجوان ووٹروں کو لبھانا سب سے اہم ہوگا۔وہی پارٹی بازی مارے جو نوجوانوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ وہ ان کے مستقبل کی ضمانت دیتی ہی۔ یو پی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۸۱ فیصد ہے سیکڑوں ایسے حلقے ہیں جہاں وہ فیصلہ کن پوزیشن رکھتے ہیں۔ مسلکی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر اس الیکشن میں بے مثالی اتحاد و اتفاق کا مظاہر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ارباب سیاست نے مسلمانوں کے ووٹ کو بے اثر کرنے کے لئے مختلف حربے اپنا رہے ہیں یہاں تک مسلکی اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اس چال کو بے اثر کرنا ضروری ہی۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کو ووٹ ڈالنا اپنے اوپر فرض کرلینا چاہئے تاکہ پانچ سال تک کف افسوس ملنے سے بہتر ہے ایک دن اپنی رائے دہی کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کو بھی یہ انتخاب طے کرے گا۔ یہ انتخاب یہ بھی طے کرے گا کہ مسلمان کس حد تک بیدار ہوئے ہیں اور ان میں کتنا سیاسی شعور پیدا ہو ا ہی۔ یا وہ صرف سیاسی پارٹی کا تختہ مشق یا سیاسی مہرہ بنتے رہیں گی۔
D- 64/10 Abul Fazal Enclave Jamia Nangar, New Delhi- 110025 INDIA
9810372335
abidanwaruni@gmail.co

Comments