ہندوستان میں میڈیا ہے کہاں



 عابد انور 

مودی کے دور حکومت یوں تو تمام اداروں نے اپنا وقار کھودیا ہے، خواہ وہ آئینی ادارے ہوں یا عدلیہ، مقننہ ہو یا انتظامیہ،الیکشن کمیشن ہو یا سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ہو یا کوئی بھی خفیہ محکمہ یا حکومت کا کوئی ادارہ، آج کسی پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ تقریباً تمام اداروں نے اپنا وقار کھو دیا ہے، اپنی معتبریت گنوادی ہے، عوام کا ان اداروں پر بھروسہ اٹھ گیاہے جب کہ بھروسہ کرنے اور اعتبار قائم ہونے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مودی حکومت کے دوران کسی ادارے کا وقارکم ہوا ہے یا مٹی میں مل گیا، یا تحت الثری میں پہنچ گیا یا سب سے زیادہ بدنام ہوا ہے تو وہ میڈیا ہے۔میڈیا اہلکار نینہ صرف گھٹنے ٹیکے بلکہ فرقہ پرست، سنگھ پریوار،کارپوریٹ اور بی جے پی حکومت کے ادنی سے لیکر اعلی افراد تک کے سامنے وہ سجدہ ریز ہوگئے۔ معاملہ یہی تک نہیں رکا بلکہ تلوے چاٹنے کے لئے ہندی اور ہندوستانی میڈیا میں مقابلہ آرائی شروع ہوگئی۔ ان میں مرد صحافی کیا خواتین صحافی کیا سب نے بھی اپنے سارے حربے اپنائے۔میڈیا کا کام عوام کی آواز حکومت تک پہنچانا تھا اس کے برعکس صرف حکومت کی آواز پہنچانے کا ذریعہ بن کر رہ گئے۔ جب کہ صحت مند صحافت سے ایسی صحافت جو انسان کے پورے شخصیت کا نشونما کرے۔ اس کا جسم، اس کا دل، اس کی روح، ایسی صحافت جو بہتر انسانیت کو تخلیق کرنے میں اپنا کردار نمایاں کرے۔ہندوستان  میڈیا کی صنعت دنیا میں سب سے بڑی ہے اور اس وقت یہاں ساڑھے تین سو ٹی وی چینیلز اور پچاس ہزار اخبار کام کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان  ریڈیو نیٹ ورک کے اعتبار سے بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، مگر اسے مکمل طور پر حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ نجی ریڈیو چینیلز کو خبریں اور حالات حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے کی اجازت نہیں۔ اخبارات اورٹی وی چینیلز کو زیادہ تر کثیر الملکی ادارے چلارہے ہیں۔وہ ملک جہاں دنیا میں سب سے زیادہ غریب افراد بستے ہیں، کے اخبارات اور چینیلز غربت کے خاتمے کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ اگر آپ اپنی آبادی کے ستر فیصد حصے کے بارے میں بات نہیں کریں گے تو پھر آپ کس چیز کی عکاسی کریں گے۔ ہماری ستر فیصد آبادی کو وہ خبر کا حصہ ہی نہیں سمجھتے، تاہم اگر کسی حادثے میں دوسو افراد مرجائے تو یہ خبر بن جاتی ہے۔ ان کے پاس زیادہ ہلاکتیں ہی خبر بنانے کی وجہ ہے“۔ یہ ہندی اور ہندوستا نی میڈیا کا معیار ہے۔ کوئی ایسی خبر جوحکومت پر تنقید کے زمرے میں آتی ہو ہندی میڈیا کی زینت نہیں بنتی۔ نوکری چلی جائے، فیکٹریاں بند ہوجائے، آئی ٹی سیکٹر پر تالا لگ جائے، بینک بند ہوجائے، لاکھوں لوگوں کو نوکری داؤ پر لگ جائے یہ سب ہندی میڈیا کے لئے کوئی خبر نہیں ہے۔

قومی پریس ڈے ہے موقع پر نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیانائیڈو نے میڈیا سے قومی مفاد میں آزاد، غیر جانبدار اور متوازن خبر دینے اور سماجی مسائل کے تعلق سے عوام میں بیداری لانے کی غرض سے مہم چلانے کی اپیل کی اور کہا کہ تحریک آزادی کے دوران صحافت مشن اور اس دوران اس نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ ’مشن اب کمیشن ہوگیا ہے‘۔ صحافت قومی مفادات، ملک کے اتحاد و سالمیت اور اقلیتوں کے تحفظ کو دھیان میں رکھ کر آزاد اور ذمہ دارانہ ڈھنگ سے کی جانی چاہیے۔ خبروں کو خبروں کی شکل میں پیش کیا جانا چاہیے؛اس کی تشریح نہیں کی جانی چاہیے۔ جمہوریت میں پریس کو اظہارِ خیال کی آزادی ہے لیکن خبر دینے کے بعد ہی اس کی تشریح کی جانی چاہیے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ صحافت ذمہ داری سے کی جانی چاہئے۔ سیاسی پارٹیاں ذاتی مفاد کے لیے اخبارات شائع کررہے ہیں۔ کارپوریٹ گھرانوں نے اپنی تجارت کی حفاظت کے لیے ٹی وی چینلوں کو قائم کیا جن پر ہر وقت بریکنگ نیوزآتی رہتی ہے۔ عالم یہ ہے کہ ایک چینل دوسرے چینل کے خلا ف نیوز چلاتے ہیں۔ اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر پرکاش جاویڈیکر نے ’فیک نیوز‘ کو ’پَیڈنیوز‘ سے بڑامسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر بحث کی جانی چاہیے اور اس سلسلے میں حکومت کو مشورہ دیا جانا چاہیے۔’فیک نیوز‘ سے ٹی آر پی تیزی سے بڑھتی ہے۔آزاد ی اور ذمہ داری سے صحافت پر پریس کو غوروخوض کرنا چاہیے۔جس حکومت نے تمام سچ بولنے والے میڈیا اہلکار اور میڈیا صنعت کو تباہ کردیا ہو وہ پریس کی آزادی کی بات کررہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی لطیفہ ہوسکتا ہے کیا۔ اترپردیش سمیت جہاں جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہاں صحافیوں کو کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے اور سچ اجاگرکرنے والوں پر ایف آئی آردرج اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ 

صحافیوں پر کئے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں تقریباً61 فیصد صحافیوں کو اپنی خبروں یا اس سے متعلق حقائق کی وجہ سے کبھی نہ کبھی دھمکی یا دیگر طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سروے کے مطابق ملک اور دنیا میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اظہار رائے کی آزادی پر خطرہ بڑھ رہا ہے۔ میڈیا گھرانوں اور اخبارات کے شعبے میں مؤثر ریگولیشن نہیں ہونے کی وجہ سے مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔غیر سرکاری تنظیم دی ویزن فاؤنڈیشن اور ملک کے صحافیوں کی اہم تنظیم نیشنل یونین آف جرنلسٹس (انڈیا) نے صحافیوں کی سلامتی اور میڈیا گروپوں کے لئے سیکورٹی انتظامات پر ایک مطالعہ اور سروے کیاہے جس سے صحافیوں پر حملوں کے علاوہ زیادتی کے واقعات پر غور کیا جاسکے اور وقت رہتے اس مسئلے کا موثر حل تلاش کیا جاسکے۔ملک بھر کے صحافیوں کے درمیان یہ سروے تین نومبر سے 14نومبر کے درمیان کیا گیا۔سروے میں تقریباً 823صحافیوں نے حصہ لیا جس میں 21فیصد خواتین شامل ہیں۔سروے میں 266میڈیا اہلکار پرنٹ میڈیا ’اخبارات‘ میگزین ’263 آن لائن میڈیا اور 98ٹی وی سے وابستہ تھے۔ ملک میں 2019کے دوران چار صحافیوں کا قتل کردیا گیا۔ اس سے پہلے 2018میں ملک میں پانچ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے یا کام کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ سروے میں شامل میڈیا اہلکاروں کا تجزیہ تھا کہ سیاسی حالات اور خیالات میں اختلاف کی وجہ سے صحافیوں کو ذہنی‘ جسمانی اور جذباتی زیادتی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں سال2008سے 2018 کا وقت سب سے خراب رہا۔ صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حملوں کا شکار ہونا پڑا۔سروے میں شامل ہونے والے تقریباً74فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے میڈیا ادارہ میں خبروں کی اشاعت کے لئے سب سے زیادہ اہم  معیار اس کی صداقت ہے۔ تیرہ فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ ادارہ کی ترجیح خصوصی خبروں کی اشاعت ہے۔ تقریباً 33فیصد صحافیوں کا ماننا ہے کہ اکیسویں صدی میں صحافت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اظہار رائے کی آزادی پر بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ جب کہ تقریباً 21فیصد صحافیوں کا ماننا ہے کہ فرضی اور پیڈ نیوز آنے والے وقت کا سب سے بڑا چیلنج بنیں گے۔تقریباً 18فیصد صحافیوں کا کہنا ہے کہ نیوز ویب سائٹ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ سے مین اسٹریم کے اخبار اور میڈیا سے توقعات بڑھ رہے ہیں۔ لوگوں کا خبروں پر بھروسہ کم ہوا ہے۔ یہ صحافت کی معتبریت پر بحران کا دور ہے۔کسی طرح کی دھمکی یا زیادتی کا شکار تقریباً 44 فیصد صحافیوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملے میں انہوں نے اس کی شکایت اپنے میڈیا ادارے کے افسران سے کی جب کہ صرف 12 فیصد صحافیوں نے اس طرح کی دھمکی کی اطلاع پولیس یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کودی۔ سروے میں شامل تقریباً 61 فیصد صحافیوں کو کبھی نہ کبھی حملے یا دھمکی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ  76فیصد صحافیوں کے میڈیا اداروں میں سلامتی سے متعلق نظم نہیں ہے۔یا انہیں اس طرح کی سلامتی پر عمل یا پروٹوکول کے سلسلے میں کوئی علم نہیں ہے۔رپورٹ تیار کرنے او رسروے کرنے والے صحافی امیش سنگھ نے بتایا کہ بڑے شہروں او ربڑے اخبارات کے صحافیوں پر حملے یادھمکی کے واقعات کی خبریں اکثر میڈیا کی سرخیاں نہیں بن پاتی ہیں۔ مین اسٹریم کا میڈیا علاقائی یا غیر انگریزی اخبارات کو نظر انداز کرتا ہے۔ جس سے یہ بحث کا موضوع نہیں بن پاتا ہے۔ یہ بہت خراب صورت حال ہے۔ حکومت کو فوراً ایک موثر ریگولیٹری بنانے اور اقو ام متحدہ کے منصوبہ عمل کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

پیرس نشیں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز صحافیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر فعال ایک تنظیم کے مطابق ہندوستان میں تنازعات کے شکار علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے آج جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان میں، جو دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، بدامنی اور مسلح تنازعات کے شکار علاقوں میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو اس طرح کی سیکوررٹی سہولیات حاصل نہیں ہیں، جو ہندوستان ہی کے بڑے شہروں میں مصروف عمل صحافیوں کو حاصل ہوتی ہیں۔روس میں سن دوہزار سے اب تک اٹھارہ صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے اس تنظیم نے اپنے بیان میں ہندوستانی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے دو مختلف ہندوستانی ریاستوں میں ان دو صحافیوں کی گرفتاری کی وضاحت کرے، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے پیشہ ورانہ طور پر کمیونسٹ باغیوں سے ملاقات کی تھی۔اس تنظیم نے اپنے بیان میں ایسے افراد کے خلاف انتقامی طور پر الزامات عائد کیے جانے کی بھی مذمت کی، جو ایک صحافی کے خلاف مقدمے میں گواہ ہیں۔ اس واقعے میں ایک ایسے ہندوستانی صحافی کو اپنے خلاف کارروائی کا سامنا ہے جو جنوبی ریاست کرناٹک میں پولیس کی طرف سے نا انصافیوں اور اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق تفصیلات منظر عام پر لایا تھا۔ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری حکام کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف صحافیوں کو تحفظ کی ضمانت دے۔اس کی ایک مثال دیتے ہوئے چھتیس گڑھ کے وسطی علاقے میں ایک ایسی ملیشیا کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جسے پولیس کی حمایت حاصل ہے اور جو صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو دھمکی آمیز خط بھیجتی رہتی ہے۔ اس ملیشیا کی طرف سے تین صحافیوں کو گزشتہ ماہ ایسے خط بھیجے گئے تھے، جن میں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ یا تو اس ریاست سے چلے جائیں یا پھر ’کتے کی موت‘ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں ہندی روزنامہ’امراجالا‘ کے نامہ نگار سمیع الدین نیلو بہرحال خوش قسمت تھے کہ پولیس کے ہاتھوں ’انکاونٹر‘ ہونے سے بچ گئے۔سمیع الدین نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ضلع میں پولیس کی زیادتیوں اور سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں سے متعلق کئی خبریں شائع کیں جس کے بعد بعض افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔اس سے انتظامیہ ان سے ناراض ہوگئی اور منہ بند رکھنے یا سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی۔ جب انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ انہیں جھوٹے الزام میں پھنسانے یا جان سے مارنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے اس سلسلے میں ریاست کے اعلی افسران اور حقوق انسانی کمیشن کو ایک درخواست دی۔اس کے ایک ہفتے کے بعد ہی پولیس والوں نے ایک رات ان کو اغوا کر لیا اور ’انکاونٹر‘ میں مارنے کی کوشش کی لیکن جب انہیں یہ پتہ چلا کہ”میں نے اپنی شکایت پہلے ہی اعلٰی حکام اور حقوق انسانی کمیشن میں کردی ہے تو پولیس والوں نے جان سے مارنے کے بجائے جھوٹے الزام میں جیل میں ڈال دیا۔“ بہرحال صحافیوں کی کوششوں کے بدولت انہیں بعد میں جیل سے رہائی نصیب ہوگئی۔ چھتیس گڑھ کے ڈاکٹر راجا رام ترپاٹھی نے بھی ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہوں نے قبائلی علاقے بستر سے جب اپنے چار دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ہفت روزہ بستر ٹائمز شروع کیا اور ایک قبائلی خاتون کی عصمت دری کی رپورٹ شائع کی تو سیاست دانوں سمیت مختلف حلقوں سے اتنا زبردست دباؤ پڑا کہ ان کا ایک ساتھی خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا جب کہ دوسرا ساتھی کہیں روپوش ہوگیا، جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ صحافیوں پر اس طرح کے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے مدنظر میڈیا سے وابستہ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کرے تاکہ ہندوستانمیں آزاد میڈیا کا پرچم بلند رہ سکے۔ انڈین فیڈریشن آف ورکنگ جرنلسٹس کے صدر وکرم راؤ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے شہروں اور قصبات میں اور بالخصوص انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو دوہری مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک طرف انتظامیہ کا دباؤ رہتا ہے تو دوسری طرف انتہاپسند تنظیمیں انہیں دھمکاتی رہتی ہیں۔

ہندوستانی میڈیا پر وقتاً فوقتاً آزمائشی وقت آتا رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک براوقت سال 2017کے اگست کے چوتھے ہفتے میں آیا جب 24 تاریخ کو کانپور میں ایک نجی ہوسٹل کے اندر زور دار دھماکہ ہوا۔ دو افراد کے پرخچے اڑگئے۔ کئی زخمی ہوئے۔ پولیس نے گولہ بارود اور بم بنانے کا دوسرا سامان بڑی مقدار میں برآمد کیا۔ یہ بھی بتایا کہ یہ لوگ شہر میں تشدد اور تخریب کاری کی کوئی بڑی کارروائی کرنے والے تھے۔ اب پورا میڈیا یعنی درجنوں ٹی وی چینل اور ہندی انگریزی کے بیسیوں اخبارات سخت آزمائش میں پڑگئے کہ اس واقعہ کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے۔ کیونکہ واقعہ انتہائی اہم ہونے کے باوجود میڈیا کی دلچسپی کا نہ تھا۔ مشکل یہ تھی کہ اگر اس کی خبر من وعن دی جاتی ہے تو یہ نہ صرف میڈیا کی پسندیدہ اور اختیار کردہ لائن کے خلاف ہوگا بلکہ اس سے حالیہ عرصہ میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ واقعہ اتنا اچانک رونما ہوا اور آس پاس کے لوگوں کے علم میں بھی آگیا کہ ”کسی“ کو اسے فی الفور دبا کر کوئی نئی اور روایتی کہانی گھڑنے کاموقع نہیں ملا۔ ہلاک ہونے والوں کے نام ''راجیو مشرا اور بھوپندر سنگھ'' معلوم ہوگئے تھے۔ ہوسٹل کے مالک کا نام شیوسرن مشرا تھا۔لیکن واقعہ چونکہ اتنا سنسنی خیز تھا اور ملک کے ایک بڑے شہرمیں اور دن کے تین بجے کی روشنی میں پیش آیا تھا کہ اسے نظر انداز کرنابھی چینلوں اور اخباروں کے لئے شرم کی بات تھی۔ میڈیا کے لئے یہ ایک سخت آزمائشی گھڑی تھی۔ بالآخر میڈیا نے اپنی پیشہ ورانہ دیانتداری کو ’جوفی الواقع اپنا وجود نہیں رکھتی‘ بالائے طاق رکھ کر اپنے کاروباری مفاد اور سیاسی جھکاؤ کو ترجیح دی اور خبر کا مکمل بلیک آؤٹ کردیا۔ چینل بالکل خاموش تھے۔ 25اگست کے ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، دی ہندو، دی اسٹیٹس مین اور دوسرے بہت سے بڑے اخباروں میں یہ خبر یکسر تھی ہی نہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے اندرونی صفحہ پر ایک مختصر خبر بے دلی کے ساتھ دے دی تھی۔ پانیئر نے قدرے تفصیل بتائی مگر رنگ آمیزی بھی کی۔ البتہ دینک جاگرن اور آج نے ضروری تفصیل اور تصویر کے ساتھ دی۔ باقی بیشتر اخبارات اس طرح خاموش رہے کہ گویا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ چینلوں اور اخباروں میں سیمی پر پابندی اور اس کے مبینہ کارکنوں کی خطرناک سرگرمیوں کی سنسنی خیز رپورٹنگ کا سلسلہ اچانک تیز ہوگیا۔ 25 اگست کے ”جرنلزم آف کریج“ یعنی انڈین ایکسپریس نے اپنی پہلی بڑی خبر سیمی پر پابندی میں توسیع اور لکھنؤ کے شہباز کی گرفتاری کی بنائی تاکہ کانپور اْبھر نہ سکے۔یہ ہندوستانی اور ہندی میڈیا کا اصل چہرہ ہے۔


Comments