شاہین باغ خواتین نے دہلی فسادزدگان کیلئے پیسے اکٹھا کرکے عالمی یوم خواتین جوش و خروش سے منایا

عابد انور

Thumb

نئی دہلی،  8مارچ (عابد انور) قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ سمیت پورے ملک کے شاہین باغ کی خاتون مظاہرین نے عالمی یوم خواتین جوش و خروش سے منایا 
اوراس موقع پر ملک کے حکمرانوں سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا کیوں کہ اس کی زد میں سب سے زیادہ خواتین ہی آئیں گی۔
شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے اس موقع پر مختلف اسٹال لگائے جس میں کھانے کی چیزوں سمیت دو پٹے، اسکارف اور رومال اور دیگر کپڑے تھے۔ رومال پر ’میں شاہین باغ ہوں‘ لکھا تھا۔ اس موقع ہزاروں کی تعداد میں خواتین موجود تھیں۔ لگائے گئے اسٹالوں پر اشیاء کی فروخت سے جو آمدنی ہوگی اس سے دہلی کے فسادزدگان کی مدد کی جائے گی۔ خواتین سمیت مردوں اور بچوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پچاس روپے کی چیزوں کو دو سو روپے میں خریدا تاکہ زیادہ زیادہ پیسے فسادزدگاہ کے لئے اکٹھے ہوسکیں۔ اس سے قبل شاہین باغ خاتون مظاہرین سے دہلی کے فسادزدگان کے لئے یہاں سے کئی ٹرک اشیاء خوردنی بھیج چکی ہیں۔
اسٹال میں بریانی، دہی بھلے، حلیم سمیت کھانے پینے کی دیگر چیزیں تھیں اور کپڑے کے لئے بہت سارے اسٹال لگائے گئے تھے۔ جس ترنگا، رومال، اسکارف سمیت دیگر چیزیں تھیں۔ شاہین باغ خواتین کا جوش و خروش کے دیکھنے کے لائق تھا۔کیا بچے، کیا بوڑھے، کیا بچیاں، کیا لڑکیاں سب میں عالمی یوم خواتین کے تئیں جوش و خروش تھالیکن اسی کے ساتھ انہیں یہ افسوس بھی تھا احتجاج کرتے ہوئے اتنے دن ہوگئے  لیکن خواتین کا حال جاننے کے لئے حکمراں طبقہ کا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ مسلمانوں یا مسلم خواتین کا احتجاج ہے۔ جب کہ شروع سے ہی شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں ہند، مسلم، سکھ، عیسائی کی شمولیت رہی ہے اور پورے ملک سے تمام مذاہب کے لوگ اس مظاہرے کے ساتھ یکجہتی اور اس کی حمایت کرنے کے لئے یہاں آتے رہے ہیں۔ 

خاتون مظاہرین کو کہیں نہ کہیں یہ احساس ہے کہ شایدحکومت اس لئے ہمیں نظر انداز کر رہی ہے کیوں کہ ہم مسلمان ہیں۔جو لوگ اس مظاہرہ کو مسلمانوں کا یا مسلم خواتین کا سمجھ رہے ہیں انہیں آسام کی صورت حال کاجائزہ لے لینا چاہئے۔کیوں کہ این آر سی کی حتمی فہرست سے جو 19لاکھ لوگ باہر رہ گئے ہیں ان میں سے 70 فیصد خواتین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے نام پر عام طور پر جائدادیں نہیں ہوتیں۔ اس کی وجہ سے خواتین کے نام سے دستاویزات بھی نہیں ہوتے۔ جائداد کے کاغذات اہم دستاویزات ہوتے ہیں۔ اس لئے پورے ملک میں این آر سی سے سب سے زیادہ خواتین ہی متاثر ہوں گی۔ ان میں ہندو بھی ہوں گی، مسلمان بھی ہوں گی، سکھ بھی ہوں گی اور عیسائی بھی۔ 
خاتون مظاہرین نے کہا کہ اس عالمی یوم خواتین کی کیا اہمیت ہے جب خواتین کی بات ہی نہیں سنی جارہی ہے۔ آج خواتین ہر سطح پر پریشان ہیں، جہاں انہیں تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے وہیں امتیازی سلوک اور دیگر بدسلوکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں اس موقع پر امید تھی کہ شاید وزیر اعظم کا دل پسیج جائے اور خواتین کے اس دن کے موقع پر ہمارے درد اورپریشانیو ں کو سمجھیں۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جارہی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو ہم سے پریشانی ہے اورانہوں نے الزام لگایا کہ اس لئے وہ ہمیں بدنام کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ 
دریں اثناء عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کے کئی حصوں میں شاہین باغ خاتو ن مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا اور ان کی ہمت اور حوصلہ کو سلام کیاگیا۔ لندن میں بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر ساؤتھ ایشیا سالیڈرٹی فورم کی امرت ولسن نے شمال مشرقی دہلی کے فساکی مذمت کرتے ہوئے شاہین باغ خاتون مظاہرین کے اظہار یکجتی کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شاہین باغ اور ہندوستان کے دوسرے شاہین کا ذکر کیا اور ’لانگ لائیو شاہین‘کا نعرہ بھی لگایا۔ اسی کے ساتھ موجود ہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اس موقع پر ان کے ساتھ سیکڑوں خواتین تھیں۔ 

اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے یہاں بھی عالمی یوم خواتین کے موقع پر خاص اہتمام کیا گیا۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پرخواتین نے یوم عالمی خواتین منایا۔

راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ یہاں پر عالمی یوم خواتین کے حوالے سے بات کی گئی اور خواتین کو ان کے حق کے تئیں بیدار کیا گیا۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں اور عالمی یوم خواتین پران لوگوں نے خواتین کے حقوق اور ان کے درد کوسمجھنے کی اپیل کی۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ  فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ان جگہوں پر عالمی یوم خواتین کے موقع پر جوش و خروش دیکھا گیا۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے جو اب بند ہے۔ اس کے منتظمین کو پولیس نے دنگا بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا،  بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ان تمام جگہوں پر خواتین نے عالمی یوم خواتین مناتے ہوئے حکمراں طبقہ سے خواتین کی بات سننے کی اپیل کی۔ 

Comments